Dear @CMShehbaz & @MaryamNSharif ; give usman teacher the sitara , hilal or tamgha this time. He has changed the landscape of water preservation in Islamabad / Rawalpindi. He deserves it much more then regular babus & socialites doing nothing solid. There are only handful people doing the war against climate change in Pakistan.
اسلام آباد آمد پر خوش آمدید پاکستان کی اشرافیہ کی مراعات یا منصفوں کی منافقتوں کا نظارہ کرنا ہوتو یہ شہر بہترن نمونہ ہے امیروں کے لئے جنت اور غریبوں کے لئے جہنم بنتا جارہا ہے بری امام نور پور سید پور کے غریبوں پر کسی رکاوٹ کے بغیر بلڈوزر چل جاتے ہیں جب کہ عدالتی حکم کے باوجود Constitution One Tower کو بچا لیا جاتا ہے بنی گالہ میں قیدی نمبر 804 کے گھر کو اور شاہراہ دستور پر ناجائز عمارت کو ریگولراز کردیا گیا لیکن ثاقب نثار کے انھے انصاف کو غریب نظر نہیں آئے جج جرنیل سیاستدان اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں
جب سے ہمارے اداروں نے طے کیا ہے کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں عجب صورت حال بن گئی ہے سیاسی آقائوں کا کہنا ہے کہ وہ بے بس ہیں لیکن پنڈی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لوگ حیران ہیں کہ حکومت کون کررہا ہے پھر عزیز میاں کی قوالی یاد آجاتی ہے اللہ ہی جانے کون بشر ہے
@AsadAToor Because govt won't spend money the project will be completed on PPP mode and the govt will payback investor/contractor in terms of projects revenue for a specific period of time. Swat motorway is an example built by same contractor FWO
The whistle blows and everything changes, tears, relief, and pride all at once. Pakistan finally lifts what they’ve been chasing for years 🏆💚🇵🇰⚽️
#PakistanFootball
This moment can’t just be celebrated, it has to be built on. Pakistan finally has a result that can shift perception, but trophies don’t change football overnight unless the momentum is protected. With the World Cup happening right now, this is exactly the kind of timing that can be used to push visibility, invest in structure, and keep the conversation alive at the highest level. The challenge is not just winning once, but making sure this doesn’t become a one-off highlight that fades away. If anything, this should be treated as a starting point, a reminder that there is talent, emotion, and potential that needs consistent support, exposure, and long-term planning so moments like this start becoming normal, not rare.
#PakistanFootball
کل عید کا تیسرا دن تھا۔ ہم شیخوپورہ۔ ڈگری کالج کے دوست پرانی یادیں تازہ کرنے اپنے دوست منظور کے گاؤں کے راستے میں تھے۔
شرقپور روڈ پر، جامعہ فاروقیہ کے باہر ہم اپنے دوست منظور کا انتظار کر رہے تھے۔ سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی ریڑھی دیکھی۔ ایک دس سالہ بچہ بڑی سنجیدگی سے چنا چاٹ بنا رہا تھا۔
نام پوچھا تو بولا:
“ازان”۔ ساتھ دو بھائی اور بھی تھے۔ حسنین اور سبحان۔
میں نے اپنے اور ظفر کے لئے چارٹ خریدی ۔ پھر پوچھا، “اتنے مزے کی یہ چنا چاٹ امی نے بنائی ہے؟”
وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا۔ پھر بہت دکھ سے بولا، “نہیں، امی تو کچھ سال پہلے فوت ہو گئی تھیں۔”
میرا دل رک سا گیا۔
میں نے آہستہ سے پوچھا، “اور ابو؟ وہ کیا کرتے ہیں؟”
اس نے پھر بڑے وقار سے جواب دیا، “ابو بھی فوت ہو گئے ہیں۔”
میرے سامنے چنا چاٹ کا ٹھیلا نہیں تھا۔ میرے سامنے ایک فائٹر، عزم اور ہمت کا ایک پہاڑ کھڑا تھا۔
دس سال کا ازان۔ مدرسے میں پڑھتا ہے۔ پھر اپنے بھائیوں کے ساتھ یہ چھوٹا سا “کاروبار” چلاتا ہے۔ گھر میں ایک اور چھوٹا بھائی اور پانچ سال کی بہن بھی ہے۔ اور یہ دس سالہ بچہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکول بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میں نے پوچھا، “ازان ، یہ سارا سامان لگانے کے لیے کتنے پیسے چاہیے ہوتے ہیں؟”
اس نے کہا، “پانچ سو روپے۔”
میں حیران رہ گیا۔
کبھی کبھی ہم خواب شروع کرنے کے لیے لاکھوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اور کبھی زندگی ہمیں سڑک کنارے کھڑا دس سالہ ازان دکھا دیتی ہے، جو پانچ سو روپے سے عزت، محنت اور وقار کا کاروبار شروع کر چکا ہوتا ہے۔
میں نے کل بھی لکھا تھا۔ بات پیسوں کی نہیں ہوتی۔ بات بھوک، غیرت، ذمہ داری اور نیت کی ہوتی ہے۔
اور سب سے شاندار پارٹ وہ تھا جب میں نے ان سب بچوں کو عیدی دی۔
حسنین اور سبحان نے فوراً اپنی عیدی کے پیسے ازان کو دے دیے۔ میں نے پوچھا، “آپ دونوں نے پیسے اسے کیوں دے دیے؟”
وہ بولے، “کیونکہ وہ بڑا ہے، جب ہمیں پیسے چاہیے ہوتے ہیں، یہ ہمیں دے دیتا ہے۔”
میں اندر سے ہل گیا۔
ابھی ازان صرف دس سال کا ہے۔ مگر اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں کے دل میں ایسا اعتماد، ایسی عزت، ایسا بھروسہ قائم کر دیا ہے جو شاید بہت سے پچاس ساٹھ سالہ گھر کے سربراہ بھی حاصل نہیں کر پاتے۔
سچ ہے کہ لیڈرشپ اور عزت عمر سے نہیں آتی۔ ذمہ داری سے آتی ہے۔ اعتماد الفاظ سے نہیں بنتا۔ کردار سے بنتا ہے۔ُاور عزت مانگنے سے نہیں ملتی۔ اپنا کہا نبھانے سے ملتی ہے۔
میں ازان سے خالی چنا چاٹ لے کر نہیں آیا۔ میں وہاں سے ایک سبق لے کر آیا۔ کہ دنیا کے سب سے بڑے بزنس اسکول کبھی کبھی وہ نہیں سکھا پاتے جو سڑک کے کنارے لگے چھوٹے سے ٹھیلے سکھا جاتے ہیں۔
ازان نے مجھے ایک بار پھر سکھایا کہ اگر دل میں تڑپ ہو، کر دکھانے کی لگن ہو تو پہلا قدم کہیں سے بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
کچھ بڑے اس انتظار اور بہانے کے ساتھ جیتے جا رہے ہیں کہ وسائل ہوں گے تو شروع کروں گا۔
ان سب سے ازان کہہ رہا ہے، “شروع کرو گے تو وسائل آئیں گے”۔
آپ کب شروع کریں گے؟
قیصر عباس
@SSaleem08@realrazidada@mahtab_20 I think nespak was hired not only for supervision but also for design review. The design review phase is included in every project before execution to look for the latest conditions and if they failed to review it rather than just execute it then the responsibility lies on nespak
اس معاشرے میں پاور گیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ CSS 2025 کے نتائج میں ٹاپ 30 پوزیشن ہولڈرز میں سے کسی ایک نے بھی فارن سروس کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ سب نے PAS یا پولیس سروس کو ترجیح دی۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ بدلتی ہوئی ترجیحات کا واضح اظہار ہے۔
ایک وقت تھا جب فارن سروس سب سے بڑی اور پرکشش چوائس سمجھی جاتی تھی، جہاں مختلف ممالک میں تعیناتی اور اعلیٰ معیارِ زندگی اپنی جگہ ایک کشش رکھتا تھا۔ لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ آج کا پڑھا لکھا طبقہ بہتر لائف اسٹائل پر طاقت اور اثر و رسوخ کو ترجیح دے رہا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ عدم تحفظ (insecurity) ہے، جہاں لوگوں کو یقین ہو چکا ہے کہ بغیر اختیار اور پاور کے نہ عزت ملتی ہے اور نہ ہی کام آسانی سے ہوتا ہے۔ اس لیے پاور گیم اب صرف خواہش نہیں بلکہ ایک ضرورت بنتی جا رہی ہے۔علی قیصرانی