مولانا صاحب کو فوراً اسٹیبلشمنٹ سے بھیک میں ملی قومی صوبائی و اسمبلیوں، سینیٹ اور مخصوص جعلی نشستوں سے استعفیٰ دے کر اسلام کی خاطر انقلاب کا نعرہ بلند کرنا چاہیے۔
وزیر اعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد گرفتاری کے لئے پولیس کی انتھک کوششوں کے باوجود ، ناکامی کے بعد اسلام آباد پولیس نے سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کاروائی کا آغاز کر دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے باوجود عمران خان سے جیل ملاقاتیں نا کرانے پر سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی کی جانب سے دائر توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے 18 جون کو آرڈر دیا تھا کہ کیس تین ہفتوں بعد سماعت کے لئے مقرر کیا جائے
اٹارنی جنرل ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل ، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کیا گیا تھا
بریکنگ نیوز:
نیب ترمیم کیس میں حکومت نے اپنی کوتاہی تسلیم کر لی
"اللہ کا واسطہ ہے سپریم کورٹ مکمل طور پر اپنا اختیار سرنڈر نہ کرے" ایڈوکیٹ عباد الرحمان لودھی کی جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ھلالی اور جسٹس شاھد بلال کے بنچ کے سامنے دہائی۔
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران ڈرامائی صورتِ حال، نیب کیس کے ایک ملزم کی ضمانت کی اپیل سپریم کورٹ سنے گی یا وفاقی آئینی عدالت؟
اٹارنی جنرل بیرسٹر منصور عثمان اعوان نے نیب کے ترمیمی قانون میں ضمانت کی اپیل کا ذکر نہ ہونے کی غلطی تسلیم کر لی۔ عدالت ترمیمی قانون کے الفاظ سے ہٹ کر یہ طے کرے کہ آیا ضمانت کا معاملہ مرکزی مقدمے سے جڑا ہوتا ہے یا کوئی الگ معاملہ ہوتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے بعد میں اٹارنی جنرل سے بھی پوچھا کہ نیب ترمیمی قانون میں ضمانت کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا جس پر اٹارنی جنرل نے اس غلطی کااعتراف کیا، جسٹس مسرت ھلالی نے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ سقم جان بوجھ کر چھوڑا گیا کہ بعد میں کسی کو فائدہ دینا بھی پڑ سکتا ہے۔
اس سوال پر جاری سماعت کے دوران نیب کے ایک ملزم کی ضمانت کے کیس میں دلائل دیتے ہوئے سابق جج لاہور ہائی کورٹ عباس الرحمان لودھی نے اچانک ہی دہائی دی کہ "اللہ کے واسطے سپریم کورٹ مکمل طور پر اپنا اختیار (آئینی عدالت کے سامنے) سرنڈر نہ کرے، کچھ تو اپنے پاس رہنے دیں خدا کے واسطے"
ایڈوکیٹ لودھی بار بار ترمیم قانون کے الفاظ میں ضمانت کے معاملات کا ذکر نہ ہونے کی طرف نشاندھی کراتے رہے مگر جسٹس محمود علی مظہر بار بار یہی کہتے رہے کہ ترمیم قانون میں نیب ملزمان کو دوسری اپیل کا جو حق دیا گیا ہے اسکا اطلاق ضمانت پر بھی ہوتا ہے جو آئینی عدالت میں سنی جائیگی کیونکہ سپریم کورٹ میں ویسے بھی نیب مقدمات میں براہ راست اپیل نہیں بلکہ اپیل کرنے کی اجازت مانگی جاتی ہے۔
نوٹ: امکان ہے کہ حکومت جلد ہی بدنیتی پر مبنی نیب ترمیم کو عمران خان کیخلاف موثر کرنے واسطے ترمیم میں مزید ترمیم کا آرڈیننس لائی گی جس پر صدر ذرداری کے دستخط بھی ہونگے۔
بریکنگ نیوز ، ہائیکورٹ کے بعد نیب اپیلیں سننے کا اختیار سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت کو دینے کے معاملے میں حکومت کی جانب سے مارچ میں پاس کرائے نیب ترمیمی ایکٹ میں اہم سقم حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے تسلیم کر لیا
ہائیکورٹ کے بعد اپیلیں تو وفاقی آئینی عدالت جانی ہے لیکن نیب ضمانت کے کیسز سپریم کورٹ سن سکتی ہے یا نہیں ؟ اس پر اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے سامنے تسلیم کیا ہے کہ ضمانت کے کیسز بھی وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں رکھنے سے متعلق ایکٹ میں نہیں لکھ سکے نظر انداز ہو گیا ہے
سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اس پر ایک دو دنوں میں فیصلہ سنایا جائے گا
حکومتِ یزید جو ظلم اپنی سیاسی مخالف خواتین کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے شاید ہی تاریخ میں اس کی کوئی مثال ملتی ہو
صنم جاوید کو انتہائی تشویش ناک حالت میں ہسپتال لے جانے کے لیے جیل سے روانہ کیا گیا اور بتایا جا رہا ہے کہ ان کی طبیعت نہایت ناساز ہے اور وہ نازک کیفیت سے دوچار ہیں تاہم انہیں ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔۔
آرمی چیف کا طیارہ ہائی جیک کرایا،انہیں آپ نے جیل سے نکال کر سرور پیلیس جدہ پہنچایا، پھر پکڑے گئے پھر جیل سے نکالا شاہی طیارے پر دوحہ اور لندن پہنچایا اور پھر ریڈ کارپٹ پر استقبال کیا جو بویا وہی کاٹنا پڑتا ہے اب گلہ کیسا ؟؟ مولانا نے تو صرف اصلاح کی ہے
مولانا کی جگہ اگر یہ بیانات کسی اور نے دیئے ہوتے تو اب تک پتہ نہیں کتنی قرآنی آیات کا حوالہ دے کر انہیں فتنہ اور فساد کا نام دے دیا جاتا مگر یہاں اب تک ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ شاید یہ ڈر ہو کہ آگے سے مولانا کے لاکھوں لوگ قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ نہ پڑھ کر سُنانے پہنچ جائیں.
پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن ماجد ستی قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صافی نے مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو عمر قید کی سزا سنائی۔
عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد فرخ کھوکھر کو کمرۂ عدالت سے گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔
بعد ازاں سخت سکیورٹی حصار میں ملزم کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔
ماجد ستی قتل کیس کا فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صافی نے سنایا۔