عمران خان سے ایک ملاقات نہ کروانے کیلئے
خیبرپختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کا مطلب نہایت خطرناک ہے
مذاکرات بھی اس لئے stuck ہوئے تھے کہ ملاقات نہیں ہونے دے رہے تھے۔
خان کی زندگی اور صحت کی مصدقہ اطلاع ضروری ہے
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جنرل رانیاں۔۔۔
بالآخر؛ خیبرپختونخوا پر بھی قبضہ کرلیا
45 لاکھ کشمیریوں اور 70 لاکھ بلوچوں کو مزاحمت کار بنانے کے بعد۔۔۔
اسلام کی فوج اب ساڑھے 4 کروڑ پختونوں سے پنجہ آزمائی کرنے جارہی ہے۔۔۔!!!
آج ہی کرکٹ کی دنیا پر راج کرنے والے لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم نے اپنے ملے ہوئے ایوارڈز سجا کر آج ایک ویڈیو بنائی ہے، اور ویڈیو کے آخر میں وہ کہتے ہیں کہ.
“ایک عظیم انسان، نیلسن منڈیلا کے ساتھ۔
میرے گرو میرے کپتان عمران خان۔
وہ نہ ہوتے، تو ہم بھی نہ ہوتے۔ “
🚨🚨بات یہ ہے کہ پنجاب کو بند کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ چنکہ آپ کے سر پر جب تک ہاتھ رہے گا آپ نے تو ویسے بھی وزیراعلیٰ رہنا ہے آپ کو کون سا عوام نے ووٹ دے کر وزیراعلیٰ بنایا ہے؟ نہ آپ عوام کے ووٹوں سے آئی ہیں نا آیندہ کبھی بھی اسکتی ہے💯✌️👍
یہ اصل حقیقت ہے جو بیرسٹر گوہر نے گورنر راج لگنے کے بعد بتائی ہے۔ دہشتگردی والا بیانیہ اس حکومت نے عمران خان کی قید تنہائی کو پس پشت ڈالنے کے لئے بنایا۔ اور پی ٹی آئی ٹریپ میں آ گئی ۔ اصل ایجنڈا ملاقات نہ ہونے دینے کا تھا، دئشتگردی تو مسئلہ تھی ہی نہیں
راوی روڈ تھانہ کے پولیس اہلکار بچوں کو لے کر ظفروال پہنچ گۓ ساری رات بچوں کو شادی ہال میں بند رکھا بھوکا پیاسا رکھا اور مبینہ طور پر کرنٹ لگاتے رہے بچوں کے جسم پر نشان دیکھ سکتے ہیں
جاوید ہاشمی صاحب نواز شریف اور ان کے خاندان کا ماضی اور حال بیان کر رہے ہیں کہ یہ شروع سے کیسے گیدڑ رہے ہیں اور آج تک ہیں۔
جبکہ عمران خان کیسا نر کا بچہ ہے۔ کیسا دلیر انسان ہے ماشاءﷲ کہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کر کے ضمیر نہیں بیچا۔
اے طائر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی۔۔
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
یاد رکھنا پاکستانی جرنل اگر مفادات پر بات آئی تو پاکستانی پر بھی گولی چلا دے گا، پاکستانی جرنل کے سامنے حب الوطنی اور پاکستان کوئی معنی نہیں رکھتا یہ ڈالر کے لیے اپنی ماں بھی بیچ دیتا ہے
تارک فاتح
“This script has played out so many times before: one military dictator unwilling to let go. My generation is witnessing this for the second time, and our parents’ generation, for the fifth time by now.”
Hussain Nadim
#Pakistan#Democracy@HNadim87
🚨 سابق امریکی میرین انٹیلیجنس آفیسر، اقوام متحدہ کے سابق اسلحہ انسپیکٹر اور معروف تجزیہ کار Scott Ritter ہلا دینے والا تجزیہ کر رہا ہے
*🟥🔴محمد بن سلمان کا زوال ناگزیر ہے اور وہ ختم ہو چکے ہیں۔ اگر وہ خوش قسمت رہے تو ریاض سے آخری سونے کی تہہ والی بوئنگ 747 پر سوار ہو کر لندن یا کسی ایسی محفوظ پناہ گاہ یا پھر امریکہ جا سکیں گے جو انہوں نے اپنے لیے بنا رکھی ہے۔ اگر وہ خوش قسمت نہ ہوئے تو تلوار کے وار سے ان کا سر ان کے کندھوں سے جدا کر دیا جائے گا اور کوئی "اللہ اکبر" کا نعرہ لگا رہا ہوگا۔ بہرحال، یہ آلِ سعود کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے 2014 میں صعدہ کے خلاف ایک فوری فوجی فتح حاصل کرکے اپنی عسکری قابلیت منوانے کی جو سٹریٹجک غلطی کی تھی، وہ اب بارہ سالہ ڈراؤنے خواب میں بدل چکی ہے۔ اب علی خامنہ ای کی تعزیت کے دوران تنازع کو وسعت دینے، صنعا کے ائیرپورٹ پر حملہ کرنے اور کسی قسم کی فضائی ناکہ بندی مسلط کرنے کے اپنے احمقانہ فیصلے کی وجہ سے انصار اللہ نے جوابی کارروائی کی ہے۔ وہ اب جسمانی طور پر سعودی عرب کو تباہ کرنے کے عمل میں مصروف ہیں اور سعودی عرب کو بچانے کے لیے اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔*
@ImranRiazKhan اقرار نے فرمائش کی ہوگی کے مجھے بھی سہیل آفریدی بننا ہے تو بھائی لوگوں نے اپنا مہمان بنا لیا سارے ٹاؤٹس اب اقرار الحسن کی پروموشن میں لگ جائیں گے۔ عدالت میں پیشی کے وقت لائیٹ کیمرہ ایکشن دیکھنے لائق ہو گا۔
وہ کہتے ہیں ناں کہ ایک تصویر ایک ھزار الفاظ کے مضمون برابر ہوتی ہے۔ A picture is worth a thousand words
وزیر اعظم کا عہدہ تو پہلے ہی بے وقعت ہو چکا مگر اب صدرِ ممککت اور ایوان صدر کے عہدے کی اوقات یہ ہو گئی ہے کہ ایک شخص آستینیں چڑھا کر صدرِ مملکت اور سپریم کمانڈر آف آرمڈ فورسز کو اُسکے دستخطوں کی جگہ دکھا رہا ہے۔ ایوان صدر اور صدرِ مملکت کے آس پاس لوگوں کا کوئی ڈریس کوڈ یا یا ڈیکورم نہیں۔ کیا ہمارے وزیر داخلہ کسی دوسرے ملک کے سربراہ کے پاس ایسے آستینیں چڑھا کر جا سکتے ہیں؟ ویڈیو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے دستخط نہ ہونے کی صورت میں قانون کا دایاں لمبا ہاتھ حرکت میں آئے گا۔ شاید اسی لیئے مرکزی دھارے والے میڈیا کو وہ ویڈیو چلانے سے روکا بھی گیا تھا۔ اُس ویڈیو اور اس تصویر میں یہ لگ رہا تھا کہ زرداری صاحب کو ایڈوائس شھباز شریف نہیں محسن نقوی دے رہے ہیں۔ معلوم نہیں نقوی صاحب وزیر اعظم سے کون کون سی فائلوں پر ایسے ہی آستینیں چڑھا کر اور پاس کھڑے ہو کر دستخط کراتے ہونگے ؟
مگر ایسا تب ہوتا ہے جب آصف زرداری جیسا سیاستدان خود کو صدرِ مملکت سے زیادہ پیپلز پارٹی کا چیئرمین سمجھتا ہے۔ کچھ دن پہلے وزیر داخلہ صاحب نے ن لیگ کے صدر شھباز شریف کی موجودگی میں بھی منتخب نمائندوں کی دفتروں میں عدم دستیابی کے بارے لیکچر دیا تھا جس پر وزیر اعظم شھباز شریف نے تالیاں بھی بجائی تھی۔
اس ملک میں جب بھی کوئی کرائسس آیا ہے اس میں سکیپ گوٹ یعنی قربانی کا بکرا ہمیشہ سیاسی جماعت کو بننا پڑا ہے - تھوڑی دیر کیلئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ کی پی کے صوبے میں دہشت گردی اس نہج کو پہنچ چکی ہے کہ اب سیاسی حکومت ہٹانا ناگزیر ہے تو سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس وجہ سے اس حکومت کو ہٹانا ضروری ہے جو براہ راست دہشت گردوں سے نمٹ بھی نہیں رہی تو پھر اس ناکامی کا بھار ان لوگوں پر بھی پڑنا چاہیے جو براہ راست اس صوبے میں فوجی آپریشنز اور آئ بی او آپریشنز (IBO- Intelligence based operations) سر انجام دے رہے ہیں - اگر ناکامی کی وجہ سے چیف منسٹر ہٹایا جاسکتا ہے اور صوبے کی ایک عوامی منتخب شدہ حکومت کو بس ایک جنبش قلم سے یوں بر طرف کیا جاسکتا ہے تو پھر اسی صوبے کے کور کمانڈر پشاور پر اس ناکامی کی ذمے داری کیوں نہیں عائد ہوتی اور اس وجہ سے وہاں تبدیلی کیوں نہیں ہوتی جو براہ راست ان آپریشنز کے ذمے دار اور کرتا دھرتا ہیں ؟
یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہر غلیظ اور قبیح فعل کو مصلحت اور وقت کی ضرورت قرار دے کر اس کو نافذ کرنے والی یہی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں جو پہلے 11 اکتوبر کو یہ کالک خود اپنے منہ پر ملتی ہیں اور پھر 12 اکتوبر کو اسی کالک لگے منہ سے کسی مشرف کے لگاےگیے مارشل لا کے خلاف یوم سیاہ مناتی ہیں - اس یوم سیاہ کی سیاہی ان کے اپنے کالک زدہ منہ کی وجہ سے اور بھی سیاہ لگ رہی ہوتی ہے - اس موقع پر یوسف رضا گیلانی کے بیٹے قاسم گیلانی نے ٹویٹ کی کہ اسلام میں جیسے طلاق قبیح فعل ہے پر ضرورت پڑنے پر یہ حلال اور آخری آپشن بھی ہے ویسے ہی یہ ایمرجنسی اور گورنر راج بھی آخری آپشن ہے - اس حساب سے تو 5 جولائی 1977 کا آپریشن فیئر پلے بھی طلاق کی طرح ضیاء الحق کا آخری آپشن تھا ' تو تب یہ طلاق یافتہ لوگ کیوں سینہ پیٹتے تھے ؟
اس طلاق کو آج جایز اور ایک مصلحت کہنے والے یہ مجبور اور بے بس سیاستدان کل کو حلالہ کرنے کیلئے برسر التجا نظر آئینگے جب یہ طلاق ان کے سر پر تھوپی جائیگی - آج کے دن صوبہ خبر پختونخواہ میں لوگوں کو مٹھائی بانٹتا دکھاتا میڈیا 12 اکتوبر 1999 کو بھی یونہی لاہور اسلام آباد میں مٹھائی دکھاتا تھا اور ان کی یہ لاچارگی اور یہ منافقت آج بھی یو ٹیوب پر دیکھی جاسکتی ہے کہ تب بھی یہ کس طرح گوبر کو "گجریلا " اور "بلغم " کو ،مقیت شہد " لکھتے اور دکھاتے تھے - لیکن اس جھوٹ کے دکھاوے سے گوبر گجریلا نہی بن سکتا - ان کو جب خود بھی کہا جائے کہ اگر یہ گجریلا ہی ہے تو اس کو چکھو تو ان کو ابک آجاتا ہے ' متلی ہونے لگتی ہے - بغیر اگر مگر کے یہ ایک اور سیاہ دن ہے - یہ ایک کالا دن ہے - پاکستان کا واحد صوبہ جہاں پانچ کروڑ لوگوں نے دو تہائی اکثریت سے ایک عوامی حکومت منتخب کی تھی یہ اس عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے -یہ اس صوبے کی توہین ہے - یہ پانچ کروڑ لوگوں کے کلکٹیو وزڈم (collective wisdom) کی توہین ہے جس کے بہت دور رس اثرات مرتب ہونگے - نفرت کی یہ خلیج اس قدر چوڑی ہوگی کہ اس کو بھرنے کیلئے انہی سیاسی جماعتوں کو اس میں گر کر اس کو پاٹنا پڑیگا اور یہ بات تاریخ کے پنوں سے بہت دفعہ ثابت ہوچکی ہے -
قلم کی جسارت وقاص نواز
---------------------------------------------------
@MoeedNj@SabeeKazmi786@ImranRiazKhan