وہ دن یاد رکھو جس دن کسی بھی شخص نے نیکی کا جو کام کیا ہوگااسے اپنے سامنے موجود پائے گا،اور بُرائی کا جو کام کیاہوگا اس کو بھی (اپنے سامنےدیکھ کر) یہ تمنا کرے گاکہ کاش اس کےاور اس کی بدی کے درمیان بہت دُور کا فاصلہ ہوتا! اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب)سےبچاتاہے،
﴿سورۃ آل عمران، ۳۰﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں (”اٰمن الرسول” سے آخر تک) ایسی ہیں کہ جو شخص رات میں انہیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔
(صحیح بخاری،۴۰۰۸)
وہ دن یاد رکھو جس دن کسی بھی شخص نے نیکی کا جو کام کیا ہوگااسے اپنے سامنے موجود پائے گا،اور بُرائی کا جو کام کیاہوگا اس کو بھی (اپنے سامنےدیکھ کر) یہ تمنا کرے گاکہ کاش اس کےاور اس کی بدی کے درمیان بہت دُور کا فاصلہ ہوتا! اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب)سےبچاتاہے،
﴿سورۃ آل عمران، ۳۰﴾
اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا، اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اُس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے۔
سورۃ الطلاق
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو، مگر وہ ایک کتاب میں اُس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا۔ یقین جانو یہ بات اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔
سورۃ الحدید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کو مسجد قباء آتے پیدل بھی ( بعض دفعہ ) اور سواری پر بھی،
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے۔
(صحیح بخاری،۱۱۹۳)
اور(اے پیغمبرﷺ!)کسی بھی کام کےبارے میں کبھی یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کل کرلوں گا،ہاں (یہ کہو کہ)اللہ چاہے گاتو(کرلوں گا)۔اور جب کبھی بھول جاؤ تو اپنےرب کویادکرلو، اورکہو: مجھےامیدہےکہ میرارب کسی ایسی بات کی طرف میری رہنمائی کردےجوہدایت میں اس سےبھی زیادہ قریب ہو۔
﴿الکہف ۲۳،۲۴﴾
چنانچہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ اس کا بس ایسے لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان لائے ہیں، اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اس کا بس تو ان لوگوں پر چلتا ہے جو اسے دوست بناتے ہیں، اور اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
(النحل ، ٩٨-١٠٠)
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کی یاد نہ کریں، اور نہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ( درود ) بھیجیں تو یہ چیز ان کے لیے حسرت و ندامت کا باعث بن سکتی ہے۔ اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے، اور چاہے تو انہیں بخش دے“۔
(جامع ترمذی،۳۳۸۰)
ہر شخص کے آگے اور پیچھے وہ نگران (فرشتے) مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں ۔ یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔ اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کا ٹالنا
۱/۲
(اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے
سُورَةُ الزُّمَرِ - 53
اور جس بات کا تمہیں یقین نہ ہو، (اُسے سچ سمجھ کر) اُس کے پیچھے مت پڑو ۔ یقین رکھو کہ کان، آنکھ اور دِل سب کے بارے میں (تم سے) سوال ہوگا۔
﴿سورۃ الاسراء، ۳۶﴾
اور جس بات کا تمہیں یقین نہ ہو، (اُسے سچ سمجھ کر) اُس کے پیچھے مت پڑو ۔ یقین رکھو کہ کان، آنکھ اور دِل سب کے بارے میں (تم سے) سوال ہوگا۔
﴿سورۃ الاسراء، ۳۶﴾
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
قالَ النبی ﷺ: ہاتھ تین طرح کے ہیں:
(1) سب سے بلند الله کا ہاتھ ہے،
(2) اس کے بعد دینے والے کا ہاتھ ہے،
(3) اور سب سے نیچے مانگنے والے کا ہاتھ ہے.
لہٰذا جو زائد ہو وہ دے دو، اور اپنے نفس کے سامنے عاجز مت بنو (اس کا کہا مت مانو).
ابوداؤد 1649
(احمد 15985؛ حبان 3362؛ حاکم 1483)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)