بانی وقائدتحریک جناب الطاف حسین کا تاریخی انٹرویو جو 1990 میں PTV پر نشر ہوا۔ اس انٹرویو میں قائدِتحریک جناب الطاف حسین نے رئیل ازم اور پریکٹیکل ازم کا آفاقی نظریہ عوام کے سامنے پیش کیا
اس انٹرویو نشر کے ہونے کے ساتھ ہی قائدِتحریک اور اُن کی جماعت کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا
یہ دہشتگردی ختم کرنے نہیں آئے پی ٹی آئی اور ان کے جھوٹے نظریات کے خلاف کھڑے پاکستانی شہریوں کو ختم کرنے آئے ہیں۔ ان کے اس درندانہ اقدام سے دہشتگردی کم نہیں ہوگی عوام کے دلوں میں نفرتیں بڑھیں گی۔ ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور ان کے ہینڈلرز اپنے ہاتھ معصوم پاکستانیوں کے خون سے رنگ رہے ہیں۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
اس انٹرویو میں امریکی عہدیدار پاکستان سے منرلز نکالنے کی بات کر رہی ہے۔ انکی پوری سٹڈی اور تیاری ہے۔
اب یہ کونسے منرلز نکالنا چاہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے آپ اس انٹرویو کا 40 سیکنڈ بعد والا حصہ سنیے۔
یہاں یہ خاتون ایک نیا ایکو سسٹم ڈویلپ اور تربیت یافتہ ورکرز اور ٹریننگ کی بات کر رہی ہیں۔ یہ چیزیں صاف بتاتی ہیں کہ اب امریکی کمپنیاں پاکستان سے ریئر ارتھ منرلز نکالنا چاہتی ہیں جن کو نکالنے سے بدترین تابکاری پیدا ہوتی ہے اور پورا ایکو سسٹم حتیٰ کہ پورا ماحول اور نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ امریکہ نے دنیا کے کئی ملکوں سے یہ منرلز نکالنے کو کوشش کی مگر وہاں کی عوام اور عالمی تنظیمیں راستے میں آگئیں۔ اب انکی نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود منرلز پر ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ امریکہ کو سپر پاور برقرار رہنے کے لیے یہ منرلز ہر حال میں چاہئیں اور یہی منرلز امریکہ میں وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود وہاں سے تابکاری خطرات کی وجہ سے نہیں نکالے جا رہے۔ امریکی عوام اسکی شدید مخالف ہے۔ مگر پاکستان میں اب یہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے باقی تفصیلات وی لاگ میں۔۔۔
@Saira_Banokhan جس دن الطاف حسین بھائی اور عمران خان ایک ہو کر ان 2 فیصد مراعات یافتہ طبقے اور ملک پر قابض عسکری قوتوں کا مقابلہ کریں گے وہ دن اس ملک کا سب سے مبارک دن ہوگا
بریکنگ نیوز 🚨جاوید چوہدری کا بڑا انکشاف 🔥🔥
ہمارا اپنا ایک سورس ہے وہاں پہ۔ اس نے کہا کہ عمران خان صاحب کو آگاہ کردیا گیا۔ عمران خان کو جب یہ پتہ چلا کہ وہاں KPK میں ایمرجنسی لگ چکی ہے، گورنر راج لگ چکا ہے اور ساتھ ہی سہیل آفریدی صاحب کی گورنمنٹ چلی گئی ہے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا تو عمران خان صاحب نے ہنسنا شروع کر دیا۔ اور کہا میرا سپاہی ڈٹ گیا لیکن یزید کے آگے جھکا نہیں۔
“اگر کراچی کے کارخانہ داروں سرمایہ داروں نے کراچی صوبہ کی حمایت کی تو ان کے کارخانے تباہ کردیں گے ان میں تالے ڈال دیں گے ۔انہیں دبئی لے جاؤ۔کراچی کے سرمایہ داروں صنعت کاروں تاجروں کارخانے داروں کے پاس وفد بھیج کر انہیں وارننگ دے دی ہے۔ “قادر مگسی.
Sindhu Desh in making.State is dead.Sindh doesn’t have a government.Karachi heading towards a civil war
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
آج مورخہ 11اکتوبر2026ء کو پاکستان کے واحد صوبہ خیبر پختونخوا (KPK) میں قائم منتخب جمہوری حکومت کے روشن جمہوری چراغ کو بھی گورنر راج اور ایمرجنسی کی طوفانی ہواؤں نے بجھا ڈالا
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
خبریں آرہی ہیں کہ حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنرراج یاایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرلیا ہےاور اس سلسلےمیں آج اسلام آباد میں اجلاس بلا لیا گیا ہے، میں ان خبروں پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکمرانوں کومتنبہ کرتاہوں کہ اگر آپ نےخیبر پختونخوا میں گورنرراج نافذ کیا یا ایمرجنسی لگانے کا کوئی بھی جارحانہ و ظالمانہ اقدام کیا تو آپ کا ایسا اقدام خاکم بدہن کہیں سانحہ مشرقی پاکستان کی طرح ایک نئے سانحے کو جنم دینےکا سبب نہ بن جائے۔لہٰذا میں حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور اس طرح کے کسی بھی ظالمانہ اقدام سے بازرہیں۔
حکمرانوں کوسمجھنا چاہیے کہ آج پورے ملک کے عوام خصوصاً نوجوان نسل بہت باشعور اوربیدار ہے، پہلے ملک میں ایک ٹی وی ہوا کرتا تھا اور عوام سے حقائق چھپائے جاتے تھے، آج ہرشخص کے ہاتھ میں ٹی وی ہے، سوشل میڈیا ہے، اے آئی ہے، آج کے عوام کوظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا۔
ملک کے کئی حصوں میں پہلے ہی آگ بھڑکی ہوئی ہے لہٰذا میں خبردار کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں گورنرراج یا ایمرجنسی جیسا ظالمانہ اقدام کرکے ملک میں مزید انتشار کی آگ نہ بھڑکائیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 482ویں فکری نشست سے خطاب
9 اکتوبر 2026ء