اے تن میرا چشماں ہووے
تے میں مرشد ویکھ نہ رجاں ہو
لُوں ، لُوں دے منڈھ لکھ لکھ چشماں
اک کھولاں اک کجاں ہو
اتنا ڈٹھیاں مینوں صبر نہ آوے
تے میں ہور کدے ول بھجاں ہو
مرشد دا دیدار ہے باہوؔؒ
میوں لکھ کروڑاں حجاں ہو
#ڈر_گئے_خان_کی_جھلک_سے
اے میری پُوئی اے (پھپھو) - میری سہیلی ہے
میرا ابو نائیوں کا کام کرتا ہے، ہمارے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ پھپھو کی ضرورتیں بھی پوری کر سکیں، اسکے لئیے کچھ پیسے دیں تا کہ میں اسکی ضرورتیں پوری کر سکوں
پانچ ہزار مدد پہنچائی
سویرا بی بی چھمہینے سے خاوند سے ناراض ہو کر میکے بیٹھی ہیں، اپنی استادنی سے مشین لیکر کپڑے سیتی ہیں، دو بچے پالنا مشکل ہے اور سلائی مشین کبھی وہ دے دیتے کبھی نہیں دیتے
برانڈڈ سلایی مشین بمعہ موٹر سویرا بی بی کو دلوا دی گئی
@IsraelMFA Shame on you to make fun of this incident. You are the ones who spread violence all over the world, killing children, starving them, making them need amputations without anesthesia…
You were the ones who just attacked, abused and even raped our participants and you will pay!
دو بچیاں جو کہ پیدائشی معزور ہیں ان کے والد مزدوری کرتے ہیں شہر فاضل پور ضلع راجن پور کے رہائشی ہیں ان کے والد کی کوئی جائیداد نہیں یہ اپنے چچا کے گھر رہتی ہیں آپ محسوس کریں کس کرب میں ہوگا ان بچیوں کے والد صاحب .
ان کو تین پہیے والی سائیکل اور پہننے کے لیے کپڑے ضرورت ہیں
مستری ساتھ نہیں لے جاتے، وہ کہتے ہیں تیرا قد چھوٹا ہے، تم گو پہ کھڑے ہو کے کام نہیں کر سکتے، دو بچے ہیں میرے، بیوی ہے، مجھے بھی روٹی چاہئیے لیکن مجھے کام نہیں ملتا
اعجاز صاحب کی پانچ ہزار مدد ہو گئی
یہ میرے شوہر ہیں، پھیپھڑے خراب، دمہ، ٹی بی، دل کی بیماری، ہم اتنی دوائیاں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے اور شوہر کیلئیے کچھ مدد درکار ہے
کوئی شک نہیں، یہ دور بہت سخت ہے
پانچ ہزار امداد پہنچا دی گئی
اٹلی سے غزہ کیلئے روانہ ہوگئے ۔۔
جینوسائیڈ جاری،محاصرہ جاری ہے،فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ جاری ہے۔۔۔
اس لئے فلوٹیلا جائے گا،جب تک فلسطین آزاد نہیں ہوتا۔
نہر سے بحر تک فلسطین آزاد ہوگا اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہوگا انشاءاللہ۔
بھارت کے شہر دہلی میں 2000 سے زیادہ کار چارجنگ پوائنٹس ہیں، جہاں نارمل چارجنگ ریٹ 3 روپے اور فاسٹ چارجنگ ریٹ 7 روپے فی یونٹ ہے، بھارت 2030 تک 80 فیصد الیکٹرک کاریں اور بائیکس استعمال کرے گا، اور اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس سے بھارت کو 60 ارب ڈالر کا فیول امپورٹ نہیں کرنا پڑے گا، بھارت کے ساتھ مقابلہ ان چیزوں میں کرنا چاہئیے،، مگر ہم واہگہ بارڈر پہ اس بات پہ خوش ہو رہے ہیں کہ ہمارے والے کی ٹانگیں زیادہ اوپر جاتی ہیں
یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے ٹانگیں پٹخنے کا دور اب پرانہ ہوچکا ہے ،،
اگر تمام آئی پی پیز کے معاہدے قانون کےمطابق اس سال ختم ہوجائیں، جیسا کہ ان کے معاہدوں میں لکھا ہوا ہے، تو موجودہ گرمیاں مہنگی بجلی کی آخری گرمیاں ہیں۔ موجودہ بحران اس لیے پیدا کیا جا رہا ہے، تاکہ ان آئی پی پیز کے معاہدوں میں ناجائز توسیع کی جا سکے۔ سینئر صحافی رضوان رضی کا انکشاف
1؛ کم عمر بچی تندور پہ کام کرتی ہوئی، یتیم ہے، دو سو دیہاڑی ملتی
2؛ کم عمر زین علی، یتیم، دو سو دیہاڑی پر دانے بھونتا ہے مالک آرام فرماتا ہے
3؛ کم عمر علی شیر، دو سو دیہاڑی پر سموسے والے ہوٹل پہ کام کرتا ہے
بچوں سے بیگار عروج پر کوئی پوچھنے والا نہیں
پندرہ ہزار امداد پہنچائی
اسی بازو سے کام کرتا تھا، یہی ٹوٹ گیا، بالکل فارغ بیٹھا ہوں، ڈاکٹر صاحب نے پچیس تیس ہزار خرچہ بتایا ہے، راڈ ڈالینگے، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، کام سے ویسے ہی چھٹی
پانچ ہزار مدد ملی ہے، اللّہ اسکا صلہ دے، آمین