کانٹ کافلسفہ اورایران جنگ!!!
تحریر:عاصمہ شیرازی
ایران کی نیشنل سیکورٹی کونسل کےسربراہ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد اُن کی جرمن فلاسفر ایمانوئل کانٹ پر تحقیق اور کتابوں کا چرچا ہے۔ کانٹ مغربی جمہوریت، آزادی اور ابدی امن پر یقین رکھنے والے فلسفی تھے۔ علی لاریجانی کی کانٹ سے نظریاتی نسبت اور اُن کی تحقیق کی ایران کی موجودہ صورت حال سے کیا مماثلت ہے یہ انتہائی دلچسپ اور قابل توجہ پہلو ہے۔
ایمانوئل کانٹ کا "ابدی امن" کے فلسفے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پائیدار امن خود بخود نہیں آتا بلکہ اسے باقاعدہ قائم کرنا پڑتا ہے جس کے لئے کانٹ نے چھ ابتدائی شرائط پیش کی ہیں ان میں سے کسی بھی خفیہ معاہدے جس میں آئندہ کی جنگ چھپی ہو سے انکار موجود ہے۔ (یاد رہے کہ کانٹ کے نظریات ہی اقوام متحدہ کی قیام کا سبب بنے جس میں آزاد ریاستوں کی فیڈریشن، عالمی اور انسانی حقوق جیسے سنگ میل شامل تھے)۔
کیا ایران کی جنگی پالیسی مس��قبل کے ابدی امن کے ساتھ جُڑی ہے؟ کیا ایران مستقل امن کے لئے طویل جنگ لڑ سکتا ہے؟ کیا ابدی امن کا مطلب نئی جدید حکمت عملی ہے؟ میرے لئے یہ سوال انتہائی اہم ہیں۔
زمانہ امن میں جنگ کی منصوبہ بندی کرنے والی قومیں کیا پالیسی بناتی ہیں اور یہ بھی کہ فلسفے کی بنیاد پر جنگ اور پھر امن حاصل کرنا کتنا ممکن ہے۔ بظاہر جنگ کا فلسفے سے تعلق نہیں مگر فلسفی سیاست دان اسے میدان سیاست اور ریاست کا بنیادی جُزو بنا دیں تو اچنبھا ضرور ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ علی لاریجانی کا فلسفہ ایران کے صدر پزشکیان کے مذاکرات اور جنگ بندی کی تین شرائط میں نظر آتا ہے۔
اول: ایران کے قانونی حقوق کو تسلیم کیا جائے
ایسا تسلیم ہونے کی صورت ایران کو معاشی اور نظریاتی فتح حاصل ہو سکتی ہے۔
دوم: جنگ سے ہونے والے نقصان کا ا��الہ کیا جائے۔
اور سوم :مستقبل میں حملوں کی روک تھام کے لیے مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں دی جائیں۔
یہ ضمانتیں فراہم کرنے والی بڑی طاقتیں کون ہوں گی یعنی اس جنگ کا اختتام امریکہ کے ہاتھ نہیں ہو گا۔ ضمانت فراہم کرنے والا جنگ بندی کی ��رائط بھی تسلیم کرے گا اور یوں امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھ گیم نہیں ہو گی۔
ایران واضح طور پر مستقل اور “ابدی امن” کے حصول کا خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران قطعا سیز فائر یا عارضی جنگ بندی کو پیش نظر نہیں رکھتا۔ اس کاحصول کس حد تک ممکن ہے اور اس کے لئے ایران نے باقاعدہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔
ایران کی جغرافیائی اور عالمی حیثیت نے اُسے قدرتی طور پر مضبوط بنایا ہے تو دوسری جانب اُس کی طویل منصوبہ بندی اور جنگی حکمت عملی نے اسے نمایاں کر دیا ہے یہاں تک کہ عالمی مبصر تک اسے سراہے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ایران معاشی، سفارتی اور دفاعی برتری حاصل کئے ہوئے ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس معاملے سے خود کو تاحال الگ رکھے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کا راستہ روکنا، معاشی اعتبار سے تیل کی قیمتوں کو اپنے قابو میں لینا یا اب دنیا کو آبنائے ہرمز کے ذریعے چینی کرنسی پر گزرگاہ کا استعمال ممکن بنائے جانے کی پیش رفت یقینی طور پر ایران کی معاشی حکمت عملی ہے جس کی تیاری بروقت اور بام��نی معلوم ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے ایک جانب امریکہ کو باندھ دیا ہے تو دوسری جانب دنیا کو ایک متبادل کرنسی کے بدلے گزرگاہ کا آپشن بھی دے دیا ہے جو امریکہ جیسی سپر پاور کے لئے اہم چیلنج بن چکا ہے۔ اس عالمی ہزیمت سے نمٹنے کے لئے امریکہ نے اڑتالیس گھنٹوں کی ڈیڈ لائن اور خارگ جزیرے پر قبضے اور آئل تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے تو دوسری جانب ایران نے علاقائی تیل تنصیبات اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس پر حملے کا عندیہ دیا ہے۔ یعنی ایران جو پہلے ہی خطے میں جنگ پھیلا چکا ہے کسی بھی ردعمل کا جواب دینے کو تیار نظر آتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے تا حال واضح جنگی حکمت عملی نظر نہیں آتی جبکہ امریکہ اتحادی الگ کشمکش کا شکار نظر آتے ہیں۔ امریکہ اس جنگ سے کیسے نکلے گا اور گزشتہ بائیس دنوں کی جنگ میں اپنے مقرر کردہ اہداف کا حصول کیوں ممکن نہیں بنا پایا یہ حقیقت بھی سپر پاور کا مُنہ چڑھا رہی ہے۔
خطے میں موجود امریکی اڈوں کی موجودگی الگ تنازعہ ہے جس کا دفاع کرنے میں چند خلیجی ریاستیں ناکام نظر آ رہی ہیں۔ ایران ان اڈوں کا خطے سے خاتمہ چاہتا ہے جبکہ عراق اور دیگر ممالک میں امریکی اڈوں پر پے در پے ایرانی حملے امریکہ کی پوزیشن کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ اگر اس جنگ کے اختتام پر امریکی اڈے ختم ہوتے ہیں تو یہ تصور ہی امریکہ کے لئے محال ہے کہ خطہ اُن کے اثرو رسوخ سے نکل کر چین اور روس کے اثر میں جا سکتا ہے۔
انہونی ہونی کو جنم دے سکتی ہے یا ابھی کچھ انتظار باقی ہے۔ کانٹ کا فلسفہ ایران اور خطے کے ابدی امن کا ضامن بن سکتا ہے اور کیا جنگ کے اختتام پر نیا عالمی نظام دستک دے سکتا ہے؟
کیا ستم کہ بارود کا ایندھن بنتے ہم لوگ جنگ کے شعلوں میں گھر چکے ہیں۔ گرجا گھروں کی گھنٹیوں میں end of times یعنی زمانے کے اختتام کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ مقدس آسمانی صحیفوں میں آخری وقت کی تعبیریں ڈھونڈھتے اہل جُبہ کی زبانوں پر جاری ورد مزید تیز ہو گیا ہے۔ ��سمان خون کی لالی سے چمک رہا ہے جبکہ فضا بارود کی بو سے مہک رہی ہے۔ خسارے میں رہنے والا انسان یہ سب اپنے فائدے میں گن رہا ہے یہ جانے بغیر کہ وقت کی رفتار سانسوں کی گنتی ختم کرتی چلی جا رہی ہے۔
کالم عاصمہ شیرازی: یہ جنگ کون جیتے گا؟
https://t.co/73LM2HcgYY
لاہور بسنت میں جنریشن ایکس اپنی ماضی کی یادیں تازہ کرے گی تو جنریشن زی پہلے بار اپنی ثقافت کے اس رنگ کو زندگی کا حصہ بنائے گی۔ بسنت کا ہر رنگ انتہائی خوبصورت۔ پتنگیں، میوزک، شور شرابہ، ہلہ گلہ، روشنیاں، فوڈ اسٹریٹ کے کھانے، موج مستی، میلہ اور رونق۔ یہ تین دن نہیں لگاتار 72 گھنٹے کا میگا ایونٹ ہے۔ بسنت بسنت ہے اے۔۔ جیسے لاہور لاہور اے۔
#basant #Lahore
عاصمہ شیرازی کا سوال:
جب عمران خان فوجی قیادت کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کی واپسی کا فیصلہ کر رہے تھے تو سارا دباؤ آپ سیاسی لیڈر پر کیسے ڈال سکتے ہیں، باقیوں کا احتساب کب ہو گا؟
ڈی جی آئی ایس پی آر:
جنرل فیض اب کہاں ہیں جنہیں عمران خان اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔۔
شیخ ایاز ایک دور کےنہیں ہر دور کےشاعر تھے، وہ سندھ کے صوفیوں میں سےایک صوفی تھے، ان کی جمہوریت پسندی، ون یونٹ کی مخالفت،ایوب خان کی مزاحمت، فسطائیت کےخلاف آواز۔۔ شیخ ایاز وہ استعارہ ہیں جوسندھ دھرتی کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ایاز میلو میں عاصمہ شیرازی کا خطاب
@asmashirazi#AyazMelo
عاصمہ شیرازی مثالی صحافی ہیں، میں نےعاصمہ شیرازی سے بہت سیکھاہے کہ کس طرح اپنی رائے بیان کرنی ہےاور دوسروں کی رائے کو پروگرام میں جگہ دینی ہے، میں عاصمہ شیرازی کے خلاف کمپین دیکھ کرحیران رہ گئی، کریڈیبل صحافیوں کے خلاف کمپین پی ٹی آئی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ریما عمر @reema_omer
ارے واہ شہباز گِل صاحب۔۔
اتنی پاکستان دشمنی کہ آپ امریکا میں پاک چین راہداری "سی پیک" کے خلاف بھی بھاشن دیتے رہے۔ یہ والا روپ تو آپ کا چھپا ہوا تھا۔
آپ کی گیم تو بہت لمبی چوڑی ہے!!!
پی ٹی آئی کارکُن آنٹی ملیحہ ہاشمی 2020 سے شہباز گِل مافیا کے ساتھ جُڑ کر لگاتار نا صرف عاصمہ شیرازی بلکہ میرے بچوں کے خلاف بھی کمپین کرتی رہی۔ ہم نے کبھی جواب نہیں دیا۔ عاصمہ شیرازی کے پروڈیوسر علی سلمان علوی کی بیوی کی خودکشی کو قتل اور عاصمہ شیرازی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، نیچے ٹویٹ میں ابھی بھی آپ نے میرے بچوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ آپ نے ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا ہے۔ مگر اب آپ کو وہ جواب ملے گا جو بہت پہلے ملنا چاہئے تھا۔ @MaleehaHashmey
اندازہ کریں یہ ذہنی مریض عدیل راجا اے بی این نیوز کا پر��ڈیوسر ہے، ارشد شریف شہید کا جگری یار مگر سوال:
👈وہ کون تھا جو ارشد شریف کو باہر بھجوانے میں آلہ کار بنا؟؟؟
👈وہ کون تھا جس نے ارشد شریف فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو ضروری دستاویزات فراہم کرنے کی بجائے کہا کہ فون گُم گیا ہے؟؟؟
👈 وہ کون تھا جو ہر وقت ارشد شریف سے رابطے میں تھا مگر کہا مجھے نہیں پتا وہ کن لوگوں کے پاس رہ رہا تھا؟؟؟
👈وہ کون تھا جس نے شہادت سے پہلے ارشد شریف سے فون پر بات کی مگر تحقیقات میں بتایا کہ کوئی خاص بات نہیں ہوئی بس کام کی بات ہوئی؟؟؟
پی ٹی آئی کی اسٹریٹیجی میں بڑی تبدیلی!!!
ایسا کیا ہوا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا اسٹبلشمنٹ کو چھوڑ کر اب صحافیوں کے پیچھے پڑ گئی؟؟
Detailed Analysis on YouTube
پی ٹی آئی کی آستین کے سانپ!!!!👇👇👇
https://t.co/MxFt786PP6
عاصمہ شیرازی کے خلاف کمپین کےطور پر چلائی جانے والی یہ ویڈیو نامکمل اورحقائق سے برعکس ہے۔
دو سال سات ماہ پہلے 18مئی2023 کوعاصمہ شیرازی نے اس ویڈیو میں کہاتھا کہ جس طرح عمران خان کے کیسز چل رہےہیں انہیں یقین ہے کہ انہیں سیاست سے مائنس کیا جا سکتا ہے، جو آج نظر آرہا ہے۔ مکمل کلپ 👇
ترجمان تحریک ��نصاف ملیحہ ہاشمی صاحبہ: اگر آپ نے کبھی چمچہ گیری سے ہٹ کر صحافت کی ہو تی تو پتہ چلتا کہ سوال کسے کہتے ہیں، سوال کیوں کیا جاتا ہے، جواب رکارڈ پر کیسے لائے جاتے ہیں، جواب دینے والے کو وقت کیسے دیا جاتا ہے، اس کی بات کو کیسے سنا جاتا ہے۔ آپ تو پی ٹی آئی کی پریس کانفرنسیں کرتی رہی ہیں۔ 👇
Absolutely right Absa!
This is a story of struggle of all women journalists in media who are intent-fully belittled by most of the chauvinists. They will never acknowledge you for being a woman, they are afraid of it. A journalist is a journalist “not male or female”, lack of gender sensitivity among most ‘informed media men’ is disappointing. More power to you @AbsaKomal@asmashirazi and the women power in media.