🇵🇰 Imran Khan's sister, Aleema, is again pleading for Pakistan's authorities to transfer him to a hospital as serious concerns about his health grow:
"Get Imran treated. We have been demanding this since February: that Imran has the right to be treated.
I appeal to you. Know our pain first.
When your mother or your brother is sick in your house, tell me what your first priority would be."
His family, doctors, and lawyers haven’t been allowed to see him for seven months, which is insane
Source: @Aleema_KhanPK, @JKhanClassified / Writer: Ian
عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہوئی ہوئی ہے،انکا بلڈ پریشر بھی اب ہائی رہتا ہے،انکی بیٹوں سے مارچ کے بعد سے بات تک نہیں کروائی گئی،پچھلے سات مہینے سے انکی کسی سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔
Today marks 3 years since Imran Khan was unjustly incarcerated.
He is still being denied basic human rights and remains in solitary confinement.
His abominable treatment is an affront to democracy. I will continue to demand the release of all political prisoners, everywhere.
The sons of the imprisoned former leader of Pakistan Imran Khan told CNN they fear for their father's health, claiming authorities in the South Asian country are preventing them from seeing him.
Pakistan's government said it "categorically rejects" the claim that Khan has faced a communication blackout or been denied access to his family, lawyers and doctors. Read more: https://t.co/FZSRdjTfaC
پانچ مہینے سے زیادہ ہو گئے ہیں ہماری اپنے والد سے بات ہوئے۔
انکی آنکھ کا علاج آنکھ کی تکلف کے تین مہینے بعد شروع کروایا گیا
اور جو علاج کروا رہے ہیں وہ بھی ٹھیک نہیں کروایا جا رہا۔
قاسم خان
PAKISTAN: Ahead of the third anniversary of former Prime Minister Imran Khan’s ongoing detention, Isabelle Lassee, Amnesty International’s Acting Regional Director for South Asia, said:
“For three years, Pakistan’s authorities have systematically denied Imran Khan the right to a fair trial, subjected him to prolonged solitary confinement, and limited his access to medical care and visitation rights. He has not been allowed to meet his family for more than eight months and his vision has reportedly deteriorated significantly. Both he and his wife, Bushra Bibi Khan, have now been denied regular access to legal counsel since December 2025."
Read more: https://t.co/hc6eKnIITh
اٹھا لیا گیا تو کئی ہفتوں یا مہینوں تک کوئی خیر خبر نہیں تھی۔ نا تو وکیل سے رابطہ کروایا گیا اور نا ہی اہلخانہ سے ۔ اس دوران سختیوں اور پابندیوں کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کافی وقت کے بعد پہلی مرتبہ گھر فون کرنے کی اجازت ملی۔ بتایا گیا کہ دو تین منٹ کی اس فون کال کے دوران کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کرنی۔ مہینوں بعد ہیلو کی آواز نے زار و قطار رلا دیا۔
“ جنید بول رہا ہوں آپ ٹھیک ہیں ؟ میں بھی ٹھیک ہوں “
تیسرا سوال آپ کی جان نکال دے گا۔
“ عمران خان رہا ہوگیا ہے ؟”
سیاسی گفتگو نہ کرنے کی پابندی تھی۔ خلاف ورزی پر آپریٹر نے کال منقطع کردی۔ جنید جہانگیر کی زبان میں لکنت ہے اللہ نے وہ کسر دماغ میں پوری کردی ۔ دو تین دفعہ اس سے ملاقات ہوئی تھی ۔قدیمی ٹوئٹر والے سبھی لوگ اسے جانتے ہیں۔ پرانے دور کا سلیبرٹی۔ سلمان رضا فرنٹ سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک نہیں رہا لیکن انتظامی امور میں ٹیم ورک میں سلمان رضا نے تحریک انصاف کے لیے بہت کام کیا۔
کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بہت لوگوں سے پوچھا۔ ان کیساتھ مسئلہ کیا ہوا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف آفیشلز نے اپنی گردن چھڑانے کے لیے ان کا نام دیا اور یہ امارات میں دھر لیے گئے۔ کچھ لوگوں نے یہ بتایا کہ انکی کچھ پوسٹس اماراتی حکومت کے راڈار میں آئیں جو ان کے لیے یہ مسئلہ بن گیا۔ جتنے منہ اتنی کہانیاں ۔ کچھ کا خیال ہے کہ تحریک انصاف انکے لیے کچھ نہیں کررہی۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف نے کافی سفارت کاروں ، سابق وفاقی وزراء اور بیک ڈور چینلز کی مدد سے انکی جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ سے انکار ہوا۔
سلمان رضا بال بچے دار ہے۔ انکی اہلیہ کی پوسٹس دکھائی دیتی رہتی ہیں۔ جنید کے خاندان والے بھی روتے پیٹتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں معلوم ہوا کہ ان کو مختلف طرح کے طبی مسائل ہے۔ بغیر بے ہوش کیے سلمان رضا کی ایک سرجری بھی کی گئی۔ ان کی صحت بھی دن بدن گررہی ہے۔
اب شاید دو تین سال ہوچکے۔ کتنی ہی عیدیں ان دو خاندانوں کی سسکیوں میں گزری ہوں گی۔ بوڑھے ماں باپ دن میں کتنی ہی مرتبہ روتے ہوں گے۔ ان بوڑھے والدین کی بہنوں اور اہلیہ کی بچوں کی سسکیاں اور بددعائیں عرش ہلائیں گی ، ہم یہ سب بے غیرتیاں کرنے والوں کے لیے زمین ہلاتے رہیں گے۔ ایک دن جنید گھر فون کرے گا اور پوچھے گا “ اس کا کیا بنا” اسے بتائیں گے “ وہ آگیا ہے “ ہم سوشل میڈیا کی طاقت سے عمران خان سے جو پہلا کام لیں گے وہ جنید اور سلمان کی رہائی کا لیں گے۔
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
اب آتے ہیں ایک سنجیدہ تجزیے کی طرف۔
میری رائے میں، ’’کمپنی‘‘ کئی برسوں سے 1973ء کے آئین کو ختم یا بے اثر کرکے اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم ناکام ہوچکی ہیں اور اب سسٹم کے بیٹھ جانے کا اعتراف کیا جارہا ہے، تو میرے نزدیک یہ درست تجزیہ نہیں۔ ایک فلم کا مشہور ڈائیلاگ ہے: ’’ایوری تھنگ از پلانڈ۔‘‘ یعنی سب کچھ منصوبے کے مطابق ہورہا ہے۔
26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم اصل ہدف کی طرف بڑھنے میں محض مددگار مراحل تھیں؛ یہ کبھی بھی ان کا حتمی حل نہیں تھیں۔ نیا آئینی نظام لانے سے پہلے عدلیہ کے دانت نکالنا ضروری سمجھا گیا، کیونکہ ایک آزاد اور طاقت ور عدلیہ کسی بھی متنازع آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی تھی۔ جب عدلیہ کو بڑی حد تک بے اثر کردیا گیا تو اس کے بعد چھوٹے صوبے بنانے کا منصوبہ سامنے لایا گیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر 28ویں آئینی ترمیم میں نئے اور چھوٹے صوبوں کا معاملہ شامل ہوگا۔ جب صوبوں کی تعداد اور حدود تبدیل ہوں گی تو صوبوں کے درمیان وسائل اور مالی حصے کی تقسیم بھی نئے سرے سے طے کرنا پڑے گی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ لوگ اپنا حصہ بھرپور طریقے سے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم، 28ویں ترمیم بھی ان کا آخری ہدف نہیں ہوگی۔
اصل منصوبہ صدارتی نظام یا کسی قسم کے سنگل پارٹی رول کے قیام کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ تصور ان کے ذہنوں میں کئی برسوں سے موجود ہے اور اب معاملات آہستہ آہستہ اسی سمت لے جائے جارہے ہیں۔ سیاست دانوں کو نااہل، بدعنوان اور ناکام ثابت کرنے کا منظم عمل 2008ء میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ اسی دوران مستقبل کے مراحل کی منصوبہ بندی بھی شروع کردی گئی تھی۔
قاضی کو بھی اسی مقصد کے تحت اچانک اٹھا کر ہائی کورٹ کا سربراہ بنایا گیا۔ میرے تجزیے کے مطابق، انہیں پہلے دن سے اس پورے منصوبے میں ایک مخصوص کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حصے کا کام پوری طرح انجام دیا۔ اگر ’’کمپنی‘‘ کے اختیار میں ہوتا تو شاید قاضی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نشانِ حیدر بھی دے دیتی۔
ان کے لیے اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب عمران خان کو راندۂ درگاہ قرار دیا گیا، لیکن عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ توقع یہ تھی کہ عوام عمران خان کو بھی باقی سیاست دانوں جیسا سمجھ کر مسترد کردیں گے، مگر اس کے برعکس لوگوں نے انہیں تبدیلی، مزاحمت اور آزادی کا استعارہ بنادیا۔
اسی لمحے سے عمران خان کے خلاف ایسے جبر کا آغاز ہوا جس کی ماضی میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عمران خان اور عوام نے اس بیانیے کو تہس نہس کردیا تھا کہ تمام سیاست دان ایک جیسے ہیں اور صرف طاقت ور ادارے ہی ملک کے وفادار اور اہل محافظ ہیں۔
جب یہ بیانیہ ناکام ہوگیا تو اس کا جواب بے مثال جبر، خوف، گرفتاریوں اور قتل و غارت کی صورت میں دیا گیا۔ اب کوشش یہ ہے کہ اگلی تمام منازل بھی اسی جبر اور خوف کے سائے میں طے کرلی جائیں۔ جو شخص اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا تھا، اسے اٹھا کر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔
اسی لیے ان کی ہر غیر آئینی اور غیر جمہوری کوشش کی بھرپور مزاحمت ضروری ہے۔ یہ جو کچھ بھی کررہے ہیں، اس کا مقصد ملک کو مضبوط بنانا نہیں بلکہ اقتدار پر اپنی گرفت مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس پورے منصوبے کا نتیجہ، بالآخر، پاکستان اور اس کے عوام کے لیے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
We have absolutely no reliable information on Imran Khan’s health. Imran Khan have never had any blood pressure issues. His normal blood pressure has always been on the lower side since he does regular exercise for several hours a day. So this disinformation being spread on Imran Khan has all the markings of the agency disinformation cell. Are they trying to set the stage for something more serious to happen to him? All those claiming credible sources are effecting their own credibility!
"سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے..."
قائد اعظم یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی طالب علم اسامہ جمیل راولاکوٹ میں گولی کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔
قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم اسامہ جمیل فیصلہ سازوں کے اقتدار بچانے کی حوس کا نشانہ بن گیا۔ جب سے یہ رجیم آئی ہے اس نے پرامن مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے سیدھی گولیوں کا فسطائی نظام شروع کیا ہے،اس کے باوجود چار سال سے عوام ان کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ آج جو خون کا کھیل آزاد کشمیر میں کھیلا جارہا ، یہی کھیل پہلے چھبیس نومبر کو پی ٹی آئی کے خلاف ، مریدکے میں ٹی ایل پی کے خلاف بھی کھیلا جا چکا ہے۔ جب تک پوری قوم متحد ہوکر نہیں نکلے گی ماوں کے بے گناہ بچے ایسے ہی شہید ہوتے رہینگے۔
جب تک پوری قوم متحد ہو کر اس ظلم کے خلاف نہیں کھڑی ہوگی، ماؤں کے بے گناہ بچے یوں ہی قربان ہوتے رہیں گے۔
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
ایک بائیس گریڈ کے ذہنی مریض نے پاکستان کا امن، معیشت، حق آزادی رائے، عدلیہ، جمہوریت، آئین اور اخلاقیات کو صرف اپنی طاقت اور اقتدار کے لیے تباہ کر دیا ہے۔
#ذہنی_مریض_نامنظور