پاکستان میں ایک اور خاموش تباہی چل رہی ہے…
“خود سے دوائیاں کھانا”
سر درد؟. Panadol کھا لو۔
گلا خراب؟. Antibiotic شروع کر دو۔
پیٹ خراب؟. Flagyl لے لو۔
کمزوری؟. Drip لگوا لو۔
اور اگر دو دن میں فرق نہ پڑے… تو نئی دوا شروع۔
ہم نے دوا کو علاج نہیں…
“روزمرہ استعمال کی چیز” بنا دیا ہے۔
ایک ڈاکٹر کے طور پر سب سے خطرناک جملہ جو میں روز سنتا ہوں وہ یہ ہے:
“ڈاکٹر صاحب، یہ دوائی تو ہم خود ہی لے رہے تھے… لیکن گزارہ نہیں ہوا ، مرض اور خراب ہوگیا۔ "
اور پھر سامنے:
خراب معدہ،
تباہ گردے،
جگر متاثر،
بلڈ پریشر uncontrolled،
یا ایسی انفیکشن جس پر اب عام Antibiotics اثر ہی نہیں کرتیں۔
لوگ سمجھتے ہیں دوا جتنی “طاقتور” ہوگی، اتنا جلدی فائدہ ہوگا۔ حالانکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔
ہر دوا کا ایک صحیح وقت، صحیح dose، اور صحیح وجہ ہوتی ہے۔
غلط دوا کبھی کبھی بیماری سے زیادہ نقصان کرتی ہے۔
پاکستان میں Antibiotic Resistance خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
سادہ انفیکشنز بھی ضدی بنتے جا رہے ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ ہم نے ہر بخار اور ہر کھانسی پر Antibiotic کھانا معمول بنا لیا ہے۔
اور سب سے افسوسناک بات؟
بہت سے لوگ Prescription تک مکمل نہیں کرتے۔
دو دن بعد طبیعت بہتر ہوئی…
دوائی بند۔
پھر وہی جراثیم واپس آتے ہیں… مگر اس بار زیادہ مضبوط ہو کر۔
یاد رکھیں:
ہر بخار پر Antibiotic نہیں چاہی, ہر درد پر Drip نہیں چاہیے،۔ ہر کمزوری Vitamin deficiency نہیں ہوتی اور ہر دوا “محفوظ” نہیں ہوتی
اصل علاج Google، پڑوسی، یا میڈیکل سٹور والا نہیں…
صحیح diagnosis ہوتا ہے۔
پاکستان میں بیماریوں سے پہلے “غلط علاج” ختم کرنا ضروری ہے۔
منقول
🌻قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا "بیت المال کس طرف ہے؟"
میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا ؛ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔
ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں ۔
آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں۔
منقول
In 458 BC, Rome was on the brink of collapse.
An invading army had trapped the Roman consul and his legion in a mountain pass. Panic spread through the city. The Senate did the only thing they could think of:
They sent messengers to find a 60-year-old farmer plowing his field.
His name was Lucius Quinctius Cincinnatus. He had once been a senator, then lost his fortune paying his son's bail. Now he worked his own four-acre plot just to feed his family.
When the Senate's envoys arrived, they found him sweating behind a plow. They asked him to put on his toga so they could deliver an official message.
The message: Rome was making him dictator. Absolute power. Total command of the army. No checks. No oversight. No term limit.
He accepted.
Within 16 days, Cincinnatus had raised an army, marched out, surrounded the enemy, and forced their surrender. The republic was saved.
He had legal authority to rule for six months. He could have stayed. He could have expanded his power. He could have done what every other ruler in human history did when handed unlimited control.
Instead, he resigned on day 16.
He took off the toga, walked back to his farm, and finished plowing the field he'd left half-done.
Twenty years later, when Rome faced another crisis, they called him back. He was 80 years old. He took command, crushed the conspiracy, and resigned again, this time after just 21 days.
He died poor. On his farm.
2,200 years later, when George Washington was offered a kingship after winning the American Revolution, he refused and went home to Mount Vernon. The reason he was hailed as "the American Cincinnatus" is because Europeans literally could not believe a man who had won would willingly give up power.
King George III, on hearing Washington would resign rather than rule, said: "If he does that, he will be the greatest man in the world."
The lesson isn't that Cincinnatus was humble.
The lesson is that for most of human history, the people most qualified to lead were the ones who didn't want to. And the moment a society starts rewarding those who chase power instead of those who flee from it is the moment the republic begins to die.
Cincinnati, Ohio is named after him.
Most people who live there have no idea why.
"What drives Pakistani hospitality is not generosity in the Western sense. It is honour. Hosting someone, even a stranger, even with a cup of tea you cannot really afford, is an act of personal dignity. The host is not doing you a favour. They are doing something for themselves: fulfilling a code that says a guest in your presence is your responsibility, your privilege, and your reputation. "
اپنی مخلوق تک رزق پہنچانے کا خدائی نظام : حضرت سلیمان علیہ السلام اور ایک چیونٹی کا واقعہ ۔۔۔۔۔۔ اللہ کے پیغمبر سلیمان علیہ السلام ایک نہر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی نگاہ ایک چیونٹی پر پڑی جو گیہوں کا ایک دانہ لیے نہر کی طرف جارہی تھی ، حضرت سلیما ن عليه السلام اس کو بہت غور سے دیکھنے لگے ، جب چیونٹی پانی کے قریب پہنچی تواچانک ایک مینڈ ک نے اپنا سر پانی سے نکالا اور اپنا منہ کھولا تو یہ چیونٹی اپنے دانہ کے ساتھ اس کے منہ میں چلی گئی، مینڈک پانی میں داخل ہو گیا اور پانی ہی میں بہت دیر تک رہا ،سلیمان عليه السلام بہت غور سے دیکھتے رہے ،ذرا ہی دیر میں مینڈک پانی سے نکلا اور اپنا منہ کھولا تو چیونٹی باہر نکلی البتہ اس کے ساتھ دانہ نہ تھا۔حضرت سلیمان عليه السلام نے ا س کو بلا کر معلوم کیا کہ ”ماجرہ کیاتھا اور وہ کہاں گئی تھی“ اس نے بتایا کہ اے اللہ کے نبی اس نہر کی تہہ میں ایک بڑا کھوکھلا پتھر ہے ، اس کے اندر بہت سے اندھے کیڑے مکوڑے ہیں، اللہ تعالی نے ان کو وہاں پر پیدا کیا ہے، وہ وہا ں سے روزی تلاش کرنے کے لیے نہیں نکل سکتے‘ اللہ تعالی نے مجھے ان کی روزی کا وکیل بنایا ہے ، میں ان کی روزی کو اٹھا کر لے جاتی ہو ں اور اللہ نے اس مینڈک کو میرے لیے مسخر کیا ہے تاکہ وہ مجھے لے کر جائے ، اس کے منہ میں ہونے کی وجہ سے پانی مجھے نقصان نہیں پہنچاتا، وہ اپنا منہ بند پتھر کے سوراخ کے سامنے کھول دیتا ہے ، میں اس میں داخل ہو جاتی ہوں ، جب میں اس کی روزی اس تک پہنچا کر پتھر کے سوراخ سے اس کے منہ تک آتی ہوں تو مینڈک مجھے منہ سے باہر نکال دیتا ہے ۔حضرت سلیما ن عليه السلام نے کہا: ”کیا تو نے ان کیڑوں کی کسی تسبیح کو سنا “ چیونٹی نے بتایا : ہاں! وہ سب کہتے ہیں :”اے وہ ذات جو مجھے اس گہرے پانی کے اندر بھی نہیں بھولتا“
( قصص_الانبیاء )
How is connectivity transforming the medical industry? Huawei Wi-Fi 7 helps MaxiHealth provide quicker test results so doctors can spend more time treating patients, improving experience and efficiency across the Philippine healthcare system.
#قومی_زبان
27 دسمبر 2007: جب ہزارہ ایکسپریس سرحری میں رکی اور انسانیت نے سفر سنبھال لیا
(میر زمان منگسی، سرحری اور پاکستان ریلوے کے ایک ناقابلِ فراموش دن کی گواہی)
27 دسمبر 2007
پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن
اور پاکستان ریلوے کی تاریخ کا وہ لمحہ
جب ایک ٹرین صرف پٹری پر نہیں رکی
بلکہ انسانیت کے امتحان میں آ کھڑی ہوئی۔
میرا نام مرتضیٰ راجپر ہے۔
اُس وقت میں پاکستان ریلوے ایڈوائزری اینڈ کنسلٹنسی سروس (PRACS) میں
اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمرشل کے عہدے پر تعینات تھا۔
میں سکھر میں سرکاری میٹنگ کے بعد واپسی پر
ہزارہ ایکسپریس کی انسپیکشن کر رہا تھا۔
ٹرین میں بارہ سو سے زائد مسافر سوار تھے—
ہری پور، حویلیاں، ایبٹ آباد، راولپنڈی اور سرگودھا سے تعلق رکھنے والے
خواتین، بچے، بزرگ اور نوجوان۔
انسپیکشن مکمل ہوئی
تو اچانک ہزارہ ایکسپریس
سرحری اسٹیشن پر آ کر رک گئی۔
میں نے ٹرین مینیجر کو ڈرائیور سے وجہ معلوم کرنے بھیجا۔
اسی دوران ٹرین میں رونا شروع ہو گیا۔
خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی:
“پنڈی کے جلسے میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید ہو گئی ہیں۔”
اسٹیشن ماسٹر نے بتایا:
آگے ریلوے لائن بلاک ہے،
عوام ایکسپریس جلا دی گئی ہے،
پورے ملک میں جلاؤ گھیراؤ ہے،
سڑکیں بند ہیں،
ریاست مفلوج ہے۔
ٹرین میں خوف تھا۔
باہر آگ تھی۔
اور اندر بارہ سو زندگیاں تھیں۔
میں لوکل تھا، تعلق پڈیرن سے۔
والد صاحب سے رابطہ کیا۔
انہوں نے سرحری کے معروف زمیندار
میر زمان منگسی کا نمبر دیا۔
میں نے فون کیا۔
انہوں نے صرف ایک جملہ کہا:
“میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔”
وہ آئے۔
ہم نے سرحری کے معززین کو اکٹھا کیا۔
فیصلہ ہوا۔
ایک اسکول خالی کروایا گیا۔
ہزارہ ایکسپریس کے مسافروں کو
ٹرین سے اتار کر
بحفاظت اسکول منتقل کیا گیا۔
پھر وہ منظر سامنے آیا
جو کسی رپورٹ، کسی فائل
یا کسی کمیشن میں درج نہیں۔
سرحری اور آس پاس کے گاؤں کے لوگ
خودبخود نکل آئے۔
کوئی بستر لایا
کوئی چارپائیاں
کوئی رضائیاں
کوئی دودھ
کوئی کھانا
جن کے پاس کم تھا
انہوں نے بھی بانٹا۔
تین دن تک
یہ بارہ سو مسافر
سرحری کے مہمان نہیں
امانت رہے۔
اس دوران
پاکستان ریلوے کے
ڈپٹی ڈی ایس مقصود النبی صاحب،
شمیم شیرازی صاحب
اور میجر رب نواز صاحب (مرحوم)
میرے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔
تیسرے دن
کراچی سے آرمی کی گاڑیاں آئیں،
بسوں کا قافلہ بنا،
اور ہزارہ ایکسپریس کے تمام مسافر
زندہ، محفوظ اور باعزت
کراچی پہنچا دیے گئے۔
ایک بھی جان ضائع نہیں ہوئی۔
آج،
اٹھارہ برس بعد،
میں یہ کالم اس لیے لکھ رہا ہوں کہ
27 دسمبر کو
ہم صرف شہادت کو یاد کرتے ہیں،
مگر انسانیت کو بھول جاتے ہیں۔
جب پورا ملک جل رہا تھا
تب سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر
سرحری نے
ریاست کا کام کیا۔
یہ کالم نہ تعریف ہے
نہ سیاست
یہ ریلوے کے ایک دن کی گواہی ہے
اور انسانی وقار کی یادداشت۔
کیونکہ
ٹرینیں پٹری پر چلتی ہیں،
مگر
قومیں کردار پر چلتی ہیں۔
اور
27 دسمبر 2007 کو
وہ کردار
میں نے
سرحری میں
اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
— مرتضیٰ راجپر
اقبال احمد انڈیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں ان کے والد زمین کے جھگڑے میں ان کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو گئے۔ 1947 کی ہجرت میں وہ اپنے بھائی کے ساتھ بہار سے پیدل لاہور پہنچے۔ ایف سی کالج میں داخلہ لیا، اکنامکس میں ڈگری حاصل کی اور آگے چل کر اسکالرشپ پر امریکا کے کیلی فورنیا کالج جا پہنچے۔ وہاں سیاست اور مڈل ایسٹ ہسٹری ان کے علمی سفر کا مرکز بن گئی۔ ابنِ خلدون کے فکر نے ان کی سوچ کو ایسا جکڑا کہ وہ مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ کی تاریخ کے مطالعے کے لیے وقف ہو گئے۔
وقت کے ساتھ وہ نوم چومسکی، ایڈورڈ سعید اور ارون دتی رائے جیسے عالمی دانشوروں کے دوست بن گئے۔ بڑے بڑے علمی دماغوں کی صحبت نے ان کی شخصیت کو نکھارا اور وہ جنگ کے مخالف اور عالمی معاشی نظام کے ناقد بن گئے۔ دنیا بھر میں لوگ ٹکٹ خرید کر ان کے لیکچر سنتے اور بڑے مفکرین ان سے متاثر ہوتے۔
1997 میں میاں نواز شریف نے انہیں پاکستان بلایا۔ ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی سربراہی دی اور اسلام آباد میں ایک خودمختار یونیورسٹی کے لیے زمین الاٹ کی۔ اقبال احمد اس کا نام ’’خلدونیہ‘‘ رکھنا چاہتے تھے۔ حکومت نے چارٹر بھی جاری کیا مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا ہوئے اور 11 مئی 1999 کو آپریشن کے دوران ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر امریکا میں ہیمپشائر کالج میں تعزیتی تقریب ہوئی، جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان، نوم چومسکی، ایڈورڈ سعید اور ارون دتی رائے جیسے لوگ شریک ہوئے۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ وہ کس درجے کے عالمی دانشور تھے۔
پاکستان واپسی کے بعد ایک دن ان سے پوچھا گیا کہ آپ امریکا یا یورپ کی کون سی چیز کو سب سے زیادہ مس کرتے ہیں؟ وہ مسکرا کر بولے: ’’اچھی گفتگو۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں تعلیم یافتہ لوگوں کے پاس گفتگو کے بے شمار موضوعات ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے، ریڑھی والے ہوں یا دفتر کے افسر، سب کی گفتگو صرف سیاست اور سکینڈلز تک محدود ہے۔ کوئی بھی موضوع چند منٹوں میں سیاست کی نذر ہو جاتا ہے، جبکہ دنیا میں لوگ شخصیات پر نہیں بلکہ آئیڈیاز پر بات کرتے ہیں۔
اقبال احمد نے یہ بات 25 برس پہلے کہی تھی۔ آج جب ہر طرف سوشل میڈیا کا شور ہے تو ان کے الفاظ اور بھی سچ لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں روزانہ لاکھوں الفاظ بولے جاتے ہیں لیکن ان کا نچوڑ صرف سیاست، سکینڈلز اور غیر مصدقہ باتیں نکلتی ہیں۔ اچھی گفتگو کے لیے مطالعہ، تحقیق اور نئے آئیڈیاز ضروری ہیں۔ جب پڑھنے اور سوچنے کی عادت ہی ختم ہو جائے تو مکالمہ بھی بانجھ ہو جاتا ہے۔