🚨🚨Horrible, shameful and criminal, enough to dismantle brutal murderer force CCD 🚨🚨
In an application submitted to District Police Officer Kashif Zulfiqar on Tuesday, Adeel alleged that City Police Sub-Inspector Ahsan Abdullah misrepresented the incident in the first information report (FIR) by mentioning that robbers opened fire.
In the application, a copy of which is available with Dawn, Adeel alleged that when he was brought to District Headquarters Hospital in critical condition, Constable Ateeque was present at the police service counter and misbehaved with him.
The father recalled that when City Police Station personnel arrived at the hospital, Constable Ateeque and sub-inspector Abdullah listened to the entire incident and then allegedly pressured him to sign and put his thumbprint on a blank paper, saying he would only then be allowed to see a doctor.
He added that he and his son were injured, his daughter had already passed away, and his wife was in severe distress due to shock.
Adeel further stated that after getting him to sign and mark his thumbprint on the blank paper, he and his son were taken for a medical examination.
https://t.co/Z2QHrBW2of
باجوڑ:دوسری بار سر رسولی کی سرجری کروانے والے غریب محنت کش ڈینٹر حبیب الرحمن جن کو ادویات کے لیے 77 ہزار رقم کی اشد ضرورت تھی
الحمدللہ! آپ تمام بہن بھائیوں کے تعاون سے موصول ہونے والی 80 ہزار روپے کی امدادی رقم حبیب الرحمن کے بھائی کے حوالے کر دی گئی
اللہ تعالیٰ تمام تعاون کرنے والوں کو اپنی بارگاہ میں بہترین اجرِ عظیم عطا فرمائے، ان کے رزق میں برکت دے، اور حبیب الرحمن کو جلد مکمل صحت یاب فرمائے۔ آمین۔
@Ayakakaraa@Nadeyah_N@Rajkumari_KK@lachiilawang@dunmess@enigmaakh
اسرائیلی دہشتگرد نسل پرست غیر قانونی ریاست کے قید میں فلسطینی مسیحا ڈاکٹر حسان ابوصفیہ کی زندگی شدید خطرے میں یے ،ڈاکٹر حسان ابوصفیہ کیلئے آواز اٹھائیے۔اپنا کردار ادا کیجئے۔
پاکستان رائٹس موومنٹ
ان صاحب کی مدد کریں۔۔!!
انکا نام اصغر ہے والد کا نام حنیف ہے۔
اصغر کا کہنا ہے کہ سال 1995میں پانچ سال کی عمر میں مجھے کوئی شخص فیصل آباد سے اٹھاکر ٹرین میں حیدرآباد لایا تھا۔ حیدرآباد میں وہ شخص چھوڑ کر گیا تھا،پولیس نے مجھے ریسکیو کرکے ایک شیلٹر میں جمع کرادیا تھا۔
سال 1995 سے آج تک میں نے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو نہیں دیکھا۔ جب بڑا ہوا شیلٹر سے نکلا تو دوہزار دس میں فیصل آباد جاکر بہت ڈھونڈا تھا لیکن مجھے گھر نہیں ملا۔
اب میری شادی ہوچکی ہے تین بچے ہیں۔میرے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دادا دادی اور چاچو پھوپھی والے کہاں ہیں تو میں سوائے رونے کے انکو کوئی جواب دے نہیں سکتا۔
میرا نام گھر میں اصغر تھا پیار سے اصغری بلاتے تھے۔ والد کا نام حنیف تھا جو مستری کا کام کرتے تھے۔
والدہ کا نام رضیہ ہے۔ بڑے بھائی کا نام اکبر ہے چھوٹے بھائی کا نام اشرف ہے، اشرف معذو�� تھا۔
ایک ہی بہن تھی جسکا نام ثوبیہ تھا۔
مجھے بس اتنا یاد ہے ہم فیصل آباد سے تھے۔ شہر ہم سے فاصلے پر تھا ہم گاؤں میں رہتے تھے۔
خدارا مجھے اپنوں سے ملانے میں مدد کریں۔
آپ��ا ایک شئیر بہت سارے رشتوں کو جوڑ سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبرپر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 July 2026
#waliullahmaroof #Faisalabad #PakistanZindabad
ایک نااہلی، ایک ناکامی، ایک بے حسی جس پر کوئی بھی کہیں بھی بات نہیں کر رہا ۔ گرمی بڑھی تو بجلی پنڈی اسلام آباد جیسے شہروں میں بھی گھنٹوں غائب رہنے لگی، کہنے کو لوڈ شیڈنگ کا کوئی شیڈیول نہیں آمدید گیا کہ برہم قائم رہے اب تو بجلی کا کوئی مسئلہ ہی نہیں، حقیقت مگر یہ ہے کہ دو تین سال سے ہر روز آئیسکو شام کو سوشل میڈیا پر پیغام جاری کر دیتا ہے کل مینٹیننس کے نام پر شہر کے فلاں فلاں علاقوں میں اتنے گھنٹے بجلی بند رہے گی اور غور سے پڑھیں تو وہ آدھا شہر بن رہا ہوتا ہے، یعنی آدھے شہر میں کم از کم آدھا گھنٹہ بجلی بند، یہ اگر مینٹیننس ہوتی تو آج کئی سال گزرنے کے بعد یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا اور آج شدید گرمی میں کم از کم بجلی غائب نہ ہوتی ، تو کیا یہ لوڈ منیجمنٹ یا لوڈ شیڈنگ ہی ہے جو مرمتی کام کے نام پر روز ہو رہی ہے؟ اب آئیں گیس کی طرف، چند سال پہلے صرف سردیوں میں چند گھنٹے پریشر کم ہوتا تھا، آج گرمیوں میں بھی چوبیس گھنٹوں میں صرف گھنٹہ دو گھنٹے گیس گھریلو صارفین کو میسر ہے، اگر بجلی اور گیس دونوں ہی شہریوں کو دینے کیلئے موجود نہیں تو وہ کون سے اندھیرے تھے جو موجودہ حکمران 2013والے دور میں ہی ختم کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں؟ گزشتہ 13میں سے نو سال موجودہ حکمران جماعت ہی اقتدار میں رہی، اب چار س��ل سے براجمان ہے، سوال یہ ہے کہ سوال تک بھی کیوں نہیں ہو رہا ؟
"ٹیوشن سینٹر سے قبرستان تک " (احتیاط کرنا ممی ڈیڈی نہی بلکہ ممی اور ڈیڈی ہونے کا اصل تقاضہ ہے )
ہمارے معاشرے میں حفظ ماتقدم کو اور احتیاط کرنے کو بزدلی اور "ممی ڈیڈی" ہونا سمجھا جاتا ہے - مجھے یاد ہے جب میں پہلی دفعہ امریکا سے واپس پاکستان آیا تو کار میں اگلی سیٹ پر جب بیٹھتے ہویے کار سیٹ لگاتا تھا تو باقی لوگ مذاق اڑاتے تھے کہ ممی ڈیڈی - ہمارے ہاں ڈرائیور کار سیٹ لگانے کی بجاے ایک کنڈا اس سیٹ میں پھنسا دیتا ہے کہ کار "ٹو ٹوں" نہ کرے - شیر خوار بچوں کو گود میں لیکر موٹرسائیکل پر خواتین بیٹھتی ہیں جس میں اس بچے کے موٹر سائیکل سے گرنے کا سب سے زیادہ چانس ہوتا ہے - کہیں کوئی تعمیر ہورہی ہو تو وہاں کوئی بیریئر نہی لگا ہوتا - جس عمارت میں تعمیر ہورہی ہوتی اسی عمارت میں لوگوں کی آمدو رفت بھی جاری ہوتی ہے - گھروں کا لینٹر ڈل رہا ہو تو وہاں بریانی پکا��ی جاتی ہے جس کو کھانے کیلئے سارا محلہ اسی لینٹر والی چھت کے نیچے چاول لینے جمع ہوا ہوتا ہے - کوئی اگر سمجھا دے کہ یہ خطرناک ہے تو اس کا یہ کہ کر مذاق اڑایا جاتا ہے کہ آپ تو بلکل ایڈونچرس نہی ہیں - زندگی موت تو الله کے ہاتھ میں ہے - وہ بیچارہ اس بات پر چپ کر جاتا ہے اور پھر ٹوٹے ہویے دل کے ساتھ قلم سے اس وقت بولتا ہے جب ایک گھر کی چھت جس پر راج مزدور اینٹیں لگا رہے ہوتے ہیں اور اسی کے نیچے اس قوم کا مستقبل چھوٹے چھوٹے بچے ٹیوشن پڑھ رہے ہوتے ہیں اور پھر وہ چھت گر جاتی ہے اور کتنے گھروں کا چراغ گل کر جاتی ہے -
آج لاہور میں ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا - کاہنہ میں ایک گھر کی چھت اس وقت گر گئی جب اس کے نیچے دو درجن سے زیادہ بچے بیٹھے ٹیوشن پڑھ رہے تھے - جس وقت بچے گھر میں پڑھ رہے تھے اسی وقت اسی کمرے کی چھت پر مزدور مٹی بھرائی کا کام کر رہے تھے اور اینٹیں لگا رہے تھے اور مزدوروں اور اینٹو�� کا وزن چھت برداشت نہ کرسکی اور دھڑام گر گئی - نتیجہ یہ نکلا کہ چودہ بچے موت کی گود میں جا سویے -اس میں سے تین بچے ایسے تھے جو ایک ہی کوکھ کے تھے -
اس کو حادثہ کہنا غلط اور غفلت اور کوتاہی کہنا زیادہ مناسب ہوگا -
کیا ہوجاتا کہ اگر اس کمرے میں بچوں کو اس لئے نہ بٹھایا جاتا کہ اوپر کام ہو رہا تھا -
کیا ہوجاتا کہ اس وقت راج مزدور کام کرنا محفوظ نہ سمجھتے کہ بچے بیٹھے ہیں -
کیا ہوجاتا کہ ہمارے ہاں ایسے قوانین بن جاتے کہ تعمیر کی جگہ پر بچوں کا داخلہ ممنوع ہے -
زیر تعمیر عمارت پر سرخ ربن لگا کر کارڈن کردیا جاتا تو کیا یہ زندگیاں بچ نہی سکتی تھیں ؟
چلیں پاکستان سے باہر اس دنیا میں چلتے ہیں جہاں زندگیوں کی اہمیت ہے -
جب پاکستان میں لوگ اگلی سیٹ پر بیٹھ کر سیٹ بیلٹ میں کنڈا لگا رہے ہوتے ہیں تو امریکا میں کار سیٹ نہ لگانے پر ڈھائی سو ڈالرکا جرمانہ ہو رہا ہوتا ہے - جس کی وجہ سے کوئی کار سیٹ لگاے بغیر کار چلانے کا یا آگے بیٹھنے کا سوچتا بھی نہی ہے -
جب لاہور یا کراچی میں ایک تین چار سال کا بچہ موٹر سائکل کی ٹ��نکی پر بیٹھا ہوتا ہے اور پیچھے ایک نو ماہ کا بچہ کوئی خاتون گود میں لیکر بیٹھی ہوتی ہے جہاں اس کی ذمے داری میں صرف وہ بچہ سنبھالنا نہی بلکہ بہت بڑا دوپٹہ سنبھالنا بھی ہوتا ہے اور اس دوپٹے کے پھنسنے اور بچے کے گرنے کا ایک جیسا چانس ہوتا ہے ' تب مغرب میں کسی بچے کو موٹر سائکل تو بہت دور کی بات کار کی اگلی سیٹ پر بھی بٹھانے کا کوئی سوچ بھی نہی سکتا کیوں کہ اس پر اس کا لائسینس کینسل کردیا جاتا ہے - پچھلی سیٹ پر بھی بچہ جب بیٹھا ہوتا ہے تو اس کو کار سیٹ میں بیلٹ لگا کر بٹھایا جاتا ہے کیونکہ ریسرچ کے مطابق اگلی سیٹ پر بچے کو نقصان کا زیادہ چانس ہوتا ہے - میں جانتا ہوں کہ یہاں پڑھنے والا معاشی حالات کا ذکر کریگا کہ پاکستان میں غربت ہے تو موٹرسائیکل ہی سواری رہ جاتی ہے تو میں اس پر یہ سوال کرونگا کہ کیا گاڑیوں والی فیملیاں بچے موٹرسائیکل پر نہی بٹھاتی ؟ گاڑیوں میں بچے اگلی سیٹ پر یا کھڑکی سے باہر منہ نکال کر نہیں بیٹھے ہوتے ؟
جب پاکستان میں کوئی گنے سے لدی ہوئی ٹرالی سڑک پر جارہی ہوتی جس پر اتنا گنا لدا ہوتا ہے کہ اس کے وزن سے ٹرالی نظر بھی نہی آرہی ہوتی اور اس کے پیچھے بچے گنا لینے کیلئے بھاگ رہے ہوتے ہیں تب امریکا میں کسی بھی اوور لوڈ وہیکل کے پیچھے ایک چھوٹی گاڑی چلتی ہے جو سرخ لائٹ آن کرتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ "اوور سائز وہیکل " اور اس وہیکل کی تیسری لین ہوتی ہے اور اس چھوٹی گاڑی کا مقصد بس اس وہیکل کے پیچھے رہنا ہوتا ہے -
جب پاکستان میں سکول کے بچے بسوں پر لٹک کر سکول جارہے ہوتے ہیں ' بسوں کی چھتوں اور رکشوں کے دروازوں پر جھول رہے ہوتے ہیں ' تب امریکا میں پیلے رنگ کی سکول بس میں بچے سکول جاتے ہیں جس کو رکتا ہوا دیکھ کر سڑک کے دونو طرف کی ٹریفک رک جاتی ہے تاکہ بچے اس میں سے نکل کر سڑک کراس کریں تو ہر طرف کی ٹریفک مکمل جام ہو اور تب تک رکی رہے جب تک سکول بس اپنی لائٹ گرین نہی کردیتی اور سٹاپ کا سگنل آف نہی کردیتی -
ہمارے باورچی خانوں میں جب کوئی عورت بچہ گود میں اٹھاے دودھ اور چاے ابال رہی ہوتی ہیں اور بچہ اگر جھلس جائے تو اس کو قسمت اور اس عورت کی مجبوری سمجھا جاتا ہے لیکن مغرب میں ایسی کسی حرکت کے دوران اگر بچہ جھلس جائے تو اس کو چائلڈ ابیوز سمجھ کر کاروائی کی جاتی ہے اور اگر چائلڈ نیگلکٹ ثابت ہوجاے تو بچہ فوسٹر بھی کرلیا جاتا ہے -
ہمارے ہاں جب شیر خوار بچہ مامتا ��ی محبت میں ماں باپ کے ساتھ ایک بیڈ پر سورہا ہوتا ہے تو امریکا میں اس پر پابندی ہے - بچہ جھولے میں سلایا جاتا ہے کہ بچہ ماں باپ کے کروٹ لینے پر ان کے وزن کے نیچے نا آجاے -
ہمارے ہاں بڑی عید پر جب بیل آدھی کٹی گردن کے ساتھ سڑکوں پر بھاگ رہے ہوتے ہیں ' اور لوگ اور گاڑیاں ان کے نیچے آرہے ہوتے ہیں ' قصائی سڑکوں پر گھسیٹے جارہے ہوتے ہیں ' اور باقی معاشرہ ان کی وڈیوز پر فنی میوزک لگا کر ٹک ٹاک پر لگا رہا ہوتا ہے ' تب امریکا میں آبادی سے دور ایک چار دیواری والے فارم پر قربانی کرنے کی اجازت ہوتی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جاسکے -
جب ہمارے ہاں کسی احمد پور شرقیہ میں پیٹرول کے لیک ہوتے ٹینکر سے لوگ پیٹرول بوتولؤن میں بھر رہے ہوتے ہیں اور پھر آگ لگنے سے درجنوں لوگ مر جاتے ہیں ' تب امریکا اور یورپ میں پٹرول کے ٹینکر کے کسی ایسے حادثے کے فورا بعد وہاں پولیس پہنچ کر اس علاقے کو کارڈن آف کردیتی ہے اور فائر بریگیڈ آگ لگنے سے پہلے ہی احتیاطا پہنچ جاتے ہیں -
جب ہمارے ہاں کسی کاہنہ لاہور میں بچے کسی چھت کے نیچے پڑھ رہے ہوتے ہیں جب اسی چھت پر راج مزدور اینٹیں پھینک رہے ہوتے ہیں اور مٹی بھرائی کر رہے ہوتے ہیں ' تب امریکا میں ایسی عمارت میں بچے تو دور بڑوں کا بھی داخلہ ممنوع ہوتا ہے اور اگر ایسا کوئی حادثہ ہوجاے تو اس عمارت کے مالک کے خلاف ایسا کیس ڈالا جاتا ہے کہ وہ ساری عمراس سے آزاد نہی ہوسکتا -
بس کہنا یہ تھا کہ یہ جو ہوا یہ نہی ہونا چاہیے تھا -
بس کہنا اتنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنی زندگیوں میں تھوڑی سی احتیاط اور پری کاشن کرلیں تو بہت بڑےنقصانات اور حادثات سے بچ سکتے ہیں - ہماری حکومتیں بھی حادثوں کے بعد نوٹس لینے اور پ��بندیاں لگانے کی بجاے اگر پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کرالیں تو ہم یہ دن نہ دیکھیں - ہمارے بچے اتنے معمولی نہیں ہیں کہ کسی رکشے سے گر کر ہلاک ہوجائیں یا کسی اینٹ کے نیچے آکر مر جائیں اور ٹیوشن سینیٹر سے قبر تک پہنچ جائیں - ان معصوم کلیوں کو سنبھال سبھال کر رکھیں اور جان لیں کہ احتیاط کرنا "ممی ڈیڈی" ہونا نہی ہوتا بلکہ "ممی اور ڈیڈی " ہونے کا اصل تقاضہ ہوتا ہے کہ اپنی اولاد کی حفاظت کیلئے ہر ممکن احتیاط کریں - میں اس قلم کے ذریے اس سانحہ پر بس اسی طرح احتجاج اور تعزیت کر سکتا تھا - 😭
حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گیے ....
قلم کی جسارت وقاص نواز
-------------------------------------------------------
@noshigilani @MoeedNj
لاہور سے یہ مفلوک الحال بزرگ جو سکیورٹی گارڈ کی ملازمت کرتے تھے لیکن اب گردے اور جگر فیل ہو جانے باعث بستر پر ہیں ۔ دل صرف بیس فیصد کام کر رہا ہے نقاہت و کمزوری سے اب چل بھی نہیں سکتے ہیں ۔ ڈائیلاسز مفت ہو رہے لیکن ایک ماہ کی ادویات و انجیکشن لیے 30 ہزار درکار ہیں ہم سب مل کر تعاون کر دیں تو بزرگ جو شدید تکلیف میں مبتلا ہیں ڈھیروں دعائیں دیں گے ۔
ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ یہ مریض انتہائی تکلیف دہ حالت سے گزر رہا ہے۔
انہیں دن میں کئی بار جھٹکے آ��ے ہیں، اور ان کے معصوم بچے اپنے والد کی یہ حالت دیکھ کر بے بسی اور لاچاری میں زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں
اگر صوبائی حکومت ان کی زندگی بچانے کے لیے کوئی قدم اٹھانا چاہتی ہے تو یہی مناسب وقت ہے۔
خدانخواستہ اگر دیر ہوگئی تو پھر علاج نہیں، صرف کفن کی ضرورت رہ جائے گی۔
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری توجہ اور تعاون کی درخواست ہے۔
@YarMKNiazi @SohailAfridiISF
لاہور شاہدرہ سے ایک بیوہ خاتون جو کہ پرائیویٹ کلینک میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی ہیں تین یتیم بچیوں کی تعلیم و تربیت کر رہی ہیں ،
اس وقت شدید بیمار ہیں پریشان کن گھریلو حالات کی وجہ سے ایک مہینے کے راشن کے لیے مدد کی درخواست کی ہے ۔ 8 ہزار درکار ہیں
وسعت رکھنے والے دوست احباب نیکی کے اس کام میں صدقات و عطیات سے تعاون کیجیئے
🚨🚨#BREAKING: French newspaper claims recently sentenced lifetime imprisonment @MahrangBaloch_ nominated for the Nobel peace prize for the consecutive 2nd year. https://t.co/PbbZE3YGYd
Margalla Hills of Taxila being chipped away bit by bit by stone crushers, destroying the natural ecosystem of the area. Where is the Environmental Protection Agency? Who is permitting this?
ڈائیلسس کے غریب مریضوں کو سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے، پہلے تو بیڈ ہی کسی کا کنفرم نہیں ہوتا، ناغے کرنا اس کام میں وارا نہیں کھاتا، پرائیویٹ کرانا پڑتا، پھر آئے دن چھوٹی موٹی سرجریز، نت نئی میڈیسنز چاہئیے ہوتی ہیں
تین مستحق کڈنی فیلئیر مریضوں کو 21 ہزار مدد پہنچائی گئی