مولانا فضل الرحمٰن جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔
جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا۔ صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔
جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے۔ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔
آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔
خیبر پختون خواہ میں میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں تحریک انصاف خود ہے۔
مورخ وزیراعظم کو سلام پیش کرتا ہے جنہوں نے قرآنی آیات سے آغاز کیا اور حرمین شریفین کو ریڈلائن قرار دیا اور کشمیریوں کی آزادی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور غزہ میں جاری نسل کشی پر بھرپور آواز بلند کی اور یہ کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کی سب سے بہترین لفاظی ہے
🇵🇰ہمیشہ زندہ باد
آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کہہ رہی سب پاکستانیو کو بتا دو کہ ہم نے حکومت سے کہا کہ امیر پر ٹیکس لگائیں غریب کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں
جبکہ ہماری حکمران اشرافیہ اس سے الٹ کرتی یہ الیٹ کو نواز رہی اور غریب کی کھال اتار رہی ہے
آئی ایم ایف نے سچ بتا دیا
بابر اعظم، ایک بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اللہ اگر عزت اور شہرت دیتا ہے تو وہ واپس لے بھی سکتا ہے۔ آج تم نے کسی غریب کا فون پھینکا ہے، کل کو اللہ تمہیں ٹیم سے بھی نکال سکتا ہے۔ یہ جو گردن میں سریا ہے، لگتا ہے اب اسے نکالنے کا وقت آ گیا ہے۔ معافی مانگو!
کیا شرجیل میمن لال قلعہ فتح کر کے آئے تھے کہ اُن کی گاڑی کے لیے بھی ریڈ کارپٹ بچھایا گیا؟ شرجیل میمن کا بیٹا راول میمن لندن میں سکیورٹی گارڈز کے ساتھ گھومتا ہے جہاں عرب حکمران بھی بغیر سکیورٹی کے چلتے ہیں اور یہاں شرجیل میمن کی گاڑی کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا جاتا ہے جہاں ابھی چند دن پہلے ایک ڈاکٹر اور اُس کی فیملی نے بھوک کی وجہ سے خودکشی کر لی تھی۔۔۔۔ افسوس، صد افسوس۔
“اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں یہ منظر بھی یاد رکھا جائے گا۔
کہ پاکستان کے وزیرِ دفاع جناب خواجہ محمد آصف صاحب فلسطین کے پرچم کو اپنے کندھوں پر رکھ کر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بیٹھے ہیں۔ یہ فلسطین کے حق میں پاکستان کے مؤقف اور یکجہتی کی ایک نمایاں تصویر ھے۔ 🇵🇰🇵🇸”
پاکستان سپیڈ کو کوئ جوڑ نہیں ہے۔۔۔
باڈی لینگویج کی بات کرنے والوں کو اصل تکلیف یہ ہے کہ ان کے گھڑی چور کو کسی نے منہ نہیں لگایا جوتے کی نوک پر رکھا ۔۔۔
ٹرمپ نےخود سے متعلق تقریر کا کلپ اپنی ٹائم لائن پر شئیر کردیا، سعودی عرب سےوہ کلپ شئیر ہو رہاجہاں وزیراعظم شہبازشریف نے حرمین شریفین کو مسلمانوں کی ریڈلائن کہا اور فلسطین میں غزہ سےمتعلق گفتگو کا کلپ شئیر کیاجا رہاہے۔
ہمارے وزیراعظم نےخوب کانٹینٹ دیاہے۔
غلام مصطفی کھر پی پی کا لیڈر تھا اس نے دھمکی دی تھی کہ انڈیا کے ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان آوں گا آج تحریک انصاف کا سوشل میڈیا انڈیا سفارتکار کی تقریر پاکستان کے خلاف شئیر کر رہے ہیں
پی ٹی آئئ کو بطور جماعت بین نا کرنے والے بھی پاکستان سے غداری ہی کر رہے ہیں یہ سہولت کاری ہے
بلال غوری کے خلاف فوج کے اندرونی معاملات ٹرانسفر پوسٹنگ بارے فیک نیوز ڈس انفارمیشن پھیلانے پر کاروائی ہوئی لیکن پاک بھارت جنگ دوران صدیق جان جمیل فاروقی ثمینہ سٹرابری حسنین رفیق جیسے کرداروں نے کھل کر پاکستان مخالف بیانیہ بنایا لیکن ریاست ستی پئی ہے
اگر معین علی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کا رِسٹ بینڈ پہن کر میچ نہیں کھیل سکتے تو اسکائی اسپورٹس کرکٹ کے دوران عمران خان کے بچوں کا سیاسی انٹرویو کیسے نشر کر سکتا ہے؟ پھر فلسطینی بچوں پر پروگرام کیوں نہیں؟ سلمان بٹ، اس دوٹوک مؤقف پر تمہارے پچھلے سارے گناہ معاف!
Twitteratis your love is overwhelming 🤍
I’m sure you follow all my verified social media accounts✨👸🏻💫
✅ https://t.co/wWZdwn5SeV
✅ https://t.co/juh5dckyKP
✅ https://t.co/tXO5QqCxlN
✅ https://t.co/CK0HQBKDWQ
✅ https://t.co/lr2qbYYzQS
Website: https://t.co/oSusOCQsEh
اس پر آج عدالت میں آن ریکارڈ علیمہ باجی نے کہا کہ دو کروڑ جرمانہ جمع کروانے کے بعد کمشن نے مجھے کلئیر کر دیا تھا
یاد رہے اس وقت ان کے سگے بھائی عمران کی حکومت تھی
گزشتہ رات گئے ایک اوورسیز پاکستانی کی کال وصول پائی جس میں انہوں نے بتایا کہ 21 سال اٹلی دیار غیر میں گزارنے محنت مزدوری کرنے کے بعد آبائی گاؤں میں زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تاکہ اس پر کاروبار کرکے بقیہ زندگی پاکستان میں گزارنے کا بلان تھا 13 ایکٹر اراضی کی رجسٹری قبضہ انتقال مکمل ہوا اور اس بار چاول کی فضل کاشت کی اور گزشتہ رات ساتھ والے گاؤں کے ایک چوہدری نے میری دھان کی فضل پر ٹریکٹر چلا کر قبضہ کرلیا اور اب آپ میری فریاد وزیراعلی پنجاب مریم نواز تک پہنچائیں حالات واقعات سننے کے بعد ذیشان ملک کو کال گھمائی لیکن فون چُکنے سے رہ گئے کیونکہ پاکستان میں قریبا سحری کا وقت تھا جس پر انہیں وقوعہ کی مکمل تفصیل اور اس اورسیز کا نمبر بھجوایا اور آج سویرے جب ہٹی کا شٹر چُکیا تو اسی اوورسیز کی کال پر کال چڑھی ہوئی تھی جس نے بتلایا کہ آج صبح متعلقہ تھانہ نے ملزمان کو گرفتار کرنے اور پرچہ درج کرنے کے بعد متعلقہ ٹریکٹر بھی قبضہ میں لے لیا ہے جس پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف اور انکی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے مجھے انصاف دلوایا
ذیشان پائن جیوندے ہسدے وسدے رہو آپکی بروقت چالاکی اور ہوشیاری باعث ایک اوورسیز کو انتہائی سپیڈ سے انصاف کی فراہمی مکمل ہوئی
شکرا
اویس لغاری کے مطابق بجلی کی قیمت سستی کرنے سے تو آئی ایم ایف روک دیتا ہے
مگر یہ جو روز روز ججوں اور الیٹ کلاس کی اربوں کی مراعات حکومت بڑھاتی کیا اس میں آئی ایم ایف کا کمشن ہے کہ یہاں چپ رہتا ہے ؟
ایران جنگ سے قبل تیل کی عالمی قیمت 76 ڈالر تھی۔ معاہدہ ہونے کے اعلان کیساتھ ہی اب تک یہ عالمی قیمت کم ہو کر 75 ڈالر پر آ چکی ہے۔ محترم وزیراعظم صاحب، "خاطر خواہ کمی" وہی ہو گی کہ پٹرول کی ملکی قیمت وہی کی جائے جو جنگ سے قبل تھی۔ دس بیس پچاس روپے وغیرہ کی کمی سے حکوت عوام کو نہ ٹرخائے اور اپنے ریونیو کے خسارے کو غریب عوام کی جیب سے مزید پورا نہ کرے۔
آج تیل کی عالمی قیمت 74 ڈالر تک گر چکی ہے ہے جنگ کے شروعات والی قیمت ہے یاد رہے جنگ شروع ہوتے وقت فی لیٹر 260روپے لیٹر تھا اس وقت پیٹرول 370روپے لیٹر ہے
کم از کم سو روپے کمی اگر نا کی گئی تو حکومت عوام کو مفت میں لوٹ رہی ہے