ایکس کمپین!
راشد حسین بلوچ کی بازیابی کے لئے آواز اٹھانا صرف خاندان کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا انسانی و اخلاقی فرض ہے۔
آئیے 3 مئی کو اکٹھے ہو کر انصاف کے لیے آواز بلند کریں۔
#SaveRashidHussain
Baloch Students Organisation Azad has published its third series of booklets on the ongoing exploitative projects of the state and its partners in Balochistan. These exploitative projects are the source of the state’s plundering of the natural resources of Balochistan and have disastrous impacts on the lives of the local population.
These booklets are part of a series to raise awareness among the Baloch nation about the exploitation by the state and its partners in Balochistan.
Download the PDF of the booklet from the provided link below.
https://t.co/ttRgE8W2Pj
Writers in politics:
https://t.co/Stdal24K1Z
Ngũgĩ wa Thiong'o
Review by Shama Baloch
Baloch Students Action Committee
Colonial or imperial power always wants to dominate itself on the colonized people never mind it does it through different tactics or methods by making permanent imperialist domination…
بلوچستان میں کچھ ایسے بھی نوجوان لاپتہ ہے جن کے لئے آواز اُٹھانے والا کوئی بھی نہیں ہے۔گھر میں ضعیف ماں چھوٹے معصوم بچے ہے ۔ بطور بلوچ ہمارا فرض بنتا ہے ہم ہر ایک کے لئے آواز اُٹھائیں۔مراد بخش سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔
#EndEnforcedDisappearances
“On the one hand, enforced disappearances and extra-judicial killings are taking place at great pace; on the other, road accidents are enhancing the number of affected in Balochistan. Amidst all the chaos, the Baloch question their survival.”
My latest
https://t.co/S36uJMmEB1
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد نا پارہ غان بلوچ ڈیہہ ئنا غٹ لٹ و پُلی پروجیکٹ آتا سیریز نا ارٹمیکو چُنک کتاب "ریکوڈک معاہدہ و بلوچستان نا مڈی تا لٹ و پُل" چھاپ مننگ کن تننگانے و زوت تنظیم نا میڈیا سائیٹ آ شینک و تالان کننگ مرو-
بلوچ نوجوان استعماری سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے مجلس میں آگاہی سرکلز کا انعقاد کریں۔ بی ایس او آزاد
بلوچ نوجوان بلوچستان میں موجود استعماری سرمایہ کاری جو بلوچستان بھر میں پھیل رہی ہے اس کے حوالے سے آگاہی سرکلز اور مجلسوں کا انعقاد کریں اور بلوچستان میں موجود غیر قانونی اور استعمار قوتوں کی سرمایہ کاری کے حوالے سے نوجوانوں کو آگاہ کریں۔ دنیا کے دیگر مقبوضہ علاقوں کی طرح بلوچستان میں بھی قبضہ گیر ریاست اور دنیا بھر کے استعمار قوتوں کی سرمایہ داری کے مفادات جڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف ریاست شدت سے یلغار پر اتر آئی ہے۔ جہاں عالمی قوتوں نے 20ویں صدی کے اختتام پر کالونیلزم کے بدلے نیو کالونیلزم سوچ کے تحت دنیا بھر میں اپنے مفادات حاصل کرنا شروع کیے اس کی سب سے بڑے ٹارگٹ مقبوضے علاقے رہے جہاں مختلف کمزور کالونیل ریاستوں کے ساتھ ملکر مقبوضہ علاقوں سےسرمایہ لوٹنے کا پلان بنایا گیا ہے۔ پاکستان جیسے کالونیل طاقتیں جو اپنے دم پر بلوچستان جیسے مقبوضہ علاقے میں سرمایہ کامیاب نہیں بنا سکتے تو انہوں نے نیوکالونیل طاقتوں کے ساتھ ملکر بلوچستان میں موجود وسائل کو لوٹنے کا پلان تیار کر لیا ہے بلوچستان میں سی پیک جیسی عالمی استعماری پروجیکٹس اور بیرک گولڈ جیسے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بڑھتی تعداد ان مزموم عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان کئی عرصے سے برطانیہ و دیگر کالونیل طاقتوں کی طرز پر بلوچستان میں موجود وسائل کی لوٹ مار سے اپنے قبضہ گیریت کو مظبوط کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن کمزور ریاستی مشینری کی وجہ سے پاکستان خود ایک نیوکالونی بن چکی ہے جو عالمی طاقتوں کے مفادات کو پورا کرنے میں لگا ہوا ہے جبکہ بلوچستان کے قومی وسائل کو لوٹنے کیلئے اب ریاست نے عالمی طاقت اور قوتوں کی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جو خطرناک ہے۔ چین اور بیرک گولڈ جیسے استحصالی ریاست اور کمپنیوں کا بلوچستان میں آنا سنگین خطرات کی نشانی کرتی ہے۔ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور چین پاور حب جنریشن کمپنی اور حب پاور پلانٹ (حبکو) جیسی پروجیکٹس کا بلوچستان بھر میں پھیلنا سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ کہنے کو تو چین بلوچستان میں ترقی کیلئے موجود ہے لیکن چین کی ترقی کا موڈل بلوچستان میں سیندک سے لگایا جا سکتا ہے جہاں آج تک تقریبا 1 ٹریلین سے زائد کا سرمایہ نکالا گیا ہے جبکہ وہاں پر مقامی لوگوں کو پانچ سو کے عوز پر رکھا گیا ہے اور صرف سیندک کے وسائل سے چین اپنے کئی شہروں کو دنیا کے ماڈل ترین شہروں میں تبدیل کرسکتا ہے۔ قبضہ گیر کی ترقی اور ان کی ترقیاتی منصوبے غلاموں کے زمین سے وسائل کا خاتمہ کرنا اور انہیں استعمال میں لاتے ہوئے اپنے شہروں کو آباد کرنا ہے۔ یورپ نے جس آن و شان سے خود کو آباد کیا ہے اگر تاریخ دیکھا جائے تو یہ سرمایہ دنیا بھر اور بلخصوص ایشیا و افریقہ میں موجود اپنے کالونیوں سے نکالنے وسائل سے پیدا کی ہے۔ چین اسی طرز پر گامزن ہوتے ہوئے پاکستان جیسے نیوکالونیوں کو استعمال میں لاکر بلوچستان جیسے مقبوضہ علاقوں کے وسائل کو لوٹنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ اور باشعور بلوچ نوجوان چین جیسے ابھرتے استعماری ریاست اور بیرک گولڈ جیسے استعماری ملٹی نیشنل کمپنیوں کے عزائم کا اچھی طرح تدراک کرتے ہوئے بلوچ قومی تحریک کی اہمیت اور افادیت پر اپنے سرکلز میں بحث و مباحثے کو مضبوط کریں تاکہ بلوچستان جو کئی ادوار سے پاکستان اور انگریز کی قبضے کی زد میں رہتے ہوئے لوٹ مار کا شکار رہی ہے اب چین جیسے ابھرتے طاقتوں کے لپیٹ میں آ چکی ہے۔
بلوچ نوجوانوں پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قابض قوتوں کے ان حکمت عملیوں اور ان کے عزائم کا بہتر سے بہتر تجزیہ کرتے ہوئے خود کو بلوچ قومی تحریک سے منسلک کریں اور بلوچستان کو مزید ایک نئے طاقت کی لوٹ مار سے بچائیں۔ تاریخی طور پر بلوچستان کئی عرصے سے بلکہ صدیوں سے قابضین کے ہاتھوں لوٹ مار کا شکار رہی ہے لیکن چین دنیا میں ایک نئی طاقت اور گلوبل سپریمسی سوچ کے تحت ابھر کر سامنے آ رہی ہے جس کے طاقت کا بنیاد اور مرکز سرمایہ ہے اور وہ دنیا میں سرمایہ کے جدید ترین طاقت بن چکی ہے۔ چین کا بلوچستان میں قدم مضبوط ہونے کا مطلب بلوچستان کی وسائل کی تباہی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کیلئے بلوچ نوجوان اپنے سرکلز میں چینی اور دیگر استعماری قوتوں کے پروجیکٹس اور سرمایہ کا علم اور تدراک رکھتے ہوئے جدوجہد کی اہمیت کو سامنے لائیں تاکہ بلوچ نوجوان حقیقی معنوں میں جدوجہد سے منسلک ہوکر ان عزائم کا مقابلہ کر سکیں۔
توتک میں خونی آپریشن کو 13 سال گزر چکے، لواحقین کو اب تک انصاف نہیں ملا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے 13 سال قبل 18 فروری کو توتک میں ہونے والے خونی آپریشن اور سندھ کے سیاسی و سماجی کارکن ہدایت لوہار کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج سے 13 سال قبل 18 فروری کو توتک میں خونی آپریشن کیا گیا جس میں دو افراد کو شہید اور تقریباً 16 دیگر کو گمشدہ کیا گیا، جو آج تک جبری گمشدہ ہیں۔ اسی سر زمین پہ 25 جنوری 2013 میں اجتماعی قبروں کے دریافت نے بلوچ نسل کشی کو بیان کرنے کے لیے ایک نئی درد بھری کہانی دے دیا، جسے بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ نسل کشی کے علامتی روز پہ منانے کا اعلان کر چکی ہے۔ توتک آپریشن میں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد اب تک جبری طور پر گمشدگی کا شکار ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ اجتماعی قبروں میں دفنائے گئے جبکہ آپریشن کے دوران دو نوجوانوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ توتک آپریشن کے بعد سے وہاں پر لوگوں کو مکمل طور پر ڈیتھ اسکواڈز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور عام لوگوں کی زندگی مکمل طور پر اجیرن بنا دی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جس دن بلوچستان کے کسی علاقے میں آپریشن نہیں ہو رہی بلکہ آئے دن کسی علاقے یا گاؤں میں آپریشن کے نام پر لوگوں کو اٹھانا اور بعدازاں انہیں قتل کرنا ریاست کا وطیرہ بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں بلوچستان میں جاری آپریشنز میں اضافہ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جبکہ ایک طرف جہاں بلوچوں کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری ہے وہی دوسری جانب پاکستان کے اندر موجود دیگر محکوم اقوام کے خلاف ریاستی ظلم و ستم کا سلسلہ بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ہدایت لوہار جو سندھ بھر میں جبری گمشدگیوں جیسے غیر انسانی عمل کے خلاف ایک مضبوط آواز تھے انہیں بے دردی سے قتل کرنا مظلوم اقوام کے خلاف ریاستی تشدد کا جاری سلسلہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہدایت لوہار کو قتل کرتے ہوئے ریاست نے مظلوم اقوام کو پیغام دی ہے کہ پاکستان کے اندر موجود مظلوم اقوام مضبوطی کے ساتھ اس ریاستی ظلم کے خلاف یکجاہ و یکمشت ہوکر آواز اٹھائیں اور جدوجہد کریں۔ بلوچستان اور سندھ سمیت ریاست پاکستان کے کسی بھی کونے میں مظلوموں کی پرامن جدوجہد سے خائف نظر آتی ہے اس لیے جہاں بھی کوئی سیاسی کارکن اپنے لوگوں کی حقوق کیلئے کھڑا ہوتا ہے اور آواز اٹھاتا ہے ریاست اس کے خلاف صفت بندیاں شروع کر دیتا ہے۔ پاکستان میں مظلوموں کی آوازوں کو دبانے سے ریاست مظلوم اقوام کو ان کے انسانی حقوق سے محروم رکھنا چاہتا ہے اور اسی کوشش میں وہ ہدایت لوہار جیسے سیاسی کارکنوں کو نشانہ بناتی ہے۔ ہم اس قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری اور انہیں قانون میں کٹہرے میں لانے کا مطالبہ رکھتے ہیں۔
ترجمان نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کی بندش، توتک آپریشن کے دوران اٹھائے گئے جبری طور پر لوگوں کی بازیابی، ہدایت لوہار کے قتل میں ملوث مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ریاست کو سمجھنا چاہیے کہ بلوچستان کے لوگ انسان ہیں جانور نہیں جنہیں جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بناکر جب چاہے قتل کر دیتی ہے۔ بلوچستان میں حالیہ اٹھنے والی عوامی تحریک انہی ریاستی مظالم کا ردعمل تھا لیکن ریاست ان عوامی تحریک سے بھی سبق حاصل نہیں کر رہی ہے اور جعلی مقابلوں سمیت قتل و غارت گری اور لوگوں کو اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
#EndBalochGenocide
Decolonizing the Mind in perspective of Ngugi wa Thiong’o
by Zeeshan Baloch
Various writers have written and debated on decolonization, each discussed different perspective. Among them is Ngugi wa Thiong’o…
-Baloch Students Action Committee https://t.co/Te6951mD7Y
امیر بخش بلوچ کی با حفاظت بازیابی کے لئے آن ایکس پر مہم چلایا جائے گا- امیر بخش کو 10 سال قبل 4 اگست 2014 کو کلانچ سے فورسز نے جبری لاپتہ کیا تھا وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
Hashtag: #ReleaseAmeerBaksh
Date: 21 Feb 2024
Time: 7PM To 12AM