کشمیر میں قتل عام :
وہ فوجی درندے اور بھیڑیے جنہوں نے پچھلے سال اسلام آباد اور مریدکے میں سینکڑوں لوگوں کا قتل عام کیا، گزشتہ رات (7/8 جون 2026) احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر وحشیانہ حملہ کردیا، جس نے عاصم منیر کو پاکستان کے معصوم شہریوں کا خبیث اور پاگل قاتل ثابت کر دیا ہے-
اس ایک واقعے نے پاکستان کے کشمیر پر 70 سالہ دعوے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اب صرف آزادی کی جدوجہد ہی شروع ہو گی -
اس پاکستانی جنتا کو اجتماعی قتل کرنے پر کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا ۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں کشمیر کے بارے میں کہا جاتا تھا: اگر فردوس بر روی زمین است، ہمین است و ہمین است و ہمین است، جس کا مطلب ہے: "اگر زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے۔"عاصم منیر نے اسے ایک زندہ جہنم بنا دیا ہے جو بالآخر خود اسے اور اس کی جنتا کو جلا کر راکھ کر دے گا۔
واقعے کی دو مختصر جھلکیاں۔
کشمیر، راولاکوٹ میں کرفیو :
غیور کشمیری عوام نے پنجاب پولیس اور جرنیلوں کی بندوقوں کے خلاف اپنا دفاع شروع کر دیا ہے - پولیس والوں کا کہنا ہے چار سپاہی ہلاک اور درجنوں زخمی ہیں - یہ جرنیل اسی لڑائی کی تیاری کرکے اسلح لیکر آئے تھے کے زور زبردستی سے عوام کو دبا لیں گے - ابھی اطلاعات آ رہی ہیں مگر سلام ہے کشمیری جوانوں کو جواپنے حق کے لئے جان کی بازی لگا کر لڑ رہے ہیں - کتنے کشمیری مارے گئے کوئی نہیں بتا رہا -
اب کرفیو لگا کر ایک ایک کو چن چن کر مارا جائے گا - کشمیری دنیا بھر سے اپیل کریں اور ہمت نہ ہاریں - سارے کشمیریوں کو غدار اور خارجی قرار دے دیا گیا ہے جو دنیا بھر کے لئے نا قابل یقین بات ہے -
ساری عمر پاکستان کشمیریوں کے حق کے لئے لڑتا رہا اور بھارت کے ظلم کے خلاف دنیا کو آگاہ کرتا رہا اب چند جرنیلوں نے خود ہی اپنے لوگوں پر گولیاں اور بمباری شروع کر دی ہے - اب کشمیر پاکستان کیسے بنے گا - برسوں کی قربانی کچھ پاگل اور اقتدار کے بھوکے جرنیلوں نے مٹی میں ملا دی -