عالمی حالات کی وجہ سے ابھی پیٹرولیم مصنوعات میں شاید 150 روپے تک اضافہ ہونا ہے۔ عوام یہ اضافہ قبول کر لے گی لیکن حکومت پورے ملک میں درج ذیل یکساں پالیسی لاگو کر دے۔
پہلی:- ججز سے لیکر ہر طرح کے سرکاری ملازم و افسر کیلئے مفت پیٹرول اور بجلی کی سہولت ختم
دوسری:- محلے کی دکانوں بشمول بیکری، میڈیکل سٹورز وغیرہ غروب آفتاب کے بعد اگر کوئی کمرشل دکان یا مرکز کھلا پایا گیا تو 1 ہفتے کیلئے سیل بمعہ جرمانہ
آئندہ ایک برس کیلئے اراکین اسمبلی، سرکاری افسروں، ججز وغیرہ کیلئے ہر طرح کی نئی گاڑیوں کی خریداری بند۔۔۔
آئندہ ایک برس کیلئے تمام صوبوں اور وفاقی کی اشتہاری مہم بشمول سوشل میڈیا اخراجات مکمل بند
ایسی سخت ایمرجنسی ریاست اور حکومت خود پر لاگو کرنے کے بعد پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے جتنی مرضی ٹیکس جیسے مرضی لاگو کرے، عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونگے، ورنہ ابھی تو سوشل میڈیا پر گالیاں پڑ رہی ہیں، آئندہ چند ہفتے بعد گلی محلوں میں بھی حکمران، سرکاری افسران اور ججز نکلنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
2019 میں ایک میٹینگ میں کہا تھا کہ عمران نے مجھے پچاس مرتبہ کہا ہوگا کہ باہر عوام میں جو امیج ہے وہ الگ ہم نے بنایا ہے یعنی دھوکہ دیا ہوا ہے لیکن اصل میں حکومت ہم سے نہیں چل رہی فرڈیا غدار
ویڈیو ڈھونڈاناں اور لگانا میرا کام .
اور ایک سچا پاکستانی ہونے کے نا طے مشہور کرنا آپ کا کام
جو امرنڈو لنگڑا کا یار ہے وہ غدار ہے امرنڈو کی منجی ٹھوک کے رکھو
امرنڈو پاکستان کا غدار ہے
حکومت کے پاس اچھا موقع کہ ریٹارڈ ججوں اور جن جن کو دوہزار مفت یونٹ بجلی ملتی چھ سو لیٹر پیٹرول ملتا سب بند کر دیں سرکاری گاڑیاں بھی بند کر دیں سوائے پولیس پیٹرولنگ وغیرہ کے کوئی سرکاری گاڑی نا ہو
رائے عامہ آپ کے ساتھ عوام پھر مہنگے پیٹرول پر اعتراض نہی کرے گی
🚨🚨بڑی خبر ہر طرف پھیلا دو
یہ جو یورپی یونین میں عمران کے بیٹوں کے ساتھ گیا اور کہا میں عمران کی فیملی ہوں اور پاکستان کا جی ایس ٹی سٹیٹس روکو پاکستان میں کوئی پیسہ نہی جانا چاہیے یہ کوئی عام بندہ نہی یہ ڈاکٹر عثمان خان ہے یہ علیمہ کا دیور ہے یہ علیمہ کے شوہر سہیل خان کا سگا بھائی ہے تصویر میں یہ علیمہ کے شوہر کے ساتھ کھڑا ہے عادل راجہ کو لندن سیٹل کروانے کی ذمہ دارئ عمران نے اسے دی تھی عادل راجہ کا لندن میں پہلا سپانسر بھی یہ تھا اس طرح یہ خاندان مل کر پاکستان کی جڑیں کاٹ رہا ہے
اسے ہر جگہ شئیر کیجئے تاکہ لوگ اصلیت جان سکیں اور سہولت کار بھی شرمندہ ہوں