اگر اسٹبلشمنٹ کراچی کی بہتری چاہتی ہے تو وہ پی پی کے کان مروڑ کر ان سے ڈیولپمنٹ کروا سکتی ہے ہر بیوروکریسی کی میٹنگ میں میجر یا کرنل بیٹھا ہوتا ہے
پچھلے 4سال میں ن لیگ اور پی پی سے ہر قسم کا کام کروا لیا تو کراچی کی ڈیولپمنٹ بھی کروا سکتی ہے لیکن مقصد ترقی یا ڈیولپمنٹ نہیں ہے
پن بجلی پر خالص منافع
پنجاب نے 3 سال میں 23.5 ارب یونٹ بجلی پیدا کی، 177 ارب روپے وفاقی حکومت نے دیے
خیبر پختون خوا نے 3 سال میں 61.2 ارب یونٹ بجلی پیدا کی، 71.5 ارب روپے وفاقی حکومت نے دیے
پختون خوا کی پیداوار تقریباً 3 گنا ہے، رقم پنجاب کی نسبت آدھی سے بھی کم، کیوں ؟
*پنجاب حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد وفاقی حکومت کی آئین کے آرٹیکل 161(2) کی تین سال سے مسلسل خلاف ورزی*
خیبرپختونخوا کے حقوق پر مسلسل قدغن، پنجاب کو اضافی وسائل کی فراہمی پر سوالات
1. پنجاب حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث گندم کی بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال ملک میں گندم کے نرخوں میں 85 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
2. دوسری جانب وفاقی حکومت بھی گزشتہ تین سال سے آئین کے آرٹیکل 161(2) کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے اور خیبرپختونخوا کو اس کے آئینی حق، یعنی خالص پن بجلی منافع (Net Hydel Profit) کی مکمل ادائیگی نہیں کی جا رہی۔
آئین کا آرٹیکل 161(2) کیا کہتا ہے؟
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 161(2) کے تحت کسی صوبے میں واقع پن بجلی گھر سے حاصل ہونے والے خالص منافع کا حق اسی صوبے کو حاصل ہے جہاں وہ پن بجلی گھر واقع ہو۔ اس آئینی اصول کے تحت پن بجلی کی پیداوار کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اثرات برداشت کرنے والے صوبے کو اس کا خالص پن بجلی منافع (NHP) ادا کیا جانا لازم ہے۔
3. خیبرپختونخوا پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے اور قومی گرڈ میں مجموعی پن بجلی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے، جبکہ پنجاب کی پن بجلی پیداوار تقریباً 30 فیصد ہے، جس میں نمایاں حصہ غازی بروتھا پن بجلی منصوبے اور دیگر منصوبوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اس تناظر میں خیبرپختونخوا کو صوبے میں ہونے والی پن بجلی کی پیداوار کی بنیاد پر خالص پن بجلی منافع میں ایک اہم آئینی حق حاصل ہے۔
4. گزشتہ تین سال، یعنی 2024 سے 2026 کے دوران خالص پن بجلی منافع کی مد میں پنجاب کو 177.7 ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ خیبرپختونخوا کو صرف 71.5 ارب روپے ملے۔ یوں پنجاب کو خیبرپختونخوا کے مقابلے میں 106.2 ارب روپے زیادہ ادا کیے گئے، حالانکہ پن بجلی کی پیداوار کے اعتبار سے خیبرپختونخوا کا حصہ پنجاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
5. اسی عرصے کے دوران خیبرپختونخوا میں واقع 12 پن بجلی گھروں نے مجموعی طور پر 61.2 ارب یونٹس بجلی پیدا کی، جبکہ پنجاب میں واقع پن بجلی گھروں کی اسی مدت کے دوران مجموعی پیداوار صرف 23.5 ارب یونٹس رہی۔
6. ان اعداد و شمار کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کو 106.2 ارب روپے اضافی خالص پن بجلی منافع کی مد میں ادا کیے گئے، جبکہ خیبرپختونخوا کو اس کے جائز اور آئینی حق سے محروم رکھا گیا۔ یہ صورتحال وفاقی حکومت کی جانب سے وسائل کی تقسیم میں واضح عدم توازن اور پنجاب حکومت کے حق میں غیر معمولی جھکاؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پنجاب حکومت کو مضبوط اور کامیاب بنانے کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جانے کا تاثر اس وقت مزید گہرا ہوتا ہے جب خیبرپختونخوا کو اس کے آئینی اور جائز حقوق کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کا سامنا ہو۔ وفاقی وسائل کی غیر متوازن تقسیم سے خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ ناانصافی کا احساس بڑھ رہا ہے اور ان کے معاشی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
7. خیبرپختونخوا حکومت کا دوٹوک مطالبہ ہے کہ صوبے کو اس کا جائز آئینی حق فوری طور پر دیا جائے اور خالص پن بجلی منافع کی مد میں واجب الادا 106.2 ارب روپے فوری جاری کیے جائیں۔ اس معاملے کو مزید تاخیر کے بغیر مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کے اجلاس میں پیش کیا جائے تاکہ آئین کے مطابق وسائل کی منصفانہ تقسیم اور خیبرپختونخوا کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پنجاب کے شہر ڈوبنے کے جو ریکارڈ اس بار قائم ہوئے ہیں وہ کبھی نہیں ہوئے
مون سون میں اس طرح کے گجرات پنڈی وغیرہ سے ڈوبنے کی ویڈیوز بزدار دور میں آتی تو ہر طرف بزدار سے استعفی مانگا جارہا ہوتا جبکہ آج صورتحال یہ ہے کہ میڈیا کہتا ہے باقی صوبوں میں بھی مریم نواز ہونی چاہیے
@Alikhanyzai کل تک لکی مروت اور بنوں پولیس امن کمیٹی کا وردی پہنے بغیر کارروائی کو ریاست مخالف قرار دینے والے آج فوج کی وردی بغیر کارروائی کو مسلمہ اصول کہنا ٹاؤٹ برادری کے لیے شرم کا مقام ہے ۔
حضورِ والا، اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو وہ وقت بھی زیادہ دور نہیں جب صوبے کے آئی جی پی، آر پی اوز اور ڈی پی اوز بھی وہی بات کہنے پر مجبور ہو جائیں گے جو آج بنوں اور لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے اہلکار اور وہاں کی رائے عامہ برملا کہہ رہی ہے۔
جنہیں آپ محض ’’ٹریفک پولیس اہلکار‘‘ کہہ کر تحقیر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، دراصل وہی اس معاشرے کی زندگی کی آگ میں جلنے والا شعلہ ہیں۔ وہ محض چند اہلکار نہیں بلکہ اپنے گردوپیش کے اجتماعی شعور، اجتماعی اضطراب اور اجتماعی ارادے کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ معاشرے کی اجتماعی ذہانت اور عوام کا اجتماعی ارادہ بالآخر تقدیر کے رخ کی ترجمانی کرتا ہے۔
اس اجتماعی احساس کو حقیر سمجھنا یا اسے دھتکار دینا محض چند افراد کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ اس عوامی حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے جو زمینی حالات سے جنم لے رہی ہے۔ انہیں دبانے یا دھتکارنے کے بجائے ان کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ عوام کے اجتماعی ارادے کو مسلسل نظرانداز کرنا گویا تقدیر کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔
@irfijournalist منافقت نہ کریں جن کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے ان کا نام لیں،اگر حکومت سولین کے پاس ہے تو اختیار بھی ان کو دیں پالیسیاں بھی منتخب حکومت کی نافذ ہوں،۔
کل ڈاکٹر یاسمین راشد اور زبیر نیازی کے حلقے میں منعقدہ محفلِ میلاد کے موقع پر پولیس ریڈ کے دوران کھولتے تیل کی کڑاہی میں گر کر جھلسنے والے اشتیاق خان کو ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے، اشتیاق خان کے خاندان کو اس وقت قیامت کا سامنا ہے۔
اتنا ظلم، اتنی بربریت تو چنگیز خان ہلاکو خان نے بھی برپا نا کی تھی۔
اشتیاق خان کے معلوم بچوں کو زندہ جہنم میں دھکیلنے کا ذمہ دار کون ہے؟
جب ظلم و بربریت اپنی حد کو پہنچ جائے تو پھر اللہ مظلوم کے لیے غیبی مدد بھیجتا ہے اور ظالم کے لیے دردناک عذاب!
لکی مروت پولیس امن کمیٹی نے انڈس ہائی وے بند کردی
کرم پل کے مقام پر احتجاجی کیمپ لگا کر احتجاج شروع کردیا گیا
امن پولیس کمیٹی کے مطابق پشاور میں انکے اہلکار سمیع اللہ کو مبینہ طور پر گرفتار (اغوا) کیا گیا ہے جب تک بازیاب نہیں کیا جائیگا روڈ بند رہے گا
@UmarCheema1 اشرافیہ کا ٹاؤٹ کہ رہا ہے کہ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کمی کمین مرتے رہتے ہیں،آگے بڑھیں سارا قصور غریب عوام کا ہے،زیادہ بک بک نہ کریں صاحب کا موڈ خراب ہوتا ہے ۔
@shafqatmm1 یہ امن کمیٹیاں فوج کی دہشت گردی کے خلاف ناکام پالیسیوں اور ان کے متنازع کردار اور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف وجود میں آئی تھیں،یہ صوبائی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف وسائل کا مطالبہ بھی کرتی آئی ہیں اور اب سہیل آفریدی کی حکومت نے ان کے لیڈروں کا تبادلہ کر دیا ہے
لکی امن کمیٹی کے سربراہ سمیت 7 اہلکاروں کا تبادلہ
بنوں پولیس لائنز میں امن کمیٹیوں کا احتجاج شروع
لکی مروت سے بھی امن کمیٹی ممبران احتجاج میں شرکت کیلئے پہنچ گئے
بنوں اور لکی مروت میں پولیس و ٹریفک اہلکار ڈیوٹیاں چھوڑ کر احتجاج میں شامل