اسلام آباد ہائیکورٹ کہتی ہے کہ لانگ مارچ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہورہی ہے توکیا اب ہائیکورٹ کو تین ہزار کنٹینرز اور مو��روے کی بندش نظر نہیں ارہی ؟ اب سسٹم ایسے نہیں چل سکتا یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے انے سے اربوں کا نقصان ہوگا تو کھربوں کا نقصان تو یہ حکومت پہلے ہی کرچکی ہے
شاباش کوہاٹ انتظامیہ اور کوہاٹ پولیس!
پنجاب پولیس جو خیبر پختونخواہ کی حدود کے اندر خوشحال گڑھ (عین دھرنے کے مقام پر) کھدائی کرنے گھسی تھی۔انہیں اپنی۔حدود میں واپس دھکیل دیا۔
ش��باش نوید احمد، اسسٹنٹ کمشنر کوہاٹ ہیڈکوارٹر۔
پختونخواہ کی عوام اپنی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ہے
ایک ایسی کمپنی جو صرف ایک سال پرانی ہے ٹرمپ کے دونوں بیٹے اسکے پیچھے کھڑے ہیں تجزیہ کار یہ سوال کر رہے ہیں پاکستان اپنے ڈرون خود بھی بناتا ہے چین سے بھی ڈرون لیتا ہے ترکی سے بھی ڈرون لیتا ہے پھر ایک ایسی کمپنی سے ڈرون لینے کی کیا ضرورت ہے جو انڈیا کو ٹیکنالوجی دے رہی ہے اور جس کے تمام لنکس اسرائیل کے ساتھ ملتے ہیں
وقار ملک
اس کے بعد یہ بد بخت انسان کہتا ہے مجھے پروفیسر مانو- پوری زندگی ریسرچ کا ایک لفظ نہ لکھا اور نام کے ساتھ پروفیسر اور حرکتیں پٹواریوں والی۔ بلٹ پروف جیکٹ پہن کے ایسے پھر رہے ہیں جناب جیسے فرانس کے صدر ہیں۔
میاں داؤد نے مریم نواز کے خاوند کیپٹن صفدر کو "نواز شریف کا کتا" کہا
اور یہ بھی کہ نواز شریف اپنے کتے کو قابو کریں
حیرت ہے مریم نواز کے خاوند کے بارے میں اتنی نازیبا گفتگو ہو گئی اور پنجاب حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہ آیا؟ 😳🤧
عظمیٰ بخاری اور مریم اورنگزیب خاموش کیوں ہیں؟
یہ ہمیں”کلٹ“ کہتے ہیں کیونکہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ہم عمران خان کی اتنی عزت کیون کرتے ہیں۔
ایک بار کوئی سچا مسلمان یہ UNGA Speech دیکھ لے، وہ بھی ہماری طرح عزت اور احترام کرے گا عمران خان کا
کیا دل سے ہمارے نبی ﷺ کی بات کی تھی دنیا کے سامنے۔ دل جیت لیا تھا پوری امت مسلمہ کا-
کہتی ہے پنجاب کی ماں ہے
پنجاب میں اس کی پولیس جس کے بارے میں اس نے عوام کو ڈرامہ کیا تھا کہ یہ آپ جناب کرکے بات کیا کریں گے، وہی پولیس کی یونیفارم میں غنڈے بن کر راتوں کو عورتوں کا لحاظ کئے بغیر، پردہ کا لحاظ کئے بغیر کم سن بچوں کو اٹھا رہے ہیں۔
ان کے بارے بات بھی کریں تو عورت کارڈ لے کر رونا دھونا شروع ہوجاتا ہے۔ پنجاب کی ماں نہیں، ڈائن ہے یہ اور اسکو لانے والے آدم خور ہیں۔
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی ��امیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صو��ے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
میں نے جیل میں بند کسی شخص کو اتنا طاقتور نہیں دیکھا کہ جیل سے بیٹھ کر پورے نظام کو ہلا دیتا ہو!
بڑے لیڈر بیمار بن کر ڈیل کر گئے، یہ ساری عمر جیل کو تیار ہے پر جھکنے کو نہیں!🔥
*سابق اسرائیلی فوجی کی قائم کردہ امریکی ڈرون کمپنی Powerus سے پاکستان کے معاہدے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور فوری طور پر اس معاہدے کی منسوخی کا مطالبہ کرتاہوں،یہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی فلسطین پالیسی سے انحراف ہے۔یہ فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔
پاکستان ایک طرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور غزہ میں اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب سمجھتا ہے، جبکہ دوسری جانب سابق اسرائیلی فوجی افسر کی قیادت میں چلنے والی ڈرون کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر رہا ہے۔ جبکہ یہی کمپنی ڈرون گرانے والے interceptor میزائل انڈیا کو بھی فروخت کررہی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈرون کمپنی *Powerus*، جس کے بانی سابق اسرائیلی فوجی *زیو ماروم (Ziv Marom)* ہیں، جبکہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں کی فنڈنگ حاصل ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس کمپنی کے عملے کے ساتھ راولپنڈی میں *فیلڈ مارشل عاصم منیر* کی سربراہی میں ایک میٹنگ کی گئی۔
اسی کمپنی *Powerus* نے اعلان کیا ہے کہ اسے پاکستان کی وزارتِ دفاع سے بغیر پائلٹ فضائی نظام (Unmanned Aerial Systems) کے لیے ایک "محدود خریداری کا آرڈر" موصول ہوا ہے اور وزارتِ دفاع کے ساتھ ایک میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (MOU) بھی دستخط کیا گیا ہے۔ تاہم، اس آرڈر کی مالیت اور اس میں ش��مل ڈرون سسٹمز کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔
پاکستان رائٹس موومنٹ
یہ ہے SP سدرہ کی داستان جس کے حکم سے عاشق رسول اشتیاق احمد شہید ہو
کیا ان خواتین کے سینے میں دل نہیں ہوتا جو دوسری ماوں کے بچوں کو مروانے کیلئے سہولت کار بن جاتی ہیں