عمران خان نے جو کہا ہمیشہ کرکے دکھایا بس ایک کام باقی ہے وہ اکثر کہتے ہیں گیدڑوں کی فوج جس کا سربراہ شیر ہو اس شیروں کی فوج کو شکست دے دے گی جسکا سربراہ گیدڑ ہو عمران خان کا یہ زندگی کا سب سے بڑا امتحان ہے
ہمارے والد نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت پاکستان میں گزارا - ہم سے دور ۔ اس لیے نہیں کہ اُنہیں ایسا کرنا پڑا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ایک کرپٹ نظام کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
وہ ہر روز ہمارے ساتھ ایک باپ کے طور پر موجود نہیں تھے، لیکن پاکستان کے لیے وہ ہمیشہ ایک رہنما بن کر کھڑے رہے۔ انہوں نے اس ملک کو سب کچھ دیا: اسپتال، یونیورسٹیاں، اور انصاف کی ایک تحریک۔
انہیں پیشکش ہوئی کہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزاریں - ہمارے ساتھ انگلینڈ میں چہل قدمی کریں یا کرکٹ کھیلیں۔
لیکن انہوں نے اس کے بجائے ایک اندھیری قید میں بند رہنے کو چُنا۔
اُن کی قربانی پاکستان کے لیے ہے۔
اُن کی طاقت - پاکستان کی عوام ہے۔
علماء سے چند سوالات:
۱۔ ووٹ ایک امانت ہے اگر اس پر کوئ ڈاکہ ڈالے یا اس میں خیانت کرے تو اس کے لئے شریعت میں کیا سزا ہے؟
۲۔ آئین ریاست اور عوام کے درمیان ایک معاہدہ ہے اگر کوئ اسمیں زبردستی ایک طرفہ عوام کی مفاد اور مرضی کیخلاف تبدیلی کرے تو اس پر کیا سزا ہے؟
۳۔ اگر جرم ٽابت کئے بغیر کسی شہری کو جیل میں بند کیا جائے یا مسنگ پرسن بنا دیا جائے تو اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
۴۔ حکمران کیلئے استٽناء کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
اور
۵۔ جابر حکمران کے قصیدے پڑھنا اور اس کا بیعت کرنا ایک عالم دین کیلئے جائز ہے؟
میں آپکو 100 فیصد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کمپنی ہمیشہ سے ایسی ہی تھی کسی جنرل کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑا فرق صرف یہ پڑا ہے کہ عمران خان نے انکو اپنا اصل چہرہ دکھانے پہ مجبور کردیا ہے
پیارے پاکستانیوں!
#دین
چند باتیں لکھ رہی ہوں لیکن یہ تب پتہ چلیں گی جب آپ خود سے قرآن کریم ترجمہ کے ساتھ پڑھیں گے اور اس پر غور وفکر کریں گے تو اس طرح آپ سیدھے راستے پر ہوں گے۔
اے نادان کیا تم قرآن میں غور نہیں کرتے❓️😭
1️⃣ ہر نقصان و نفع کا مالک صرف اللہ ہے
“اگر اللہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی روک نہیں سکتا۔”
— یونس 107
2️⃣ مشکل سے نکالنے والا صرف اللہ ہے
“جب تمہیں سمندر میں مصیبت گھیر لیتی ہے تو تم اللہ کے سوا سب بھول جاتے ہو… پھر وہی تمہیں نجات دیتا ہے۔”
— الإسراء 67
3️⃣ شفاعت، مدد، نجات — سب اللہ کے حکم سے
“کہہ دو! اللہ کے سوا کوئی شفیع نہیں… ساری حکومت اسی کی ہے۔”
— الزمر 44
4️⃣ حکم، قدرت، پناہ — سب صرف اللہ کے اختیار میں
“کہہ دو! میں تمہارے لیے نہ نفع کا مالک ہوں نہ نقصان کا۔”
— الجن 21
5️⃣ کوئی نہیں جو اللہ کے فیصلے کو روک سکے
“اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جسے روک دے اسے کوئی بھیجنے والا نہیں۔”
— فاطر 2
1️⃣ اگر دنیا میں کوئی اور نفع و نقصان کا مالک ہوتا…
تو پھر ہر انسان اپنے محبوب انسانوں کو مرنے سے روک لیتا، بیماری ختم کر لیتا، اپنی زندگی بڑھا لیتا۔
مگر کوئی نہیں کر سکا — اس سے ثابت کہ اصل اختیار صرف اللہ کا ہے۔
2️⃣ اگر بزرگ، ولی، قبر میں موجود افراد کچھ کر سکتے…
تو وہ خود موت، بیماری، تکلیف، دشمنوں سے کیوں نہ بچ سکے؟
جو خود اپنی حفاظت نہ کر سکا وہ دوسروں کی حفاظت کیسے کرے گا؟
3️⃣ انسان اپنے سب سے قریبی عزیز کے دل کی دھڑکن بھی کنٹرول نہیں کر سکتا
تو پھر وہ تقدیر، رزق، نجات، مشکل حل کرنے میں کیسے قادر ہو سکتا ہے؟
یہ کام صرف اللہ کا ہے۔
4️⃣ نفع و نقصان اگر انسان کے ہاتھ میں ہوتا…
تو دنیا میں کوئی غریب، بیمار، مظلوم باقی نہ رہتا۔
سب اپنے لئے بھلائی لازم کر لیتے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اختیار انسان کا نہیں — صرف اللہ کا ہے۔
5️⃣ ہر طاقت، ہر نظام ایک لمحے میں رک سکتا ہے
دل کی دھڑکن، سانس، بارش، آفت، بیماری… کوئی انسان نہیں روک سکتا۔
اس کائنات میں ایک ہی کنٹرول رکھنے والا ہے:
اللّٰہ الواحد القہار
نفع و نقصان، عزت و ذلت، زندگی و موت — سب ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اسی سے مانگو، اسی پر بھروسا کرو، اسی سے مدد چاہو۔
جو اللہ پر بھروسہ کرے اسے کوئی مخلوق نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا 😍
فارم ۴۷ حکومت شوکت خانم اور نمل کے پیچھے کیوں پڑی ہے؟ خان صاحب نے یہ ادارے اللہ کی رضا کے لیے قائم کیے تھے، کسی قسم کی شیخی نہیں مار رہے۔ جج نے بھی کہا کہ شوکت خانم اور نمل کے اکاؤنٹس اُس نے بند نہیں کروائے۔ آخر اس ملک میں ہو کیا رہا ہے؟
جب عمران خان نے ہیلمٹ نہ استعمال کرنے کا چالان صرف 200 روپے رکھا تھا تب حرامخور پٹواری اور جیالے کہتے تھے کہ جہانگیر ترین کا ہیلمٹ کے بزنس میں شئر ہے اس لئے اسے فائدہ پہنچانے کے لئے ایسا قانون لایا گیا۔
اور اب 2000 کے چالان اور FIR پر کہتے ہیں اچھا ہے ٹریفک رولز فالو ہورہے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ!
تاریخ پاکستان کے غدار
1947 میں امیرالدین قدوائی نے پاکستان کا قومی پرچم ڈیزائن کیا اور 2019 میں ان کے بےقصور پوتے نے 20 ماہ NAB ٹارچر سیل میں کاٹے۔
1906 کو نواب محسن الملک نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور 1960 میں ان کے نواسے حسن ناصر کو جنرل ایوب خان نے اذیتیں دے کر مار دیا۔
1921 میں حسرت موہانی مسلم لیگ کے 13ویں صدر بنے اور 1995 کو ان کے پوتے کو دہشتگرد قرار دے کر مار دیا گیا۔
1964 محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دے دیا گیا۔
1949 میں احمد چھاگلہ نے قومی ترانے کی دھن مرتب کی اور 1979 میں ان کو اور ان کے سارے خاندان کو ضیاء دور میں پاکستان چھوڑنا پڑا۔
1949 میں بیگم رعنا لیاقت علی نے ویمن نیشنل گارڈز کی بنیاد رکھی اور 1951 میں ان کو طوائف اور غدار کہا گیا۔
1940 میں فضل حق نے قرارداد پاکستان پیش کی اور وہ 1954 میں غدار قرار پائے۔
1947 کو شاہنواز بھٹو نےجونا گڑھ کا پاکستان سے الحاق کروایا 1979 ان کے بیٹے کو پھانسی اور بعد میں ان کی پوتی اور پوتوں کو قتل کر دیا گیا۔
1947 میں کے-ایچ خورشید نے الحاق کشمیر کے لئے جدوجہد کی، 1965 میں ان کو سڑک پر گھسیٹا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔
1947 کو لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے اور 1951 کو وہ بے دردی سے قتل ہوئے۔ ان کی انکوائری رپورٹ حادثے میں جلادی گئی۔
1947 کو قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین لیگ کے پہلے صدر بنے اور 1964 میں وہ بھی غدار قرار پائے۔
1947 کو سردار ابراھیم نے کشمیر کی الحاق پاکستان کی مہم چلائی 2009 میں ان کے بیٹے غدار قرار پائے۔
1943 میں جی-ایم سید نے قرارداد لاھور سندھ اسمبلی میں پیش کی، 1948 میں وہ بھی غدار قرار پائے۔
1947 میں شیخ مجیب الرحمن نے مسلم سٹوڈنٹ لیگ کی بنیاد رکھی 1971 میں ان کوغدار قرار دیا گیا۔
1940 میں بیگم سلمی تصدق نے پاکستان اور مسلم لیگ کے لئےمہم چلائی 1960 میں صدر ایوب خان نے ان کو کرپٹ قرار دے کر نااہل کر دیا۔
1946 میں میاں افتخارالدین نےمسلم گارڈز کے لئے اپنا آبائی گھر مختص کیا 1960 کو جنرل ایوب خان نےان کو کرپٹ قرار دے دیا۔
1946 میں حسین سہروردی شہید نے مسلم گارڈز کے لئے تربیت سنٹر بنایا تھا 1960 کو غدار قرار پائے۔
1945 میں والئی قلات احمد یار خان نے قائداعظم کو سونے اور چاندی میں تول دیا تھا 2006 میں ان کے پوتے کو اپنی جان بچانے کے لئے اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔
1933 میں چودھری رحمت علی نے پاکستان کا نام رکھا 1951 میں ان کا سب کچھ ضبط کرکے ان کو جلاوطن کر دیا گیا۔
مجھے بتایا / پڑھایا گیا “ جی ایم سید “ غدار ہے •••مگر جب شعور نے آنکھیں کھولیں تو معلوم ہوا کہ 1943 میں جی-ایم سید نے “ قرارداد لاہور “ سندھ اسمبلی میں پیش کی، اور پاس کروائی ••• یہ الگ بات ہے کہ موقع پرست لوگوں کی وجہ سے 1948 میں وہ بھی “ غدار” قرار پائے۔ ”
“مجیب الرحمان غدار تھا“
تاریخ پڑھی تو پتہ چلا ڈھاکہ سے لیکر کلکتہ تک جو شخص قیام پاکستان اور مسلم لیگ کے لئے سائیکل پر چندہ اکٹھا کرتا تھا اس کا نام تھا شیخ مجیب الرحمان !
مجھے پڑھایا گیا”حسین شہید سہروردی غدار تھا ، تاریخ میں لکھا ھے موجودہ پاکستان سے بڑے صوبے متحدہ بنگال کی وزارت اعلی کو چھوڑ کر اسمبلی سے قیام پاکستان کا بل منظور کرانے والا شخص تھا حسین شہید سہروردی!
میں نے سنا سندھو دیش کا نعرہ لگانے والا جی ایم سید غدار تھا ۔ تاریخ کہتی ھے 1946 میں سندھ اسمبلی میں قرارداد پاکستان پیش اور منظور کروانے والا شخص تھا جی ایم سید!
مجھے کہا گیا اکبر بگٹی غدار تھا
بلوچستان کی مٹی گواہ ھے 12 سال کی عمر میں بلوچستان کے جرگے سے پاکستان کے حق میں فیصلہ کروانے والا شخص تھا
نوابزادہ محمد اکبر خان بگٹی تھا ۔ ان کی کوششوں سے ہی بلوچستان پاکستان میں شامل ہوا۔
کہاں تک سنوگے •••••••••••
ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے قومی ہیرو تھے مگر 2004 میں ایک ڈکٹیٹر نے بہترین قومی مفاد میں اس قومی ہیرو سے قومی نشریاتی چینل پر معافی منگوائی. وہ اخر عمر تک اپنے گھر میں نظر بند رہے۔ اور آخر کار پاکستان کا محسن منوں مٹی تلے جا سویا۔ اور
•••••••اب عمران خان کو بھی راستے سے ہٹانے کے لیے ملک کے مقتدرہ اور اشرافیہ نے میڈیا کے ساتھ مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا۔سنایا کچھ جاتا ہے اور حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ؟
عوام اب باشعور ہو چکی ہے۔
اس لیے یہ حربہ تو مکمل ناکام ہو گیا ہے•••
اب سب سے بڑے “غدار” باچا خان جو اصل میں سچ مچ کے خدائی خدمتگار تھے ان کا زکر بھی ہو جائے۔
جاری ہے 👇
“میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔”
- @Kasim_Khan_1999
#FreeImranKhan
ایک صوبے کے وزیرِاعلیٰ کیساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ عدالتی احکامات، چیف جسٹس آف پاکستان کو کال کرنے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات، وزیرِاعظم کو آگاہ کرنے اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے قراردادیں پاس کرنے کے باوجود، ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو خان صاحب سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ میں نے تمام تر آئینی و قانونی راستے اختیار کیے تاکہ دنیا کو دکھا سکوں کہ پی ٹی آئی کیلئے پُرامن احتجاج ہمیشہ آخری آپشن رہا ہے۔“
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی
@SohailAfridiISF
#ملاقات_سے_کیوں_ڈرتے_ہو
یہ وہ بندہ ھے جس نے پاکستان میں خوشامد، رشوت، منافقت، جھوٹ کرپشن، دھوکہ بازی، بد تمیزی، مخالف عورتوں کو گالی گلوچ، منی لانڈرنگ، لفافہ کلچر لوٹ کھسوٹ کی بنیاد رکھی اور پاکستان سے جمہوریت ،شرافت اور معیشت کا جنازہ نکال دیا۔
اب یہ جب تک زندہ ھے فارم 47 کی مدد کے سوا الیکشن نہیں جیت سکتا۔
جب تک عمران خان صاحب کی رہائی نہیں ہو جاتی اس ویڈیو کو روز شئیر کیا جائے گا۔
حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ، سقوطِ ڈھاکہ اور ہماری تاریخ کے تلخ حقائق
حمود الرحمٰن کمیشن جولائی 1972 میں حکومتِ پاکستان نے قائم کیا، جس کی سربراہی چیف جسٹس حمود الرحمٰن نے کی۔ اس کمیشن کا مقصد پاک فوج کے مظالم اور 1971 کی جنگ کے دوران کے حالات کا مکمل جائزہ لینا تھا، بشمول وہ عوامل جن کی وجہ سے مشرقی ہائی کمان کے کمانڈر نے اپنی کمان میں موجود مشرقی دستے کی افواج کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔
کمیشن کے پہلے حصے میں پاک فوج کے مشرقی پاکستان میں تعینات جرنیلوں اور ان کے ماتحت فوجی جوانوں کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ذکر کیا گیا۔ اس میں جنرل نیازی کی پان سمگلنگ، ریپ، کوٹھے چلانے والی خواتین سے جنسی تعلقات اور انہیں بطور مخبر استعمال کرنے جیسے معاملات سامنے آئے۔ مزید برآں، مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے رشوت لے کر فیصلے کرنے اور میجر جنرل جمشید سمیت مختلف جرنیلوں اور سینئر افسران کے کروڑوں روپے مشرقی پاکستان کے بینکوں سے لوٹ کر مغربی پاکستان منتقل کرنے کا ذکر بھی شامل تھا۔
کمیشن نے ان سینئر فوجی قیادت کے ان غیر قانونی کاموں پر کھلے عام ٹرائلز اور سزاؤں کی سفارش کی، کیونکہ یہ سقوطِ ڈھاکہ سے قبل مشرقی پاکستان میں حالات کی خرابی کی بڑی وجوہات میں شامل تھے۔ دوسرے حصے میں پاک فوج کے مظالم کے کچھ واقعات بیان کیے گئے، جن میں 1971 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کی بھاری اکثریت کے باوجود جنرل یحییٰ خان کے حکم پر اسمبلی کا اجلاس مؤخر کرنا، عوامی لیگ کی مسلح بغاوت کی بنیادی وجہ بنا۔
اس بغاوت کو ختم کرنے کے لیے پاک فوج نے 25 مارچ کی شب بدنامِ زمانہ آپریشن سرچ لائٹ کا آغاز کیا۔ اس آپریشن میں قتل و غارت، آتش زنی، دانشوروں اور پیشہ ور افراد کا قتلِ عام، مشرقی پاکستان کے فوجی افسران کا قتل، کاروباری افراد کا صفایا، ہندو اقلیتوں کی نسل کشی، اور بے شمار بنگالی خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی جیسے واقعات پیش آئے۔ اس دوران، ہزاروں افراد کو اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ جنگ کے اختتام تک جاری رہا۔
25 مارچ کی رات اسلحے اور بارود کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے دو ہاسٹلز پر مارٹر گولے برسائے گئے، جس سے سینکڑوں طلبہ ہلاک ہوئے۔ پاک فوج کے جونیئر افسران نے لوٹ مار، فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے عوامی قتلِ عام، بنگالی افسران اور عام لوگوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے اغوا اور قتل کرنے جیسے سنگین جرائم انجام دیے۔
کمیشن کے تیسرے حصے میں پاک فوج کی سینئر قیادت کی بزدلی، ناقص حکمت عملی، اور غلط فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا گیا۔ جنرل نیازی کی دفاعی ناکامی، میجر جنرل م رحیم کی مکتی باہنی کے خوف سے اپنے ہی فوجیوں کو چھوڑ کر بھاگنے کی بزدلی، میجر جنرل باقر صدیقی کی بار بار ہتھیار ڈالنے کی درخواست اور غداری جیسے معاملات کمیشن کی رپورٹ میں شامل کیے گئے۔
کمیشن کے چوتھے حصے میں سقوطِ ڈھاکہ کی بنیادی وجوہات بیان کی گئیں، جن میں جنرل یحییٰ کا اسمبلی اجلاس مؤخر کرنا، فوجی آپریشن کا آغاز، شیخ مجیب الرحمٰن سے مذاکرات میں ناکامی، عوامی لیگ کے امیدواروں کا غیر شفاف انتخاب، اور سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکامی جیسے سنگین فیصلے شامل تھے۔ ان تمام عوامل کے باوجود، پاکستان کے اتحادی ممالک کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمٰن سے مذاکرات نہ کرنا اور ہندوستان کی مداخلت کو کم تر سمجھنے کی وجہ سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔
رپورٹ کے آخر میں جنرل نیازی کی بزدلی کی انتہا کو نمایاں کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ ہتھیار ڈالنے کا کوئی باضابطہ حکم نہیں تھا اور وہ مزید دو ہفتے تک لڑ سکتے تھے، لیکن اس کے باوجود ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے گئے، جو آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔
آخر میں، کمیشن نے قرار دیا کہ پاکستان کی شکست کی بنیادی وجہ پاک فوج کی سینئر قیادت کی اخلاقی گراوٹ اور جرات کی کمی تھی۔ مسلسل دو بار مارشل لا لگنے کے نتیجے میں فوجی افسران بڑے پیمانے پر غیر قانونی زمینوں پر قبضہ، جائیدادیں بنانے، اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے، جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جنگی حوصلہ ختم ہو چکا تھا۔
کمیشن نے جنرل یحییٰ خان، جنرل نیازی، اور جنرل خداداد کو اس سانحے کے سب سے بڑے مجرم قرار دیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی
@ProfessorPTI