لوگ حیران ہوکر پوچھتے ہیں کہ حسین رضہ پر اتنی بڑی قیامت ٹوٹ پڑی اور کوفہ کے لوگ کیسے انجان رہ گئے۔
بالکل ایسے جیسے آج پھر حسینیت پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے لیکن اس فاسٹ میڈیا کے دور میں بھی لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اسماعیل ہانیہ کون تھا اور کیا کر رہا تھا۔
It's time to see whether @CMShehbaz offers condolence to the people Palestine after assassination of Ismail Haniyeh or he choose to stay silent to appease his masters.
حماس کے سربراہ اسماعیل "ہ ن ی ہ" تہران میں شہید ہو گئے. عیدالفطر کے ایام میں ان کے تینوں بیٹے اور چار پوتے اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنے اور شہید ہوئے. انکے خاندان کے 70 لوگ اب تک شہید ہو چکے ہیں. آپ جیسے مومنین کی قربانیوں نے کربلا کی روایت قائم رکھی ہوئی ہے. انہی قربانیوں کے سبب جدوجہدِ فلسطین قائم ہے اور ظالم آج بھی لرز رہا ہے.