یار دیکھو بات یہ ہے کہ پچیس کروڑ آبادی کے لئے اول تو وسائل ہی پورے نہیں، اور جو ہیں انکا بڑا حصہ مراعات یافتہ اداروں کے بجٹ، سبسیڈیز اور افسروں ججوں، جنریلوں اور وزیروں کی مراعات میں لگ جاتا ہے،عوام کی افلاس اور جہالت کو کم کرنے کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں، ایسے ملکوں میں عوام پہ قابو پانے/رکھنے کے لئے دو طریقے استعمال کئے جاتے ہیں، پہلا، آمرانہ انداز حکومت اور ظالمانہ قوانیں کے ساتھ ، دوسرا عوام کی توجہ انکی تباہی کے اصل زمہ داروں سے ہٹانے کو انکو مذہبی، لسانی، علاقائی تعصبات میں الجھا دیا جاتا ہے۔۔۔تو اگر پاکستان میں یہ سب ہو رہا ہے تو تعجب کیسا، یہی طریقے ہیں انکے پاس ،یہی استعمال کر رہے ہیں، کرتے رہیں گے-
کیا ہوا جو پیٹرول مہنگا ہوا، یہ تو عوام کے لیے ہے، اپنے لیے تو سسٹم ایسے کام کرتا ہے
👇🏼
اسلام آباد ضلع کے ججوں اور ہائیکورٹ کے افسران کے لیے ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن الاؤنس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ضلعی عدالتوں کے ججوں اور گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کے لیے ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن الاؤنس میں اضافے کے نوٹیفکیشن کے مطابق:
گریڈ 22 کے افسران کے لیے ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن الاؤنس 2 لاکھ 50،
گریڈ 21 کے افسران کے لیے ایک لاکھ 95 ہزار،
گریڈ 20 کے افسران کے لیے ایک لاکھ 75 ہزار۔
نئے الاؤنسز کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہو چکا ہے۔
گریڈ 19 کے لیے ڈیڑھ لاکھ، اور گریڈ 18 کے لیے ایک لاکھ جبکہ گریڈ 17 کے لیے 60 ہزار روپے الاؤنس۔
زندگی جہنم ہے
اُس مزدور، اُس ریڑھی والے، اُس غریب، اُس عام شہری کی جو تقسیم ہند کے بعد اُس پار ہے یا اِس طرف۔
زندگی گَلزار ہے
حکمرانوں، اُن کے کاسہ لیسوں، اشرافیہ، سول و فوجی کریٹس کی، خواہ سرحد کی اُس طرف ہیں یا اِدھر۔
اور اِس پر بولتے جو چند ہیں
سب شرپسند ہیں
دُشمن کے ایجنٹ ہیں
چاہے انڈیا میں ہوں یا پاکستان میں۔
جب پیرا فورس کام کرتی ہے تو وہ یہ نہیں سوچتی کہ غریب ہے، بوڑھا ہے یا حافظ ہے: ڈی جی پیرا فورس کی قائمہ کمیٹی میں گفتگو
جنابِ عالی، محترم ڈی جی صاحب....!!!
وہ جو خوانچہ فروش ہوتے ہیں، وہ فٹ پاتھ، گرین بیلٹ یا سرکاری جگہ پر بزنس نہیں بلکہ دیہاڑی کما رہے ہوتے ہیں، دیہاڑی کمانے کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک دن کے لیے بچوں کا کھانا کمانا،
البتہ، جہاں تک اصول و ضوابط کی بات ہے، تو حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ جو لوگ ریڑھی بان یا خوانچہ فروش ہیں، اُن کے لیے متبادل روزگار کا بندوبست کرے،
جہاں تک پیرا فورس کی کریڈیبلٹی کی بات ہے، تو آپ مارکیٹس میں جائیں، پوچھیں، پتا کریں۔
بدتمیزی، بدتہذیبی اور کرپشن کی جو سیڑھی کسی اور سرکاری ادارے نے ایک دہائی میں طے کی ہے، پیرا فورس دنوں میں طے کر رہی ہے
وزیر اعظم کا ’اپنا گھر‘ ایک نیک نیتی سے بنائی گئی اسکیم ہے۔ 3.2کھرب روپے کا اعلان، پانچ فیصد مارک اپ، بیس سال کی مہلت، ایک غریب ملک میں یہ کسی کرشمے سے کم نہیں۔ مگر بینک اس اسکیم کو سبوتاژ کر رہے ہیں، ان عیاش بینکوں کو صراط مستقیم پر لانے کی ضرورت ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں
https://t.co/fqw5rxwPqd
۔قصور کس کا وزیراعظم کی لون اسکیم کا بینک کا یا ہم عوام کا
اس ملک میں حکومتی اسکیمز وفاقی ہوں یا صوبا ئی سے فائدہ ایلیٹس کو ہوتا چاپلوس قوم کو ہوتا یا پھر مانگ کر کھا نے والوں کو محنت سے کما کر گزر بسر کرنے والوں کے لیے اس ملک میں کچھ نہیں ہے
#ShahbazShareef
پہلی بار کسی حکومتی اسکیم میں شامل ہونا چاہا وزیراعظم کی لون اسکیم سے اپنے ذاتی گھر بنانے کے لیے قریبی (میزان بینک ڈاک خانہ روڈ ٹوبہ ٹیک سنگھ) ہے گئی تو وہاں سٹاف میں سے مسٹر عدنان نے کہا کہ ایپلی کیشنز پروسیڈ نہیں ہو رہیں ان پے کوئی کام نہیں ہو رہا سو آ پ اپلائ نہیں کر سکتیں۔
حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
"تم سے پہلی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کے جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور کوئی غریب جرم کرتا تو سزا پاتا"
ستھرا پنجاب موجودہ حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس سے یقینی طور صفائی کا نظام بہتر ہوا ہے مگر دوسری جانب اس منصوبے کے پہلے سال میں ہی صوبہ بھر میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج ہورہے ہیں، اربوں کی کرپشن، کک بیکس، ملازمین کے استحصال کی خبریں روز میڈیا کی زینت بن رہی ہیں اگر فلیگ شپ منصوبے کا پہلے سال یہ حال ہے تو آگے چل کر کیا ہوگا؟
کہتے ہیں تین بادشاہوں میں بحث چھڑ گئی کہ سب سے بہترین سلطنت کس کی ہے۔ فیصلہ ہوا کہ تینوں ایک دوسرے کی ریاستوں کا دورہ کریں گے۔
پہلا بادشاہ اپنے مہمانوں کو بلند و بالا محلات، شاندار عمارتیں اور وسیع سڑکیں دکھاتا رہا۔ ہر چیز متاثر کن تھی، لیکن سڑکوں کے کنارے استقبال کے لیے کھڑے لوگوں کے چہروں پر نہ خوشی تھی، نہ زندگی، بس ایک خاموشی تھی۔
دوسرے بادشاہ نے سرسبز باغات، خوبصورت نہریں، پھولوں سے بھرے میدان اور شاندار مناظر دکھائے۔ سب کچھ خوبصورت تھا، مگر لوگ وہاں بھی بے حس اور بے تعلق دکھائی دے رہے تھے۔
پھر تیسرے بادشاہ کی سلطنت آئی۔
نہ ویسے محلات تھے، نہ غیر معمولی عمارتیں۔
لیکن جیسے ہی وہ شہر میں داخل ہوئے، بازاروں میں رونق تھی، لوگ مسکرا رہے تھے، بچے کھیل رہے تھے، لوگ خوشی سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے تھے، اور ہر چہرے پر اطمینان دکھائی دے رہا تھا۔
یہ دیکھ کر دونوں بادشاہ خاموش ہو گئے۔
اور پھر آہستہ سے بولے:
سب سے عظیم سلطنت وہ نہیں جہاں عمارتیں خوبصورت ہوں… بلکہ وہ ہے جہاں لوگوں کے چہروں پر خوشی اور دلوں میں آزادی ہو۔
@yazdanifauzia ان لوگوں کے لیے رولز اور قابلیت ضروری نہیں ہیں۔ ہاتھ پڑتا ہو یہ ضروری ہے ۔ سی ایس ایس کے امتحان میں ایج ریلیکسیشن کے لیے نوجوان خوار ہوتے رہے پارلیمنٹ میں احسن اقبال مخالفت کی اور یہاں معمر خاتون ایک کے بعد ایک کرسی خاندانی کوٹہ ہے باقی حسد کوئی نہیں کرتا ایویں خوش فہمی ہوتی
ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا 'منصفانہ ٹرائل کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے'۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے انسدادِ دہ-شت گردی قوانین کو کس طرح منظم انداز میں پرامن اختلافِ رائے کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے
ایمنسٹی انٹرنیشنل
پاکستانی عوام کہتے ہیں کہ نوکری نہیں ملتی ملک میں روزگار نہیں ہے یہاں ایک معمر خاتون ایک ادارے سے ریٹائرڈ ہوئی ہے اور اسی دن اسے دوسری نوکری مل گئی ہے۔
خاتون وفاقی وزیر احسن اقبال کی بہن عائشہ حمیرا چوہدری ہیں جنکی ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل جلدی ریٹائرمنٹ کی درخواست منظور کرکے تین سال کے لیے ممبر فیڈرل پبلک سروس کمیشن تعینات کیا گیا ہے۔اس سے قبل وہ منسٹری آف کلائمٹ چینج میں بطور سیکرٹری تعینات تھیں۔