ہمیشہ گریٹر اسرائیل کے ساتھ ساتھ گریٹر پنجاب بھی لکھا کہ پنجابی کسطرح غاصب ہوا ہے میری تحریر سے بہت سے پنج عیبی خوش بھی ہونگے اور کچھ ناخوش
مگر سچ یہی ہے کہ پاکستان شاید نہ رہے مگر پنجابستان رہے گا اور یہی چاہتے تھے تو بنگلا دیش بنا جو انکے نکیل ڈال سکتے تھے وہ بنگالی تھے اگر آج وہ ہوتے تو پاکستان کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا افسوس سب نے ملکر بنگالی نکال دئیے 🙏🏻🙈👊
برطانیہ اور فرانس کے درمیان چلنے والی ایک ریل جو برطانیہ جا رہی تھی، اس میں مسافروں کی گنجائش کے مطابق تعداد پوری ہوچکی تھی، سوائے ایک نشست کے جو خالی رہ گئی تھی. دو افراد کے لیے مختص نشستوں پر ایک پر پہلے سے فرانسیسی خاتون براجمان تھی، اتفاق سے ریل گاڑی کی روانگی سے چند لمحے قبل ایک انگریز شخص ریل میں سوار ہوا اور اس خالی نشست پر فرانسیسی خاتون کے برابر میں بیٹھ گیا۔
فرانسیسی خاتون کے چہرے پر گہری تشویش کے سائے لہرا رہے تھے، وہ اپنی حرکات و سکنات سے مضطرب دکھائی دے رہی تھی، جب اس کے چہرے پر شدید تناؤ نمودار ہوا تو انگریز شخص سے رہا نہ گیا اور پوچھ بیٹھا، آپ کیوں اتنی پریشان ہیں ؟
اس خاتون نے ہچکچاتے ہوئے کہا "میرے پاس برطانیہ قانون کے مطابق مجاز رقم سے زیادہ رقم ہے ، جو 10,000 برطانوی پاؤنڈ بنتے ہیں. فرانس میں اتنی رقم رکھنا جرم نہیں ہے مگر برطانیہ میں تو یہ جرم ہے، نجانے وہاں میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟"
انگریز کہنے لگا، یہ تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، اتفاق سے میرے پاس چند سو پاؤنڈ ہیں، اگر آپ راضی ہوں تو، آپ رقم کو اس طرح تقسیم کریں کہ آدھی یعنی 5000 پاؤنڈ مجھے دے دیں، اور بقیہ آپ کے پاس رہیں گے، بالفرض اگر پولیس ہم دونوں میں سے کسی ایک کو گرفتار کر لے، تو پھر بھی نصف رقم بچ جائے گی. آپ اپنا لندن اور فرانس کا پتہ مجھے لکھ دیں تاکہ صورتحال کے مطابق آپ کو آپ کی امانت واپس کر دوں۔ فرانسیسی خاتون نے اسے اپنے گھر کا مکمل پتہ لکھ کر دے دیا۔
ریل سے اتر کر فرانسیسی خاتون پولیس کی تفشیشی رکاوٹوں کے درمیان سے بغیر کسی رکاوٹ کے تقریباً گزر ہی چکی تھی کہ، انگریز شخص پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے چیخا، "جناب ، اس عورت کو پکڑیں، یہ دس ہزار پاؤنڈ غیر قانونی طور پر لے کر جارہی ہے، اس رقم میں سے آدھی رقم میرے پاس ہے اور باقی آدھی اس کے پاس، میں برطانیہ کا محب وطن شہری ہوں، اور میں اپنے ملک کے ساتھ غداری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا. میں نے جان بوجھ کر اس کے ساتھ تعاون کیا تاکہ عظیم برطانیہ سے میری حب الوطنی ثابت ہو سکے۔
پولیس نے عورت کو پکڑ لیا، اور جب دوبارہ معائنہ کیا تو اس کے پاس سے رقم برآمد ہوگئی، اور اس نے برطانوی شہری کے الزامات کی بھی تصدیق کردی، بعد ازاں برآمد ہوئی رقم کو ضبط کر لیا گیا۔ انگریز شخص نے بھی اپنے پاس رکھے ہوئے پانچ ہزار پاؤنڈ نکال کر پولیس کے حوالے کردیئے.
پولیس افسران نے منی لانڈرنگ سے قومی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس شخص کا شکریہ ادا کیا، اور اس کے جذبہ حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کیا.
پولیس حکام نے خاتون کو دوسری ریل کے ذریعے واپس فرانس روانہ کر دیا۔
چند دن گزرے تو فرانسیسی خاتون نے دروازے پر دستک کے جواب میں جب دروازہ کھولا تو اسی انگریز شخص کو دروازے کے سامنے کھڑا پایا، حیرانی اور غصے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اس نے انگریز سے کہا کہ تم کتنے جھوٹے اور مکار شخص ہو جس نے دھوکے کے ساتھ میری رقم پولیس کو برآمد کروا دی، اور دیکھو تم کتنے بے شرم بھی ہو کہ ایک بار پھر میرے سامنے ڈھٹائی سے کھڑے ہو.
انگریز نے اس فرانسیسی خاتون کی کسی بھی ترش بات کا جواب دینے کی بجائے، اسے ایک لفافہ تھمایا جس میں 15000 پاؤنڈ تھے۔اور سپاٹ لہجے میں کہنے لگا، یہ آپ کی رقم اور ساتھ میری طرف سے انعام بھی ہے.
فرانسیسی عورت اس کی بات سن کر حیران رہ گئی کہ یہ کیا ماجرا ہے؟
انگریز نے کہا، "میم، آپ کا غصہ بجا ہے، لیکن اس وقت میں پولیس کی توجہ اپنے بیگ سے ہٹانا چاہتا تھا، جس میں تین ملین پاؤنڈ تھے، مجھے اس لیے یہ چال چلنی پڑی اور آپ کے دس ہزار پاؤنڈ جاتے رہے، جو میرے لیے ذرا بھی مہنگا سودا نہیں تھا......
کبھی کبھی چیخ چیخ کر حب الوطنی، قانون کی پاسداری اور غیرت کا دعویٰ کرنے والا شخص درحقیقت چور بھی ہوسکتا ہے.
😄😄
(انگریزی اور عربی مخلوط بلاگ کا اردو ترجمہ)
اپنے پیاروں کے جنازے دفنا کر واپس گھروں کو نہیں گئے، انہوں نے"عسکری جرگہ" میں بیٹھ کر اپنے پیاروں کی لاشوں کی قیمت وصول نہیں کی
سوشل میڈیا پر #گولی_کیوں_چلائی کا ماتم نہیں کیا
یہ کشمیری ہیں، پہاڑوں کی مانند ہیں یہ اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گے
تم ایسے کیوں نہ بن سکے پاکستانیو؟
جتنے بچے پاکستان میں ہر سال پیدا ہوتے ہیں اتنے پورے یورپ میں نہیں ہوتے۔ اِن بچوں کی تعداد ستّر لاکھ ہےہمارا بھی کوئی قابل ذکر عالم دین یہ نہیں کہتا کہ اندھا دھند بچے پیدا کرو لیکن نہ جانے کیوں ’نیانے جمنا‘ ہم نے اسلامی فرض سمجھ لیا ہے۔ نماز پڑھیں نہ پڑھیں، سچ بولیں نہ بولیں، پورا تولیں نہ تولیں، بچے ضرور پیدا کریں گے۔
https://t.co/62SCNE5mTy
سب سے پہلے تو یہ ویڈیو بلررر نہیں کرنی چاہئیے تھی۔ اُن جاہلوں کا چہرہ پوری دنیا کوُ دکھانا چاہئیے تھا۔ دوسرا ان کو جانے نہیں دینا تھا۔ سخت سزا اور جرمانہ کیا جاتا۔ اور کچھ دن ذلیل کیا جاتا تاکہ آئندہ جی بی کیا، کسی جگہ بھی وال چاکنگ نہ کرتے۔
اپنے ملک کو کوستے رہنا بس ایک فیشن سا بن گیا ہے. یہاں آپ وہ کام کریں جس میں آپ ماہر ہیں تو زندگی بن سکتی ہے. بہانے بنانے ہیں تو جتنے مرضی بنائیں مگر یہاں آپکے بقول غریب پاکستان میں بھائی، ایک غریب اور بےگھر عورت نے صرف بوٹ پالش کر کے 12 ارب کا جہاز خریدا ہے
عوام احتجاج کرتی ہے تو اُس میں عورتوں کی شرکت کا مطلب ایک مخصوص صحافی نما مخلوق کو بتانا ہوتا ہے کہ یہ کسی گروہ کا نہیں عوام کا احتجاج ہے۔ ایسے جاہل قانون داند (daand) تجزیہ کار یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ادارے چاہیں تو ایسی کوئی کاروائی نہ کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔ کچھ اینکر حضرات یہ تصویریں اپنے پراپیگنڈے کے لئیے تو استعمال کر لیتے ہیں مگر اپنے ٹی وی پروگراموں یا خبروں میں دکھانے کی ہمت بھی نہیں کرتے۔ یہ قانون داند اپنی پاکستان کی خواتین کو تو اظہارِ رائے کا پورا حق دینے کی بات کرتے ہیں مگر کشمیر کی خواتین کے احتجاج کو محض ہیومن شیلڈ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
Until every Pakistani understands and accepts one brutal truth, nothing will change in Pakistan.
Not the Army. Not the State. Not the economy. Not the judiciary. Not democracy. Not governance. Not society.
That truth is this:
As long as Pakistan’s Army Chiefs, Generals and High Command can misuse and abuse unchecked, unaccountable and unbridled power without consequence, Pakistan will remain hostage to fear, torture, brutal massacres, corruption, manipulation and eventual collapse. God forbid.
The cancer is not merely one man.
Not merely one Army Chief. Not merely one Asim Munir.
It is the criminal capture of the State by an institution meant to defend Pakistan, and its conversion into a political weapon against Pakistanis themselves.
Until those responsible are exposed, held accountable, prosecuted and severely punished under law, including under Article 6 and, where the law so provides, hanged, there will be no reform.
No reform of the Army’s mercenary mindset. No reform of the security state. No reform of governance. No reform of the economy. No reform of the courts. No reform of the executive. No reform of democratic institutions.
And most importantly, no reform of Pakistan’s broken social contract.
So the question is not:
“Are you with the Army or against the Army?”
That is the lie that has always been used to silence those who oppose the brutal suppression of the people’s will by Asim Munir and the Army High Command.
The real question is:
Are you with the criminal misuse and abuse of Army power that has destroyed Pakistan?
Or are you against it?
That is the question every Pakistani must answer. Honestly. Courageously. Publicly.
Because until we answer it, fight it and end this misuse and abuse of power, Pakistan will remain a country ruled by uniforms, fear and betrayal, instead of law, justice and the will of its people.
And there is only one way forward.
No miracles. No messiahs.
Only the power of the people.
Only people power!