شہید میجر علی رضا کی بیوی کے دل کو چھو لینے والے الفاظ سنیں، پھر خود فیصلہ کیجیے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان آرمی کے جوان تنخواہ لینے کے لیے جان دیتے ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا علی صرف ایک نوکری کر رہے تھے , چند ہزار روپے کی تنخواہ کے لیے؟ کیا وہ اس لیے میدانِ جنگ میں گئے تھے کہ گھر میں بیٹھی اپنی بیوی، معصوم بچوں، بوڑھی ماں اور سارے خاندان کو صرف چند ہزار روپوں کے بدلے یتیم اور بے سہارا چھوڑ دیں؟
یہ سوچنے والوں سے پوچھا جائے کہ کیا کوئی شخص معمولی سی تنخواہ کے لیے اپنے گھر کا سکون، بیوی کی مسکراہٹ، بچوں کی شرارتیں، ماں کی دعائیں اور اپنی پوری دنیا پیچھے چھوڑ کر موت کے منہ میں جا کھڑا ہوتا ہے؟ کیا کوئی باپ اپنے بچوں کو یتیم کر کے، کوئی شوہر اپنی بیوی کو بیوہ بنا کر، اور کوئی بیٹا اپنی ماں کی آنکھوں میں آنسو بھر کر صرف تنخواہ کے لیے شہید ہوتا ہے؟
نہیں! پاکستان کے جوان فوج تنخواہ کے چند ہزار روپوں کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ نہیں چڑھاتے۔ وہ شادی شدہ ہوتے ہیں، چھوٹے چھوٹے بچوں کے باپ ہوتے ہیں، گھر کے واحد سہارے اور اپنی بوڑھی ماؤں کی آنکھوں کا نور ہوتے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی شہادت کے بعد گھر میں کس قدر ویرانی پھیل جائے گی ۔ بیوی بیوہ، بچے یتیم، ماں کا دل ٹوٹ جائے گا اور پورا خاندان بے سہارا ہو جائے گا۔ پھر بھی وہ بھرپور ہمت، جذبے اور وطن کے لیے میدانِ جنگ میں کھڑے ہو کر شہادت کو گلے لگاتے ہیں۔
یہ قربانی نوکری یا تنخواہ کی نہیں، بلکہ وطن سے گہری محبت، مضبوط ایمان، بے مثال ہمت اور ایک بلند ترین جذبے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص صرف وردی پہننے یا معمولی تنخواہ کے لیے اپنے پیاروں کو چھوڑ کر شہادت جیسا عظیم قربانی نہیں قبول کرتا۔ یہ عقیدت ایمان، بہادری، ملک کی حفاظت کی ناقابلِ تسخیر وابستگی اور سب سے بڑھ کر پاکستان سے بے لوث محبت سے جنم لیتی ہے۔
Check out this legend! Jayant Kumar, has been crowned Global Champion at the Harvard Crimson Business Competition (HCBC), one of the most prestigious pre-college business competitions in the world judged by C-suite executives from Fortune 500 companies. Competing against more than 1,000 teams from around the world, most fielding teams of up to four members, Jayant from Karachi Grammar School competed entirely solo and made history as the first Pakistani student to ever qualify for the Global Final of this competition. Then he went all the way and won it!
Which country in the world has ever hosted 4 million Afghan refugees apart from Pakistan? No one! (And that too for 4 decades.)
How many Afghan refugees were accepted by India? 15,800.
4 million vs. 15,800.
#Fact
خاتون کو بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم شہید
اسلام آباد میں انسانیت، جرات اور فرض شناسی کی ایک دردناک مثال سامنے آئی، جہاں پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم ایک نامعلوم خاتون کو مبینہ اغوا کی کوشش سے بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایونیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل کے قریب ایک خاتون کو شدید پریشانی کی حالت میں دیکھا۔ موٹرسائیکل سوار مبینہ طور پر خاتون کا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ صورت حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے گروپ کیپٹن عاصم نے ایک ذمہ دار اور باہمت شہری ہونے کا ثبوت دیا۔ وہ فوراً اپنی گاڑی موڑ کر واپس آئے اور موٹرسائیکل کے قریب جا کر رکے۔
عینی حالات کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم کی مداخلت پر خاتون فوراً موٹرسائیکل سے الگ ہو کر ان کی گاڑی کی دوسری جانب آ گئی اور یوں خود کو محفوظ کر لیا۔ اسی دوران مبینہ ملزم سعد نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ تلخ کلامی شروع کر دی، جو دیکھتے ہی دیکھتے فائرنگ میں تبدیل ہو گئی۔ ملزم نے قریب سے فائر کیے، جس سے گروپ کیپٹن عاصم شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
پولیس کے مطابق خاتون کے ابتدائی بیان میں بتایا گیا ہے کہ مبینہ ملزم اس کا دفتر میں ساتھی ملازم تھا۔ اس نے خاتون کو دفتر لے جانے کی پیشکش کی، لیکن راستے میں گاڑی کا رخ تبدیل کر کے اسے کسی اور مقام پر لے جانے کی کوشش کی۔ خاتون کی مزاحمت کے دوران ہی گروپ کیپٹن عاصم وہاں پہنچے، بروقت مداخلت کی اور اسے ممکنہ خطرے سے محفوظ کر لیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
گروپ کیپٹن عاصم نے اپنی جان دے کر ایک بے سہارا خاتون کی جان اور عزت کا تحفظ کیا۔ ان کی یہ قربانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ معاشرے میں ایسے بہادر اور باکردار لوگ موجود ہیں جو دوسروں کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتے۔
شہید گروپ کیپٹن عاصم اپنے سوگواران میں اہلیہ اور دو کم سن بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی شہادت نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، جبکہ ان کی جرات، فرض شناسی اور ایثار ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
"The Treatment of Iran’s World Cup Team Exposed the West's and FIFA's Double Standards"
Iran’s captain was asked about LGBT rights. So, why then wasn’t the U.S. team captain asked about the U.S. bombing of the girls' school in Minab, asks @fbhutto ?
https://t.co/68qnQgYoTI
His Highness Prince Faisal bin Farhan, Minister of Foreign Affairs, addresses the Israelis:
You are cutting off aid to the people of Gaza, bombing them, and claiming that they wish to leave voluntarily.
There is no such thing as a “voluntary exit” for the people of Gaza. Any form of the people of Gaza leaving the Strip constitutes forced displacement, and this displacement is categorically rejected.
End!