اقوامِ متحدہ میں ایرانی مقرر کو ہراساں کرنے اور اجلاس میں خلل ڈالنے کے لیے اسرائیلی سفیر مرکزی راستے سے آگے بڑھا مگر اسے جنرل اسمبلی سے باہر نکال دیا گیا
اسے توقع نہیں تھی کہ کوئی اسے روک بھی سکتا ہے شاید وہ سمجھتا تھا کہ اقوامِ متحدہ بھی 3000 سال پہلے اس کے نام کر دی گئی تھی !
احسن اقبال کا 6 منٹ جھوٹ پر مبنی ارشاد بھٹی کے ساتھ انٹرویو،
احسن اقبال کے جھوٹ سن کر ارشاد بھٹی نے تالیاں بجا دیں،
جھوٹ نمبر1: الیکشن 2024 صاف اور شفاف ہوئے
جھوٹ نمبر 2: ن لیگ کی حکومت فارم 47 پر مبنی نہیں بلکہ آئینی حکومت ہے،
جھوٹ نمبر 3: نواز شریف لاھور سے الیکشن درست جیتا ہے۔
کراچی میں رہتی ہوں لیکن فیملی سے تعلق بہت مضبوط ہے، مہینہ گھر نہ بھی جاؤں تو والدہ سے فون پر رابطہ رہتا ہے، حمیرا اصغر کا ایک انٹرویو جب کہ ابھی تک ان کی لاش وصول کرنے کوئی نہیں آیا
براہموس ذخیرے کی تباہی، بھارتی جوہری سلامتی غیر محفوظ
پچھلے چند دنوں سے میڈیا میں ایک ایسی دستاویز گردش کر رہی ہے جس نے نئی دہلی کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ 12 مئی 2025 کی تاریخ لیے ایک الرٹ لیٹر جس پر اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ، حکومتِ ہند کی مہر لگی ہوئی دکھائی دیتی ہے بیاس، پنجاب میں واقع براہموس میزائل کے اسٹریٹجک ذخیرے کے اندر ’’تابکاری اخراج‘‘ اور 21.4 ملی سیورٹ فی گھنٹہ تک کے خطرناک ریڈی ایشن لیول کا اعتراف کرتا ہے۔ خط میں تین کلومیٹر کے اندر فوری انخلا، پانچ کلومیٹر تک کے رہائشیوں کو کھڑکیاں بند رکھنے اور زمینی پانی کے استعمال سے گریز کی ہدایات درج ہیں۔ کیا یہ خط اصل ہے یا جعلی؟ براہموس سپر سانک روایتی ہتھیار ہیں جوہری ہتھیار نہیں تو کیا بھارت نے براہموس کو نیوکلیئر وار ہیڈز سے لیس کردیا تھا ۔ یہی وہ سوال ہے جو بھارت کی جوہری ساکھ کو دہکتے انگاروں پر لیے بیٹھا ہے۔👇
بھارت کے مرکزی دھارے کے فیکٹ چیکرز نے دستاویز کو ’’جعلی‘‘ قرار دے کر عوام کو اطمینان دلانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ اے ای آر بی کی سرکاری ویب سائٹ پر ایسا کوئی الرٹ موجود نہیں۔ ادارے نے بھی ای میل کے ذریعے دستاویز کی صحت سے لا تعلقی ظاہر کی۔
دوسری طرف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ مسلسل دعویٰ کر رہے ہیں کہ 10 مئی کی صبح، پاکستان کے آپریشن بنیانُ-مرصوص کے دوران براہموس ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ذخیرے میں موجود جوہری صلاحیت کے حامل وارہیڈز سے تابکاری رساؤ شروع ہوا۔گویا ایک جانب نئی دہلی ’’سب ٹھیک ہے‘‘ کا راگ الاپ رہی ہے، تو دوسری جانب گلوبل اوپن-سورس انٹیلیجنس پر ریڈی ایشن الارم اور سیٹیلائٹ تصاویر کے تجزیے گردش میں ہیں،حقیقت بیچ چوراہے میں سوال بن کر کھڑی ہے۔
بیاس کے ڈپو کی تباہی کا الزام ہو یا محض کاغذی فریب ،دونوں صورتوں میں نقصان بھارت کا نہیں، پورے خطے کا ہے۔ پاکستانی مؤقف ہو یا بین الاقوامی اصول، جوہری تحفظ کسی ایک ملک کی خود مختاری کا مسئلہ نہیں بلکہ بنی نوعِ انسان کی مشترکہ بقا کا سوال ہے۔ نئی دہلی کو چاہیے کہ الزامات اور تردید کے شور سے نکل کر آزادانہ انکوائری کے دروازے کھولے۔ بصورتِ دیگر عالمی اداروں اور پابندیوں کا دباؤ ایک ناگزیر حقیقت بن کر اس کے دروازے پر دستک دیتا رہے گا۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی جنگ و جدل، ماحولیاتی تبدیلی اور اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ ہم تابکاری کے ایک اور سایے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
اگر خط جعلی ہے تو اے ای آر بی اس سنگین فریب کا ذمے دار کون ہے، اور اب تک کاروائی کیوں نہیں ہوئی؟
اگر خط اصلی ہے تو پھر بھارتی حکومت نے بین الاقوامی ایمرجنسی پروٹوکول کے تحت آئی اے ای اے کو فوری اطلاع کیوں نہ دی؟
کیا جنوبی ایشیا کی 1.8 ارب آبادی کو ایک ایسے پڑوسی کی جوہری لاپرواہی کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے جو پہلے ہی درجنوں تابکار چوریوں کا ریکارڈ رکھتا ہے؟
پاکستان نے پہلے ہی اقوامِ متحدہ اور آئی اے ای اے سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ دہلی کی جوہری تنصیبات اور مواد کے تحفظ کا جامع آڈٹ کیا جائے۔ پاکستان کی دلیل واضح ہے: جب تابکار مواد آئے روز اسمگل ہو رہا ہو اور اب مبینہ طور پر کسی فوجی ذخیرے سے اخراج کی خبریں آ رہی ہوں، تو عالمی برادری کے پاس غفلت کا جواز باقی نہیں رہتا۔
اگر مان بھی لیا جائے کہ موجودہ خط جعلی ہے، تب بھی سوال یہ ہے کہ بھارت میں جوہری مواد کی چوری، اسمگلنگ اور غیر محفوظ ذخیرہ اندوزی کے واقعات کی طویل فہرست کو کون جھٹلائے گا؟ 2024 میں بھارتی ریاست اتراکھنڈ سے ایک گروہ کے قبضے سے کالیفورنیم جیسا انتہائی تابکار مادہ ایک سو ملین ڈالر مالیت کے ساتھ برآمد ہوا۔
2021میں بھی یورینیم اور دیگر مواد کی کم از کم تین وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ اگر ایک جمہوری ملک کی حساس ترین لیبارٹریوں سے تابکار عناصر یوں بازارِ سیاہ میں نکل آئیں تو دنیا کس بنیاد پر بھارت کو ایک ’’ذمے دار جوہری ریاست‘‘ کہہ کر خود کو مطمئن کرے؟