مولانا کی سب باتیں ٹھیک ہوں گی لیکن کارگل تو انیس سو ننانوےمیں ہوا تھا اور نواز شریف نے برطرفی کے بعد کہا تھا وہ جب بھی اقتدار میں آئے تو کارگل پر کمشن بنا کر جنرل مشرف سمیت تیں جرنیلوں کو سزائیں دیں گے۔
کارگل کی پہاڑیوں پر ہمارے تین ہزار فوجی جوان شہید ہوئے تھے جنہیں پی ٹی وی اس وقت جنرل مشرف کی پالیسی تحت مجاہد کہتے تھے کہ حکومت پاکستان کا ان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ مشاہد حسین سید صاحب کو یقینا یاد ہوگا جو اس وقت وزیر اطلاعات تھے۔
لیکن اس وقت کی فوجی قیادت کا ان سنگین الزامات پر احتساب کرنے کی بجائے
2002 کی پارلیمنٹ میں ایم ایم اے کی قیادت ۔۔قاضی حسین احمد اور فضل الرحمن نے مل کر جنرل پرویز مشرف کو وردی کے ساتھ الٹا صدر بنایا۔ ان سب نے قطار میں لگ کر اسمبلی کے اندر جنرل مشرف کو وردی کے ساتھ ووٹ ڈالا۔
یہاں تک بس نہ کی بلکہ جنرل مشرف کو کارگل سمیت نواز شریف حکومت توڑنے کے ہر قسمی فیصلوں پر ہر قسمی قانونی کاروائی سے immunity بھی دی جس کے تحت جنرل مشرف کے سینکڑوں فیصلوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوگی جن میں یہ کارگل بھی شامل تھا۔
مولانا صاحب آپ اورایم ایم اے نے مل کر اس جنرل کو وردی سمیت صدر بنوایا بلکہ محفوظ راستہ بھی دیا۔ اس کے بدلے دیگر جنرل صاحب نے آپ کو اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنوایا پی پی پی کے مخدوم امین فہیم کو نہیں۔ آپ تو دونوں ایک دوسرے کے محسن تھے۔ 😊
آج مولانا یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ہمسایوں ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب کیوں ہیں جبکہ معرکہ حق بنیان مرصوص کے بعد یہی مولانا اپنی افواج کو بہادری سے لڑنے پر خراج تحسین پیش کررہے تھے
مولانا صاحب کیمرہ جانب دیکھ کر ہاتھ ہلادیں
کشمیر میں الیکشن کی تیاری صرف ن لیگ کررہی ہے،باقی جماعت تو کوئی نظر ہی نہیں آرہی،کشمیر کے عوام کہہ رہے ہیں کہ کشمیر بھی پنجاب کی طرح روشن بنے،گرین بسیں آئیں
27 جولائی الیکشن کا دن ہے۔
گھر سے باہر نکلیں، اپنا ووٹ ضرور ڈالیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔ آپ کا ہر ووٹ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت سے یکجہتی کے عزم کو مزید مضبوط بنائے گا۔
نسل در نسل خدمت کا سفر جاری ہے۔
طاہرہ اورنگزیب کے بعد مریم اورنگزیب بھی اسی جذبے، محنت اور لگن کے ساتھ پاکستان کی خدمت میں مصروف ہیں۔
کشمیر الیکشن مہم کے سلسلے میں راولپنڈی سے گوجر خان تک شاندار اور کامیاب ریلی نے کارکنوں کے جوش و جذبے کو نئی توانائی دی۔
مون سون بارشوں سے قبل مریم نواز متحرک،پنجاب کے 15 اضلاع میں واسا کو 272 نئی 12 اقسام کی مشینری فراہم کردی،اگلے مرحلے میں پنجاب کے 41 اضلاع میں 694 نئی مشینری فراہم کی جائیں گی۔
ازربئجان نے جو JF17 طیارے پاکستان سے خریدے ہیں ان کو اپنے National TV پر ازربئجان کی عوام کو دکھائے گئے اور ان طیاروں میں کیا صلاحیت ہے اس بھی عوام کو آگاہ کیا 👏👍👏
ہم نہیں چاہتے کہ فورسز اور دھرنا دینے والوں کا آمنہ سامنا ہو۔ ہم امن، سکون اور مذاکرات چاہتے ہیں۔ مسائل کا پائیدار حل طاقت نہیں بلکہ ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہے۔
خواجہ سعد رفیق
اگر کوئی میاں محمد نواز شریف صاحب کا ایسا ایک بھی بیان ثابت کر دے جس میں انہوں نے کہا ہو کہ ہمارے شہداء تنخواہ کے لیے جان قربان کرتے ہیں، تو وزارت چھوڑنے کے لیے تیار ہوں،حنیف عباسی
سینیٹر انوشہ رحمان صاحبہ میری بہن پیچھے رہ کر سارا سیکرٹریٹ کا کام کرتی ہیں،انہوں نے پنجابی میں تقریر کرکے کھڑاک کردیا ہے،کھڑاک ابھی ختم نہیں ہوا،یہ اُن کی ابھی پہلی پنجابی تقریر ہے،خواجہ سعدرفیق
مولانا فضل الرحمن حلفا یہ کہ دیں کہ “ آج تک انہیں اسی فوج نے سہولتکاری فراہم نہیں کی “ اور جب آپکو جگہ ملتی ہے تو وہ حلال ہے اور جب آپکو جگہ نہیں ملتی تو وہ حرام ہے “
ناظرین اختیار ولی نے اصل مدعا بیان کردیا اور آج بھی مولانا اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جگہ کا ہے
نوازشریف صاحب نے خواجہ سعدرفیق دی ڈیوٹی لگادتی کہ توں سوشل میڈیا تے کشمیر دا مقدمہ لڑیا اے،ہُن جا ،تے پنجاب دیاں دس سیٹاں تے وی کشمیر کا مقدمہ لڑ،سینیٹر انوشہ رحمان
بریکنگ نیوز
پاک فضائیہ کے شاہینوں کا وار
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے JF-17 کی مدد سے بکا خیل اور نرمی خیل کے علاقے میں ایک کمپاؤنڈ پر بمباری کی جہاں 30 سے زائد فتنۃ الخوارج TTP کے دہشتگرد جمع تھے، بمباری کے نتیجے میں وہاں موجود تمام خارجی دہشتگرد جہنم واصل ہو گئے.
اگر ماضی کے بیانات پر ہی کھیلنا ہے تو مولانا فضل الرحمان کے والد کا بیان ڈاکٹر اسرار احمد کی زبانی سن لیجئیے
ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہیں
مولانا صاحب سناؤ فیر
آزاد کشمیر کے لوگ خون خرابے کو نہیں PMLN کو ووٹ دیں،جو کام پنجاب میں ہورہے وہی AJK میں ہوینگے،ایسی جماعتوں کو ووٹ نہ دیں جنکو کام کرنا نہیں آتا جنکو پرواہ نہیں:مریم نواز
میں نے اپنا بیٹا کیپٹن سلمان سرور شہید اس تنخواہ کیلئے شہید نہیں کروایا جس کا ذکر مولانا نے کیا ہے کیونکہ سیاست اور مذہب فروشی آپکا پیشہ ہے
شہدا کے وارثان میدان میں تشریف لاچکے ہیں اور اگر مولانا نے اپنے بیان پر رجوع نہ کیا تو یہ بیان مولانا کی سیاست مُکانے کیلئے کافی ہوگا
مولانا فضل الرحمن سمجھتے ہیں اُنکو اقتدار کا وہ راستہ نہیں ملا جو انکا حق تھا 2024 کے الیکشن میں سمجھتے تھے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت انہیں ملے گی وزیراعلیٰ کا نام بھی فائنل ھو گیا تھا لیکن مولانا کی جماعت اپنے گھر کی سیٹیں بھی ہار گئی اسی وجہ مولانا کا غصہ ختم ھونے کا نام نہیں لے رہا