The Sarhad University incident:
A crowd allegedly surrounded and physically assaulted an Army officer and pushed and beat his wife.
When the situation escalated and the crowd continued advancing.
The officer reportedly fired into the air as a warning to disperse the crowd not at any specific individual.
Eventually When alleged associates of the Jadun group were reportedly assaulting a military officer and pushing his wife.
The sound of gunfire reportedly triggered a striking reaction among some female students.
According to the account, some students expressed relief and celebrated, saying it was “a good thing,” amid allegations that Jadun and his associates had created an atmosphere of intimidation and fear inside the university.
The account further alleges that Jadun himself harassed female students and maintained a group of supporters described as “goons” who were allegedly used to intimidate others, provoke confrontations and engage in violence.
#PakistanFirst🇵🇰
#SarhadUniversity #Islamabad #KhyberPakhtunkhwa #BreakingNews #PakistanNews #OSINT #Security #LawAndOrder #Viral
سرحد یونیورسٹی میں یوتھیا ڈاکٹر جدون مشتعل ہجوم کی پشت پناہی کر رہا تھا ان کو سیاست کیلئے استعمال کر رہا تھا بدلے میں طلبہ کو کیا ملتا ہے خود سن لیں اب وہ پروفیسر ڈاکٹر جدون بنوں فرار ہو گیا ہے جہاں وہ پی ٹی آئی حکومت کی پناہ میں آ گیا ہے۔جو بھی حرامی یوتھیا ہوتا ہے وہ خیبرپختونخوا فرار ہو جاتا ہے وہاں سے افغانستان یا بیرون ملک نکل جاتا ہے۔
سرحد یونیورسٹی کا دلال جدون خان یہوتھیا
سن لیں جدون خان یہوتھیا نیٹ ورک کی واردات ایک طالبہ کی زبانی
جدون خان یہوتھیا بلیک میلر اور گھٹیا سیاست اور گزشتہ روز فوج کے افسر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے
سرحد یونیورسٹی کو عیاشی کا اڈہ بنا رکھا تھا جدون خان یہوتھیا نے
What kind of a peaceful student protest involves pipes and sticks? An FIR had already been registered against Jadoon, following which he issued an apology. Later instead of letting the matter end, he gathered students to protest in his favour, and the mob went on to (1)
عورتوں پر حملہ کر رہے ہیں یہ دلی کے بچے
بہت اچھا ہوا ہے کرنل نے گولی چلائی،،
یہ سرحد یونیورسٹی کی ایک اور وڈیو ہے جس میں وڈیو بنانے والی لڑکی یوتھی طلبا کے بارے میں بتا رہی ہے کہ یہ عورتوں پر حملہ کررہے ہیں
یونیورسٹی کے ایک طالبہ وقوعہ کی وڈیو بناتے خود کہہ رہی ہے کہ کرنل صاحب نے بہت اچھا کیا
جو طُلبہ خاتون پر ہاتھ اٹھارہے ہیں انہیں نستعلیق فونٹ میں گالی بھی دے رہی ہے
مودی کے پالتو پی ٹی آئی کے یوتھیے آپ کو صرف پروپیگنڈا سائیڈ دکھائیں گے ۔
سرحد یونیورسٹی کے واقعے کی وہ تفصیل جو یونیورسٹی کی طالبات نے بتائی کہ یوتھیا جدون گروپ یونیورسٹی میں کیا کرتا تھا ۔
لیفٹننٹ کرنل اسفند یار ولی اور طلبہ کے درمیان کیا ہوا کیوں ہوا معاملہ کہاں سے شروع ہوا،
سب اصل حقائق پڑھیں،
تمام ثبوتوں کے ساتھ ‼️‼️‼️
تھریڈ ۔۔۔!!!
پہلی تصویر ڈاکٹر جدون خان کی، سابقہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ HoD جو کرنل اسفند یار خان پر حملہ آور ہے۔
اب کہانی سنئیے ۔۔۔
ڈاکٹر جدون کیخلاف ایک طویل عرصے سے خواتین طلبا اور ٹیچرز کیطرف سے شکایات تھیں ہراسانی کی کہ جدون خان ان کو غیرضروری طور پر دفتر بلاتے ہیں غیرمناسب باتیں کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آئینہ جو کہ کرنل اسفند کی اہلیہ ہیں وہ اسی ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹ افئیرز کی انچارج تھیں۔
جب سٹوڈنٹ لڑکیوں نے ہراسانی کی شکایات کیں تو ڈاکٹر آئینہ نے ڈاکٹر جدون کیخلاف یونیورسٹی انتظامیہ/وائس پرنسپل کو شکایت کی۔ تحقیقات ہوئیں ڈاکٹر جدون خان مجرم پائے گئے اور ان کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ڈاکٹر آئینہ کو جدون خان کی جگہ HoD بنا دیا گیا۔
ڈاکٹر جدون خان نے اس معاملے کا کینہ دل میں رکھ لیا اور اس کے بعد ڈاکٹر آئینہ کو ان کے فون پر دھمکی آمیز میسیجز بھیجنے شروع کر دیے۔
معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکا،
گزشتہ جمعے 21 اگست کو ڈاکٹر جدون خان، ڈاکٹر آئینہ کے آفس میں زبردستی آ گھس گیا، انہیں گالیاں دیں دھمکایا حتیٰ کہ انہیں مارنے کیلئے آگے بڑھے۔
اس صورتحال پر ڈاکٹر آئینہ نے فورا پولیس کو 15 پر رابطہ کیا اور اس کے فوراً بعد تھانہ ھمک چلی گئیں۔
ڈاکٹر جدون کیخلاف کاروائی کیلئے۔
اب پوسٹ کے ساتھ لگی وہ درخواست دیکھئیے جو ڈاکٹر آئینہ نے جدون خان کیخلاف گزشتہ جمعے کو تھانے میں دی FIR کیلئے۔
اسی دوران اس معاملے کی خبر وائس پرنسپل کو ہوئی وہ فورا تھانے پہنچ گئے اور ڈاکٹر آئینہ سے درخواست کی کہ وہ پولیس کاروائی نہ کروائیں معاملے کو یہیں رفع دفع کریں کیونکہ یونیورسٹی کی عزت کا سوال ہے۔
وائس پرنسپل نے ڈاکٹر آئینہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خود اس معاملے کو ہینڈل کرینگے اور جدون خان آئندہ انہیں تنگ نہیں کرے گا۔
پہلے تو ڈاکٹر آئینہ نہیں مانیں،
انہوں نے بتایا کہ جدون خان انہیں دھمکی آمیز میسیجز بھی بھیجتا رہا ہے اور آج یہاں تک اتر آیا ہے لہٰذا وہ پولیس کاروائی لازما کروائیں گی۔
وائس پرنسپل کی کافی منت سماجت پر ڈاکٹر آئینہ صرف اتنا مانیں کہ ٹھیک ہے پولیس کاروائی نہ ہو گی مگر پولیس کے پاس میری درخواست موجود رہے گی۔ ریکارڈ میں تاکہ اگر دوبارہ جدون خان کوئی ایسی حرکت کرے تو پولیس کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔
جدون خان نے پولیس کے سامنے ڈاکٹر آئینہ سے معافی مانگی اور تحریری معافی نامہ لکھ کر دیا،
جو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔
میری اس پوسٹ میں تصویر دیکھئیے جدون خان کے معافی نامے کی۔
اس تمام واقعے کے بعد ڈاکٹر آئینہ جب گھر گئیں تب انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیارولی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے کرنل اسفند کو کہا کہ معاملہ وائس پرنسپل کے کہنے پر ختم ہو گیا ہے۔
کرنل اسفند اہلیہ کے یہ سب بتانے پر مطمئن ہو گئے کہ ٹھیک ہے رفع دفع ہو گیا۔
اس قسم کے افسوسناک واقعات تعلیمی اداروں میں ہوتے رہتے ہیں۔
جو انتہائی افسوسناک ہے۔
خیر اب آئیے کہ 24اگست سوموار کے روز کیا ہوا۔
یونیورسٹی میں طالبات اپنے پیپرز کے حوالے سے ایک الگ احتجاج کر رہیں تھیں۔
ڈاکٹر آئینہ چونکہ ہیڈ آف سٹوڈنٹ افئیرز ہیں وہ ان طالبات کے پاس معاملے کے حل کے لئے گئیں۔
اسی دوران جدون خان لڑکوں کا جُھنڈ لے کر احتجاج کروانے چلے آئے،
جس کی مکمل پلاننگ کی گئی تھی اور احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ جدون خان کو بحال کیا جائے۔
اہم سوال کہ جدون خان خود اس احتجاج میں کیوں موجود تھا!!!؟؟؟
جدون خان کرنل اسفند پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے!!!
جدون خان نے جان بوجھ کر ڈاکٹر آئینہ کو دیکھ کر ان کیخلاف مغلظات بکنا شروع کر دیں۔
یہ سب دیکھ کر فطری طور پر ڈاکٹر آئینہ نے سوچا کہ یہ شخص تو پھر شروع ہو گیا یہ باز ہی نہیں آ رہا،
انہوں نے ایک بار پھر 15 پولیس کا کال کر دی۔
جو پولیس آپ کو ویڈیو میں نظر آ رہی ہے وہ ڈاکٹر آئینہ کے بلانے پر آئی ہوئی تھی!!!
پولیس 15 کو کال کرنے کے بعد ڈاکٹر آئینہ نے پشاور میں اپنی بہن کو کال کر کے اس واقعے سے آگاہ کیا کہ جدون خان پھر اپنی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔
ڈاکٹر آئینہ نے سب سے پہلے اپنے شوہر کرنل اسفند کو کال نہیں کی!!!!
یہ جاننا بہت اھم ہے!!!
یہ سب آن ریکارڈ ہے۔
ڈاکٹر آئینہ نے اپنی بہن کو کہا کہ تم اسفند کو مت بتانا، کیونکہ وہ ظاہر ہے اپنے شوہر کے طبیعت کو پہچانتی ہیں، کہ جب وہ جانیں گے کہ ایک بار پھر ایسی حرکت ہوئی ہے تو طیش میں آئیں گے۔
ڈاکٹر آئینہ نے اپنی بہن کو آگاہ کیا تاکہ فیملی میں کسی کو معلوم ہو۔
ڈاکٹر آئینہ اس دوبارہ وقوعے کو ہونے سے ۔
🚨 IMPORTANT: Just listen to what this Sarhad University student has to say.
According to her, when Dr. Jadoon was HOD, some of his favored students were given a free hand. THEY did not regularly attend university, sometimes even missed their midterms, yet still managed to receive higher GPAs.
When Dr. Ana became HOD, she tried to enforce university rules and required everyone to follow the same standards. According to the student, this led to Dr. Jadoon and some of his favored students creating a scene, harassing Dr. Ana and using students to pressure and threaten the HOD.
This, she says, ultimately led to the incident.
People should listen to all sides and judge the matter based on facts and evidence.
سرحد یونیورسٹی سے ایک اور ویڈیو ہے ویڈیو بنانے والی طالبہ غصے میں کہہ رہی “ عورتوں پر حملہ کر رہے ہیں دلی کے بچے “ یعنی جنگلی اپنے جنگلی پن کا مظاہرہ ہی کر رہے تھے
گولی چلنے پر طالبات نے کہا بہت اچھا ہوا ہے “ یہ دیکھ کر تو کہنا بنتا ہے گولیاں ضائع نہیں کرنی چائیے تھی