"سر آپ میری طرح گھر سے آفس پبلک ٹرانسپورٹ پر کبھی آکر تو دیکھیں پھر آپ میرا عذر سمجھیں گے"،
لو جی درانی صاحب نے یہ چیلنج قبول کرلیا اور اگلے دن پہلے تو ایک کلومیٹر پیدل چلے پھر پنجاب چورنگی پر کھڑے الیاس کوچ کا انتظار کرنے لگے ،
ایک کوچ آئی جو گیٹ تک ہاوس فل تھی، درانی صاحب تو کھڑے کے کھڑے رہ گئے لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے ساتھ کھڑے دو آدمی گھس گھسا کر کسی نہ کسی طرح گیٹ پر لٹک گئے ،
دوسری کوچ آئی وہ بھی فل، تیسری کوچ کا کنڈیکٹر آواز لگاتا یہ جا وہ جا،
"بابو جی یہاں ہر گاڑی ایسی ہی ملے گی اگر بیٹھ کر جانا ہے تو رکشہ پکڑ لو"،
یہ سن کر درانی صاحب کا خون جوش مارنے لگا اور چوتھی کوچ میں وہ بھی پوری طاقت کے ساتھ گیٹ کی سیڑھی پر پاؤں ٹکانے میں کامیاب ہو ہی گئے ،
"بھائی صاحب اپنا جوتا میرے پاؤں پر سے تو ہٹالیں"،
درانی صاحب فوراً شرمندہ ہوکر ایک پاؤں پر کھڑے ہوگئے اور دوسرے پاؤں کی جگہ بنانے لگے ،
جیسے ہی دوسرا پاؤں ٹکایا ریس کورس کے اسٹاپ پر کوچ رک گئی اور دو مسافر جگہ بناتے نیچے آنے لگے ،
"ارے بھئی آپ لوگ نیچے اترو تاکہ ہم نیچے آسکیں"،
گیٹ پر لٹکے نیچے اترنے لگے تو شرماشرمی درانی صاحب بھی نیچے اتر گئے جیسے ہی دونوں مسافر نیچے اترے آواز بلند ہوئی،
"چل بھئی استاد ڈبل ہے"،
گاڑی جو پہلے گئیر میں تھی وہ ردھم پکڑنے لگی دوسرے تو چڑھ گئے لیکن درانی صاحب آہستہ چلتی گاڑی کے ساتھ دوڑتے رہے وہ تو شکر ہے کنڈیکٹر نے دیکھ لیا اور آگے گیٹ سے اتر کر انہیں دھکیل کر سیڑھی پر کھڑا کردیا ورنہ وہ بیچارے دوڑتے ہی رہتے ،
درانی صاحب کو اب دونوں پاؤں ٹکانے کی جگہ مل گئی تھی اور کینٹ میں ساٹ آٹھ مسافر اترنے کے بعد اندر بھی جگہ مل گئی ،
درانی صاحب سکون کا سانس بھی نہیں لے پائے تھے کہ آگے سے ایک پہلوان صاحب آواز لگاتے گیٹ پر آنے لگے،
"جلدی سے جگہ بنادو ورنہ مجھ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی"،
درانی صاحب نے دائیں بائیں دیکھا جگہ خالی نہیں ، سامنے سیٹ پر بیٹھا مسافر جس کا بایاں کاندھا سیٹ سے باہر ، پیچھے پشت سے پشت ملائے دوسرا مسافر ، جگہ بنائیں تو کیسے بنائیں ؟؟
درانی صاحب مجبوراً اپنی جگہ قائم رہے لیکن اس کی سزا انہیں پہلوان نے ڈھائی سو کلو کی طاقت سے رگڑ کر دیدی جس کے باعث ان کی سانس اٹکنے لگی،
دلی ابھی دور تھی تو درانی صاحب سیٹ کے لیے دعائیں کرنے لگے، دعا پوری ہوئی اور سامنے سیٹ پر بیٹھے مسافر کا اسٹاپ آگیا
درانی صاحب خوش کہ میں بھی مستجاب الدعاء ہوگیا لیکن افسوس ان کے بیٹھنے سے پہلے ہی ساتھ کھڑا مسافر ان سے پہلے سے ہی سیٹ پر براجمان ہوگیا،
ایک طرف اترنے والے انہیں رگڑتے جاتے تو دوسری طرف ہر دس منٹ بعد کنڈیکٹر نئے مسافروں کی جگہ بنانے آتا رہا جس کے نتیجے میں درانی صاحب لیڈیز سیٹ کے ساتھ لگی گرل تک پہنچ گئے ،
لائٹ ہاؤس آیا تو وہ نیچے اترنے کی تیاری کرنے لگے کیونکہ اب اتنا تجربہ تو ہوچکا تھا کہ عین وقت پر کھڑے ہوئے تو ایک اسٹاپ آگے ہی اترنا پڑے گا ،
درانی صاحب بھی آواز لگانے لگے ،
"بھئی میں نے سٹی کورٹ اترنا ہے پلیز جگہ دیدیں"،
بس ان کا پلیز کہنا تھا کہ انہیں پلیز کی سزا سٹی کورٹ میں اترنے کے بجائے بولٹن مارکیٹ میں اترنے کی ملی ،
آخرکار مشہور وکیل درانی صاحب گرتے پڑتے منزل مقصود تک پہنچ ہی گئے،
آفس بوائے اختر آج پہلی بار ان سے پہلے آفس میں موجود تھا، درانی صاحب نے اسے دیکھتے ہی گلے سے لگالیا اور کہنے لگے ،
"اختر میاں اگلے ماہ تمہیں بائیک دیدی جائے گی اور پٹرول میری طرف سے"،
From my family to yours, wishing everyone in New York and across America a very Happy Thanksgiving!
Today, we remember that our country is strongest when we show gratitude, care for one another, and look out for those who need it most.
یہ ویڈیو میڈیا کے کیمرے کی نہیں ھے اس میں بھی دیکھا جا سکتا ریفری کوئن کے پاس پہنچا ھی نہیں تھا کہ سوریا نے باؤلنگ پہلے کا بول دیا روی شاستری بھی ریفری کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ کوئن دیکھ کر بولے
آفرین ھے ہمارا کپتان اور میڈیا دونوں سوئے ہوئے
@MShehzadSpeaks جب آپ بائیکاٹ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نہیں کہہ سکتے۔ نہیں -اگر آپ نہیں کہنا چاہتے ہیں تو آپ کو دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ہوگا اور آپ کا جواب نفی میں ریکارڈ کرنا ہوگا۔
مطالعہ پاکستان"
"جناب محسن نقوی نے سنه 2025 چیمپئنز ٹرافی میں بھارتی ٹیم کے ناپاک قدم وطن عزیز میں نہ پڑنے دیے۔
دشمن دبئی سے ہی ٹرافی جیت کر لوٹنے پر مجبور"