یہ ہیں بلوچستان یونیورسٹی کے طلباء جن کو ہاسٹل سے لاپتہ کیا جاتا ہے۔جن کو وی سی بھی یہ دھمکی دیتا ہے کہ اگر آپ احتجاج کرو گے تو آپ کو بھی اٹھا لیا جائے گا
#SaveUoBStudents
پنجگور کے رہائشی حوالدار باب جان 4 جون 2022 سے لاپتہ ہیں، اُس کی بھتیجی مریم لانگ مارچ کے ساتھ اس امید سے پنجگور سے کوئٹہ آئی ہے کہ اُس کی آواز سنی جائے گی اور اُس کے چاچا کو بازیاب کیا جائے گا۔
#MarchAgainstBalochGenocide
میں نے ان چھ سالوں میں ہر دروازہ کھٹکھٹایا اپیل کی کہ میرے بھائی کے علاوہ ہمارا کوئی سہارا نہیں ہے #JIT میں میری آنسوں دیکھ کر محافظ مجھ پر ہنستے تھے گزشتہ 17 دنوں سے سردی میں بوڑھی ماؤں کے ساتھ کیمپ لگائے بیٹھے ہیں مگر کوئی دیکھنے اور سننے والا نہیں۔
آج شال سے بلوچ یلجہتی کمیٹی کی جانب سے ہونے والے سیمینار کی کچھ تصویری جھلیاں
ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سیمینار میں شرکت کرتے ہوئے ریاستی جبر اور تشدد کے خلاف جاری تحریک کا ساتھ دیا ہے۔
#MarchAgainstBalochGenocide
نجمہ بلوچ جنہیں ریاستی ڈیتھ اسکواڈز نےشدید ذہنی دباؤ کا شکار بناتے ہوئے خودکشی پر مجبور کیا جس کے خلاف بلوچ قوم نے شدید ردعمل دیا۔ عوامی ردعمل کو دیکھ کر انہیں پولیس کے حوالے کیا گیا لیکن اب انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔
بلوچ نسل کشی کے خلاف جاری بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تحریک کل بروزِ جمعہ صبح 10 بجے سریاب مل، دھرنے کے مقام سے احتجاجی ریلی کے بعد روانہ ہوگی۔ کوئٹہ و خاص کر سریاب کی عوام سے گزارش ہے کہ وہ آئیں اور اس تحریک کا حصہ بن کر بلوچ نسل کشی کے خلاف ریاست کو واضح پیغام دیں کہ اب بلوچ ظلم کے سامنے مزید خاموش نہیں رہیں گے!
#MarchAgainstBalochGenocide
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب جاری تحریک کے 23 ویں دن شال سے ایک گرینڈ رخصتی پروگرام کے بعد کل شام کوہلو میں پڑاؤ کیا جائے گا جبکہ اگلے دن کوہلو میں رجسٹریشن کمیپ سمیت ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔ کوہلو کے باشعور بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مکران سے جھالاوان اور جھالاوان سے شال اور شال سے کوہلو آنے والے اس تحریک کا بھرپور استقبال کریں اور اس کا ساتھ دیں کیونکہ یہ تحریک صرف ایک شخص کیلئے نہیں بلکہ بلوچ قومی بقاء کیلئے جاری ہے اگر ہمیں ریاستی تشدد اور جبر سے بچنا ہے تو ہمیں اس تحریک کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔
#MarchAgainstBalochGenocide
کوئٹہ: ظلم ہوگا تو آواز اٹھائیں گے۔ ان کی ماؤں نے انہیں ظلم کے سامنے خاموش رہنے کی تربیت نہیں دی ہے۔ سینئر قانون دان علی احمد کرد کا دھرنے کے مقام پر سیمینار سے خطاب۔
#MarchAgainstBalochGenocide
مجھ سمیت لانگ مارچ کےدیگر شرکاکے خلاف دہشت گردی دفعات کے ساتھFIR انتظامیہ اورمقتدرہ قوتوں کی بوکھلاہٹ ہےاس سے پہلےبھی اپنے مطالبات سےدستبردارنہیں ہوئے ہیں
اورنہ آگےچل کرہونگے
ہمارا ایک پرامن مارچ ہے،ہمارے مطالبات جائزاورقانونی ہیں اوریہ جدوجہد لاپتہ افرادکی بازیابی تک جاری رہےگ
مجھ سمیت لانگ مارچ کےدیگر شرکاکے خلاف دہشت گردی دفعات کے ساتھFIR انتظامیہ اورمقتدرہ قوتوں کی بوکھلاہٹ ہےاس سے پہلےبھی اپنے مطالبات سےدستبردارنہیں ہوئے ہیں
اورنہ آگےچل کرہونگے
ہمارا ایک پرامن مارچ ہے،ہمارے مطالبات جائزاورقانونی ہیں اوریہ جدوجہد لاپتہ افرادکی بازیابی تک جاری رہےگی۔
کوہِ سلیمان کے غیور بلوچوں
آپ کے علم میں ہوگا کہ بلوچ قوم کی جانب سے گزشتہ 22 دنوں سے ریاستی دہشتگردی اور تشدانہ پالیسیوں کے خلاف بلوچستان بھر میں ایک تحریک جاری ہے جس میں خواتین و بزرگ، بچے و نوجوان سب شامل ہیں۔ تحریک کے پہلے فیز میں کیچ میں دھرنا دیا گیا، شٹر ڈاؤن و پہیہ جام ہڑتالیں کی گئی جبکہ اس دوران بلوچ راج نے بھرپور حمایت جاری رکھی جو اس وقت بھی شدت سے جاری ہے۔ اس لانگ مارچ کے دوران ریاست نے ہر طرح کی بربریت کا مظاہرہ کیا تاکہ لانگ مارچ کو ناکام بنایا جا سکیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین جو اس وقت لانگ مارچ کا حصہ ہیں انہیں دو سے تین مقامات پر تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا لیکن تحریک نے ریاست پر واضح کر دیا ہے کہ جب تک ریاست بلوچستان میں جاری اپنی نسل کشی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لائے گی بلوچ قوم ان کے خلاف شدت سے مزاحمت جاری رکھیں گے۔ بلوچستان میں جاری لانگ مارچ جس میں ہر علاقے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ شمولیت اختیار کر رہے ہیں وہ ریاستی ظلم جبر اور ناانصافیوں کے خلاف بلوچ قومی ریفرینڈم ہے کہ اب بلوچ مزید ریاستی تشدد اور غیر انسانی پالیسیوں کو قبول نہیں کرے گی۔
کوہ سلیمان کے باشعور بلوچوں
اس وقت صرف مکران یا جھالاوان ریاستی جبر تشدد اور ناانصافیوں کا شکار نہیں بلکہ بلوچستان کا ہر کونہ ہر گاؤں اور ہر شہر ریاستی دہشتگردی سے متاثر ہے۔ یہ جبر اور ظلم مکران سے کوہلو تا ڈی جان خان تک پھیلا ہوا ہے اگر ہم اس ظلم جبر اور ناانصافیوں کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس تحریک کو ویلکم کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں نکل کر ریاست پر واضح کرنا ہوگا کہ بلوچ قوم مزید ریاستی دہشتگردی قبول نہیں کرے گی اور بالاچ کی شہادت سے پیدا ہونے والی تحریک کا حصہ بنے گی اور اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ریاست ہمیں لاشوں پر لاشیں دے رہی ہے آئے دن جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں اور اب ان میں فیک انکاؤنٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے تحت ریاست شہروں اور گاؤں سے لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کو زیر حراست رکھ کر جب بھی دل کرتا ہے انہیں فیک انکاؤنٹر میں نشانہ بناکر شہید کر دیتے ہیں اور بعدازاں میڈیا میں مقابلے کا جعلی ڈرامہ رچاتے ہیں تاکہ دنیا اور پاکستان کے دیگر لوگوں کو بلوچستان کے حوالے سے گمراہ کیا جا سکیں۔ بلوچستان سے اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں جبکہ ہزاروں کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی گئی ہیں یا انہیں فیک انکاؤنٹر میں نشانہ بنایا گیا ہے اگر ہم نے مزاحمت کا راستہ اختیار نہیں کیا اور ریاستی جبر کے خلاف اس تحریک کا حصہ نہ بنے تو ریاست کو بلوچستان میں مزید قتل و غارت گری کا موقع ملے گا۔ وہ قومیں جو اپنے لوگوں کے لاشوں پر مزاحمت کے بدلے خاموشی کو ترجیح دیں ان کیلئے دنیا میں کوئی بھی آواز نہیں اٹھاتا قومیں خود مزاحمت کا راستہ اخیتار کرکے ہی اپنے اوپر ہونے والی جبر اور قتل و غارت گری کو روک سکتے ہیں۔
بلوچ راج
یہ تحریک اب شال سے کوہ سلیمان کی جانب رواں دواں ہوگا جہاں کوہلو، بارکھان اور ڈی جان خان کے بلوچوں تک پہنچے گا جس طرح کیچ سے لیکر شال تک ہر علاقے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھروں سے نکل کر اس تحریک کو ویلکم کیا اور اس کا بھرپور ساتھ دیا امید کرتے ہیں کہ کوہ سلیمان کے ہر علاقے سے بھی بلوچ راج اس تحریک کا بھرپور ساتھ دینگے اور اس جدوجہد میں بھرپور شرکت کرکے دنیا کو بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں کے حوالے سے آگاہ کرینگے اور بلوچ قومی قوت و اتحاد کا بھی مظاہرہ کرینگے۔ مکران سے شروع ہونے والی یہ تحریک جھالاوان سے اب کوہ سلیمان کے مقام پر پہنچ رہی ہے جہاں اب یہاں کے غیور بلوچوں پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس تحریک کو منظم آواز کی شکل میں آگے پہنچائیں تاکہ ریاست کو ایک قومی پیغام پہنچایا جا سکیں کہ مکران سے ڈی جی خان تک تمام بلوچ راج اس وقت ریاستی جبر اور ناانصافیوں کے خلاف ایک ساتھ کھڑا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب جاری تحریک کے 23 ویں دن شال سے ایک گرینڈ رخصتی پروگرام کے بعد کل شام کوہلو میں پڑاؤ کیا جائے گا جبکہ اگلے دن کوہلو میں رجسٹریشن کمیپ سمیت ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔ کوہلو کے باشعور بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں
#MarchAgainstBalochGenocide
ریاستی دہشتگردی اور ظلم و زیادتیوں کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے آج شال میں نکالی گئی ریلی کے مناظر
ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی شرکت
#MarchAgainstBalochGenocide
22nd Day:
The ongoing movement against Baloch Genocide continues, with a shutter down protest in Quetta. Preparations for the Seminar on the title "StopBalochGenocide" at the place of sit-in at Saryab Mill are underway!
#StopBalochGenocide#MarchAgainstBalochGenocide
تاریخ ساز لانگ مارچ سے تحریک کے 20ویں دن شال(کوئٹہ) سے تاریخ ساز مناظر
ہزاروں کی تعداد میں خواتین، بزرگ اور نوجوان اس وقت ریلی میں شرکت کر رہے ہیں۔
ریاستی دہشتگردی کے خلاف اس وقت پورا شہر نکل چکا ہے اور تحریک کا حصہ بن چکا ہے۔
بلوچ قوم نے ریاستی دہشتگردی مسترد کر دی ہے اور اس کے خلاف جدوجہد کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاستی دہشتگرد فورس کو اپنی دہشتگردی روکنی ہوگی۔
#MarchAgainstBalochGenocide