We shouldn’t look to Pak proper media reg periphery.
While one understands their constraints, parroting official line after sponsored tours is inexcusable.
This is internal colonialism. They manufacture consent & make the state’s version “common sense”.
Let’s not engage them.
اپیل بلوچ راج سے ۔
ایسے تمام اکاؤنٹس جو بلوچ دشمنی پر مبنی نفرت انگیز اور جھوٹے پروپیگنڈے کو فروغ دیتے ہیں، ان کے ساتھ کسی قسم کی انگیجمنٹ نہ کریں۔ انہیں جواب دینے کے بجائے بلاک کریں۔ جھوٹے پروپیگنڈے کو توجہ دینا اسے مزید پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔
جن جن بلوچ خاندانوں کے بچوں کی لاشیں یہ سی ٹی ڈی اور ایجنسیوں کے لوگ تشدد کر کے کبھی پنجگور تو کبھی کراچی میں مقابلہ بتا کر پھینک رہے ہیں، اس لاش کو اٹھائیں، اس مسئلے کو اٹھائیں، اپنی علاقوں میں نکلیں، سوشل میڈیا پر چیخیں، ویڈیو بنائیں یا الفاظ لکھیں، لیکن اپنا مسئلہ اٹھائیں۔
پاکستان ہماری شناخت بہت خاموشی سے مٹانا چاہ رہا ہے لیکن ہماری آواز اور سوشل میڈیا میں پڑا ہوا ڈیٹا ہمیں مٹنے نہیں دے گا۔
اپنی طاقت اور اپنے حقوق کو پہچانیں۔
Rana Sanaullah, Pakistan's former Interior Minister, now an advisor to the PM, just spoke at the Asma Jahangir conference. He suggested that Balochistan Liberation Army supporters have sacrificed their human rights so can be forcibly disappeared. Much of the crowd walked out.
An infrared camera reveals a hidden world: ice, hot water, and flames glow by temperature,and materials flip roles. Some things opaque to our eyes are transparent in IR, while shiny metals block it. Seeing heat rewrites “see-through.”
بلوچستان میں ظلم کی ایک نئی اور خوفناک شکل سامنے آ چکی ہے۔ وہ جبر جو برسوں سے بلوچ نوجوانوں اور مردوں تک محدود تھا، اب بلوچ خواتین تک پھیل چکا ہے ، حتیٰ کہ ایک آٹھ ماہ کی حاملہ عورت بھی اس ریاستی درندگی سے محفوظ نہ رہ سکی۔
یہ مح�� ناانصافی نہیں، بلکہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف پانچ روزہ مزاحمتی مہم کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ مہم صرف احتجاج نہیں، بلکہ جبر کے خلاف اجتماعی مزاحمت کا ایک مضبوط باب ہے۔
آپ اس مہم کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟
دن اول: آن لائن پٹیشن
•جاری کی جانے والی آن لائن پٹیشن پر دستخط کریں۔
•پٹیشن کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچائیں اور شیئر کریں۔
دن دوم: ویڈیو پیغامات اور بیانات
•لاپتہ بلوچ خواتین کے اہلِ خانہ، طلبہ، صحافی، لکھاری اور کارکنان اپنی آواز بلند کریں۔
•ویڈیوز، تحریری بیانات، تصاویر یا مختصر پیغاما�� کے ذریعے سچ کو دنیا کے سامنے لائیں۔
دن سوم: فن بطور مزاحمت
•شاعری، نثر، خاکے، پینٹنگز، موسیقی، کشیدہ کاری یا کسی بھی تخلیقی فن کے ذریعے مزاحمت کا اظہار کریں۔
•فن کو یادداشت، احتجاج اور امید کا وسیلہ بنائیں۔
دن چہارم: علامتی اور پُرامن احتجاج
•پُرامن احتجاج، خاموش واک، علامتی مظاہرے یا سوشل میڈیا پر اجتماعی ایکشن کریں۔
•پلے کارڈز، تصاویر اور پیغامات کے ذریعے ریاستی جبر کو بے نقاب کریں۔
دن پنجم: اختتامی ویبینار
•اختتامی ویبینار میں شرکت کریں۔
•لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ، کارکنان اور بلوچستان بھر سے اُبھرنے والی آوازوں کو سنیں اور آگے پہنچائیں۔
جبر کے خلاف مسلسل مزاحمت جاری رکھیں، کیونکہ یہی بظاہر ناتواں آوازیں لمحہ بہ لمحہ ظلم کی دیواروں کو کھوکھلا کرتی ہیں، اور ایک دن ظالم اپنے ہی ظلم کے انجام کو پہنچتا ہے
#SaveBalochWomen
#EndEnforcedDisappearences
اسلام آباد سے ایک صحافی دوست نے یہ تصویر شیئر کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے دروازے پر آویزاں کی گئی ہے۔ تاہم بلوچ حقوق کے لیے سر��رم کارکن اس تصویر میں دی گئی معلومات سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس لڑکی کا نام نسرین بلوچ ہے، جنہیں 22 نومبر کو حب چوکی سے مبینہ طور پر سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا۔۔۔
آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے اور یہ دن مجھے اپنی زندگی کے ایک نہ بھولنے والے اور انتہائی تکلیف دہ واقعہ کی یاد دلاتا ہے اور اسی دن 2019 میں پاکستانی اغواء کار دھشتگرد فوج نے مجھے اغوا کیا تھا اور 17 دن تک بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بھکر کے صحرا میں نیم مردہ حالت میں پھینک دیا تھا۔
جرم صرف یہ تھا کہ میں نے PTM کے موقف کی حمایت کی، اور پشتون و بلوچ اقوام کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف آواز اٹھائی۔
آج بھی میں اپنے اسی مؤقف پر قائم ہوں اور آواز دبانے کی ہر کوشش کے باوجود�� میں مرتے دم تک انسانی حقوق کی پامالیوں اور مظلوموں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا
#InternationalHumanRightsDay
ایک مرتبہ نہیں، بلکہ دس بار بھی ہم اس ٹویٹ کو پڑھیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ کیا واقعی ایک معزز شہری اور ایک قانون دان کو صرف ایک رائے یا ایک اختلافی جملے پر سات سال کی سزا دی جا سکتی ہے؟
اگر ایسا ہے، تو سوال یہ نہیں کہ انصاف کہاں ہے، سوال یہ ہے کہ ریاست کس سمت جا رہی ہے؟؟؟
یہ معاملہ صرف ایک فرد کا مقدمہ نہیں، یہ اس نظام کی جھلک ہے جہاں قانون کو ڈھال نہیں، ہتھیار بنا دیا گیا ہے،جہاں اختلافِ رائے کو خطرہ سمجھا جاتا ہے،
اور جہاں انسانی حقوق کی بات کرنا بھی جرم تصور ہونے لگا ہے۔
ایمان مزاری کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اُن آوازوں کا ذکر کرتی ہیں جنہیں برسوں سے گمشدگی کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے۔وہ ان مظلوموں کے لیے حوصلہ ہیں، اور اسی حوصلے کو خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایمان اور ان کے شوہر پر گزرنے والی آزمائش صرف قانونی نہیں، انسانی ہے۔ان پر ہونے والا دباؤ، ان کے اہلِ خانہ کی پریشانی، دلوں پر گرتا ہر لمحہ، یہ سب بہت بھاری ہے۔
شاید کوئی نہیں چاہتا تھا کہ وہ ایک پُرامن اور آرام دہ زندگی سے اٹھ کر اتنی کٹھن راہوں تک پہنچیں، لیکن اگر اس کی قیمت خاموشی اور بے حسی ہو، تو ایک باشعور انسان کے لیے یہ قیمت قبول کرنا ناممکن ہے۔
ایسے وقتوں میں فیض کے لفظ امید بھی ہیں اور احتجاج بھی:
“ہم پر تطاولوں کے ستم آج بے شمار
لیکن اسی ستم میں ہے آوازِ حق کی جَوٹ”
جو لوگ حق اور اصول کی بات کرتے ہیں،
چاہے وہ BYC کے رہنما ہوں، PTM کے،
یا ایمان اور حادی جیسے لوگ، آج اسی وجہ سے جبر کا سامنا کر رہے ہیں کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اور یہی حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ان پر گزرنے والی آزمائش صرف ان کا ذاتی غم نہیں یہ ہم سب کے اجتماعی شعور کا امتحان ہے۔ہر جبر کے م��ابلے میں آواز بلند رکھنا،اور حق کا پرچم تھامے رکھنا ، یہی سب سے ضروری ہے۔
@ImaanZHazir
لاپتہ بھائی کی تلاش میں سرگرداں بلوچ طالب علم گرفتار
محمد جہانزیب اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں میں دھکے کھا رہے تھے۔
اُن کے بھائی سعید اللہ بلوچ کو چھ ماہ قبل موٹروے اسلام آباد ٹول پلازہ پر بس سے اُتار کر لاپتہ کیا گیا، درجنوں مسافر نے دن کے وقت وہ منظر دیکھا۔
دونوں بھائی اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔
جہانزیب نے مقدمے کے اندراج کے لیے موٹروے کے ساتھ جڑے اسلام آباد کے تھانہ نون سے رجوع کیا۔ شنوائی نہ ہونے پر عدالت میں 22-A کی درخواست دائر کی تاکہ مقدمہ درج کیا جا سکے۔
عدالتی حکم پر بھی عمل نہ ہوا۔ اُن کے وکیل ہادی علی چٹھہ آج اپنے کیس میں پھنسے ہوئے تھے۔
محمد جہانزیب نے میڈیا کے نمائندوں کو اپنے کیس کی جانب متوجہ کیا۔
پھر واپس جانے لگے تو پولیس نے حراست میں لینے کی کوشش کی۔ بھاگ کر واپس عدالتی حدود میں آ گئے اور ویڈیو بیان دیا۔
اس کے بعد متعدد وکلا نے اُن کی گرفتاری روکنے کے لیے باری باری کئی عدالتوں سے چکر لگائے۔
ایک جج نے وکلا کو بتایا کہ اُن کی حدود کا کیس نہیں، دوسرے جج نے کہا کہ عدالت کا وقت ختم ہو چکا ہے اس لیے وہ نہیں سُنیں گے۔
کچہری سے وکلا کے درمیان پولیس سے بچتے ہوئے نکلے مگر کچھ دور اہلکاروں کی گاڑی نے راستہ روک کر جی الیون مرکز کے قریب سے گرفتار کر لیا۔
تاحال مقدمے کی ایف آئی آر سامنے نہیں آئی کہ کس الزام پر حراست میں لیا گیا۔