قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
As my X account has been “throttled” acc to @grok - after a deal was done between @elonmusk & the Pakistani government to lift their x ban, this is a request to UK based Pakistanis an any of those who are able to read this tweet (unlike those in Pakistan) to please RT and help get this message out.
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔
اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔
تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔
توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خلافِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جارہے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔
میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
“پاکستانی عوام نے سمبڑیال انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ظلم کے ذریعے ان کا نظریہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کا فیصلہ وہی ہے جو 8 فروری کو انھوں نے سنایا تھا۔ اس الیکشن میں بھی بے شرمی سے دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا گیا۔
8 فروری کی انتخابات کی چوری میں قاضی فائز عیسیٰ، سکندر سلطان راجہ اور جنگل کا بادشاہ پوری طرح شامل تھے۔ انھوں نے اس وقت تک انتخابات ملتوی کروائے جب تک تحریک انصاف کو اپنی دانست میں کرش نہیں کر دیا گیا لیکن 8 فروری کو عوام خاموش انقلاب لے آئی۔
آٹھ فروری ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ جنھوں نے 8 فروری کا دو تہائی مینڈیٹ چرا لیا وہ ہمیں ضمنی انتخاب کیسے جیتنے دیتے؟ کیونکہ ان کو یہی ڈر ہے کہ میں جیل سے باہر نہ آ جاؤں۔لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ان کو اپنے اصل ٹھکانے لندن واپس چلے جانا چاہیئے۔
تحریک انصاف کو کرش کرنا “لندن پلان” کا حصہ تھا جو نواز شریف نے جنگل کے بادشاہ، قاضی فائز عیسیٰ اور سکندر سلطان راجہ کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
لندن پلان کے تحت ہی نو مئی بھی کروایا گیا۔ جس کا مقصد تحریک انصاف کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔ اسی لیے جنھوں نے پریس کانفرنس کر دی وہ آزاد ہیں جبکہ نظریے پر کھڑے رہنے والے آج بھی ناحق قید میں ہیں۔
اگر 9 مئی تحریک انصاف کی سازش تھا تو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہو جاتا لیکن سی سی ٹی وی چرا کر سب سے بڑا جرم کیا گیا اور پھر ایک دم سے ۱۰ ہزار ورکرز کو گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ تھا، جس کی آڑ میں تحریک انصاف کو کرش کیا گیا۔
پاکستان میں عدلیہ مکمل طور پر مفلوج ہے۔ قاضی فائز اور سکندر سلطان کے جانے کا وقت آیا تو چھبیسویں ترمیم کر کے کئی نئے فائز عیسیٰ پیدا کر دیے گئے۔ سکندر سلطان راجہ مدت ختم ہو جانے کے باوجود آج تک صرف دھاندلی کی سہولت کاری کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ اس ملک میں انصاف ناپید ہو چکا ہے۔ اب ہم سے مخصوص نشستیں بھی چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں کے ذریعے چھیننے کی کوشش میں ہیں۔
ہم اس حکومت سے کیا بات کریں جو خود دو NROs کی پیداوار ہے۔ اس حکومت میں بیٹھی کٹھ پتلیوں نے پہلے مشرف اور پھر باجوہ سے NRO لیا اور اپنی چوریاں معاف کروائیں۔ شہباز شریف “لیلے” کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی رسی سے لٹکا ہوا ہے، دور جاتا ہے تو اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حکمران اور چھبیسویں ترمیم والے جج کسی کو کیا ہی انصاف دے سکتے ہیں؟
دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو فراڈ کرے وہی اپیل سنے؟ میرے خلاف 4 جھوٹے فیصلے کروائے گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ آنے پر اڑ گئے، اس کے بعد سرکاری ججوں کا انتظار کیا گیا اور میری اپیل تب لگائی گئی جب سرکاری جج آ گئے۔
میرے تمام انسانی حقوق معطل ہیں۔ میں 2 سال سے قید میں ہوں جبکہ میری اہلیہ کو 14 ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے۔ عدلیہ انسانی حقوق کا دفاع نہیں کرتی کیونکہ وہ سب ایک کرنل سے ڈرتے ہیں۔ میں یہ سب ظلم صرف قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں اور کسی صورت ڈیل نہیں کروں گا۔
یہ بات کہ کوئی ڈاکٹر امریکا سے آئے ہیں سب افواہ ہے۔ جب ان پر دباؤ آتا ہے یہ مجھ سے بات چیت کا آغاز کر دیتے ہیں اور جب دباؤ ختم ہو جائے تو پھر سختی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہوئے انسان کیا کر سکتا ہے سوائے کتابیں پڑھنے کے مگر اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کو میری کتابوں سے بھی مسئلہ ہے۔
میرا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے کہ آپ کو تحریک انصاف کی ضرورت ہے مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اصل طاقت اسی کے پاس ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔ عوام کی اصل نمائندہ جماعت تحریک انصاف ہی عوام میں فوج کا تاثر بحال کر سکتی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی اس وقت زخمی ہے اور پاکستان پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت ہم سے کافی مضبوط ہے اور 700 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں، ہمیں بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ہو گا تاکہ بھارت کا مقابلہ کر سکیں-
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے میں جس میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں۔
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں-
جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ سرمایہ کاری کے لیے کوئی بھی کلیہ آزما لیں عوام کی منشاء کی حکومت جب تک قائم نہیں ہو گی یہ بس ایک خواب ہی رہے گا۔”
2/2