”ہانیہ کی طاقت آسٹریلوی شہریت ہے، آسٹریلیا میں پاکستانی نژاد شہریوں کے خون کی بھی حرمت ہے۔ یہی وجہ ہے آسٹریلوی وزیراعظم نے بھی سی سی ڈی کے ہاتھوں قتل ہونے والی ہانیہ کیلئے آواز اٹھائی جسے دنیا بھر میں سنا گیا۔ عمران خان نے بطور وزیراعظم قومی سلامتی پالیسی کا اعلان کیا تھا، ملکی تاریخ میں پہلی بار ملکی سلامتی کو شہریوں کی سلامتی سے جوڑا گیا تھا۔ عمران خان کی حکومت کے ختم ہوتے ہی اب پاکستانی جہاں کہیں بھی ہیں نئی حکومت کے نشانے پر ہیں۔“ حبیب اکرم
Where is Imran Khan and why isn’t he allowed meetings with family and personal doctors? What is Asim Munir and his team hiding? Does he know he is violating international laws and human rights standards that he will need to answer for?
“According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner.” @Aleema_KhanPK
جیسا ون پیج ان کو ملا تاریخ میں کسی کو نہیں ملا ،
عدالتیں خاموش ،میڈیا خاموش ،اپوزیشن کنٹرول ، کوئی احتجاج نہیں ، تین صوبے مکمل ساتھ ،پھر بھی کچھ نہ کیا ،
شہباز شریف نے ملک کے چار قیمتی سال ضائع کر دیے،مفتاح اسماعیل کا سوال
پاکستان تحریکِ انصاف کے دور میں دھشتگردی نہیں تھی بہترین امن و امان تھا لوگ کاروبار کر رہے تھے جی ڈی پی 6.2 فیصد تھی گھروں کے چولہے جل رہے تھے، اب پاکستان کے پاس صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے کہے ہوئے چار الفاظ 'مائی فیورٹ فیلڈ مارشل' ہی رہ گئے ہیں جبکہ پاکستان بدترین دھشتگردی کے ساتھ ساتھ مع��شی طور پر انتہائی کمزور ملک بن چکا ہے، نیا کارنامہ پنجاب کی سی سی ڈی نے آسٹریلوی نژاد پاکستانی بچی کو ناحق شہید کر کے انجام دیا ہے جس پر آسٹریلیا سمیت دنیا بھر سے پاکستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
Day 1333 without Arshad Sharif
Day 1333 without Justice
وقت نے ایسا کھیل کھیلا کہ ہنسنا بھی بھول گئے
تنہائی کے سمندر میں ڈوبے تو پتا چلا کیا کھویا ہے
لوگ کہتے ہیں کہ اب تم پتھر دل ہو گئے ہو
انہیں کیا خبر کے اندر سے یہ دل زخمی ہو چکا ہے
#ArshadSharifShaheed
#JusticeForArshadSharif
وقت آ گیا ہے کہ اب اس سوال کا جواب ہر با شعور شخص اپنے ضمیر سے مانگے۔ کیا 25 کروڑ انسانوں کی خاموشی کی سزا صرف ایک اکیلا شخص تنہا ہی سہتا رہے؟ اس کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، قید تنہائی میں بند کر رکھا ہے۔ آخر کب تک یہ ظلم وہ سہتا رہے؟ کیا 25 کروڑ انسانوں کا کوئی فرض نہیں رہا؟
#خان_کو_قوم_کے_سامنے_لاؤ
نظام کے اپنے ہی تمام لوگ اپنے ہی کراۓ گئے الیکشنز کا خود ہی آ کر ہر روز پول کھول رہے ہیں۔ اور بیٹھنے والے پھر بھی ڈھٹائی کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں اور فتح کے دعوے بھی کرتے ہیں!
سلمان اکرم راجہ صاحب آپ سے لاکھ درجے بہادر تو یہ اماں جی ہیں ۔۔۔
یہ ویل چیئر پر بیٹھے ہوئے بھائی ہیں۔۔۔
اور ویل چیئر پر بیٹھی ہوئی بہنیں ہیں ۔۔۔
جن کو پولیس نے روکا تو سخت حالات میں کسی نے موٹرسائیکل پر کسی نے پیدل اور کسی نے ویل چیئر پر ہی سفر جاری رکھا اور اڈیالہ جیل پہنچ گئے لیکن آپ وقت ختم ہونے کے باوجود بھی ابھی تک اڈیالہ نہیں پہنچ سکے
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے قانونی مشیروں سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنے کی سہولت۔
7۔ کسی بھی طبی عمل سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا
آپ اپنی وہ تصاویر ویڈیوز جاری کریں جب نواز شریف لکھ کر معاہدہ کر کے ملک سے بھاگے تو اس وقت کتنے لوگ تھے آپ کے ساتھ؟ خان نے کبھی لوگوں کو نہیں بلایا۔۔۔
میاں صاحب ہی ہر وقت گلہ کرتے ہیں قدم بڑھایا تو پیچھے کوئی نہیں تھا۔ کمر ٹوٹتی نہیں، توڑی جاتی ہے۔خوف ، ظلم، طاقت سے۔
یہ میرا کالم اس مسنگ پرسن کے نام ہے جس کا مسنگ ہونا اب اس ملک ؛ اس نظام اور اس عوام کیلئے ایک نیو نارمل بنتا جارہا ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نسیان اور اس بیوفائی اور طوطا چشمی پر ہمارا ضمیر بھی مسنگ -
#whereisimrankahn
Day 1332 without Arshad Sharif
Day 1332 without Justice
لوگوں نے جب حال میرا دیکھا تو بولے
وہ زندہ ہے تجھ میں تو مر چکا ہے جس میں
#ArshadSharifShaheed#JusticeForArshadSharif
فیصل واوڈا جو کچھ بول رہا ہے وہ روایت تھی اس ملک کی پیشن گوئی نہیں ! لیکن @FaisalVawdaPAK صاحب آپ ایک چیز بھول رہے ہیں اس بار قیدی 804 نا بھاگا ہے نا ڈیل کر رہا ہے تو محترم روایت بدل چکی ہے
آسٹریلیا سے آئی نو سالہ معصوم بچی ایک غیر تربیت یافتہ جاہل سی سی ڈی اہلکار کی بھینٹ چڑھ گئی، ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔ صاف نظر آتا ہے گولیاں چلانے والے اہلکار کو نہ تو مجرموں کو پکڑنے کی صحیح تربیت دی گئی تھی، نہ اسے اس بات کی سمجھ تھی کہ گولیاں چلانے بغیر کار سواروں کو سرنڈر کیسے کرانا ہے۔ نہ اس نے کوئی حکمت عملی بنائی، نہ ساتھیوں کے ساتھ فوری طور پہ کوئی آپریشن پلان کیا۔ بس سیدھی گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ ایسا لگتا ہے انہیں صرف پہلے سے پکڑے گئے مجرموں کو پار کرنے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں ۔
لیکن اس کے باوجود سہیل ظفر چٹھہ صاحب مقتول بچی کے گھر گئے اور وہاں جا کر حاضرین کو سی سی ڈی کی شاندار کارکردگی کی تعریف کرنے پر مجبور کرتے رہے، فرمایا سی سی ڈی ایک شاندار ڈیپارٹمنٹ ہے، کسی ایک اہکار کی غلطی کو پورے ڈیپارٹمنٹ کی غلطی بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ گویا موصوف سی سی ڈی پر ہونے والی تنقید سے ناراض دکھائی دیے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ’’جو معصوم بچی کی جا�� ضائع ہوئی ہے ہم اس جان کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے‘‘۔ اب جملے بازی اپنی جگہ مگر میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس ماں کی اجڑی گود میں کلکاریاں بکھیرتی بچی کی ہنسی کیسے واپس لا کے دیں گے۔
اور تو اور سی سی ڈی اہلکار کی تفتیش بھی سٹی پولیس سے لیکر سی سی ڈی کے حوالے کر دی گئی ہے تاکہ گھر کی بات گھر میں رہے۔ افسردہ خاندان تھوڑے عرصے میں آسٹریلیا لوٹ جائے گا اور سی سی ڈی کا یہ قاتل اہلکار پھر سے آزاد ہو کر نوکری پہ بحال ہو جائے گا اور معصوم بچی عالم ارواح سے سوال کرتی رہے گی کہ مجھ پہ گولی کیوں چلائی؟