جناب صدر و وزیراعظم ریاست! آپ ریاست کے بڑے ہیں، ممبران کشمیر کونسل ہیں۔ جناب وزیراعظم پاکستان! آپ چیئرمین کشمیر کونسل ہیں۔
ریاست کے حالات آپ کی مداخلت کے متقاضی ہیں۔ انسانی جانوں کا یہ نقصان کس طور بھی جائز نہیں ہے۔ فوری طور پر نوٹس لیں اور فائر بندی کے احکامات جاری فرمائیں
#AJK
اگر ایک کیڑا 🐝 کافی کے کپ ☕ میں گر جائے تو کون کیا کرے گا 🤔
برطانوی 🇬🇧
کپ سڑک پر پھینک دے گا اور ہمیشہ کے لیے کافی شاپ چھوڑ دے گا۔
امریکی 🇺🇸
کیڑے کو نکالے گا اور کافی پی لے گا۔
چینی 🇨🇳
کیڑا بھی کھا جائے گا اور کافی بھی پی لے گا۔
اسرائیلی
(1) کافی امریکی کو اور کیڑا چینی کو بیچ دے گا۔
(2) تمام میڈیا چینلز پر جا کر رونا شروع کر دے گا کہ وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے
(3) فلسطینیوں، حزب اللہ، شام اور ایران پر جراثیمی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگائے گا۔
(4) مسلسل یہ رونا روتا رہے گا کہ اس کے ساتھ یہود دشمنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
(5) فلسطینی صدر سے مطالبہ کرے گا کہ وہ کافی کے کپوں میں کیڑے ڈالنا بند کرے۔
(6) مغربی کنارے اور غزہ پر دوبارہ قبضہ کر لے گا۔
(7) گھروں کو مسمار کرے گا، زمینیں ضبط کرے گا، پانی اور بجلی بند کرے گا اور فلسطینیوں پر اندھا دھند فائرنگ کرے گا۔
(8) امریکہ سے فوری فوجی امداد اور دس لاکھ ڈالر قرض مانگے گا تاکہ نیا کافی کا کپ خرید سکے۔
(9) اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کرے گا کہ کافی شاپ کے مالک کو سزا دی جائے اور صدی کے اختتام تک اسے مفت کافی فراہم کی جائے۔
(10) اور آخر میں پوری دنیا پر الزام لگائے گا کہ وہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اسرائیلی قوم سے ہمدردی بھی نہیں کر رہی
😬😬😬😬😬
لاہور میں ایک عجیب واردات سامنے آئی اور اس بار طریقہ واردات نے سب کو حیران کر دیا۔
ذیشان، جو ایک ان ڈرائیو کیپٹن ہیں ، معمول کے مطابق جوہر ٹاؤن میں رائیڈ کے انتظار میں تھے کہ ایک خاتون، صائمہ خان، نے انہیں بک کیا۔ کال پر اس نے خود کو ڈاکٹرز ہسپتال کے باہر بتایا۔ چند ہی منٹوں میں وہ وہاں پہنچ گئے۔
خاتون باہر آئی تو بظاہر ایک مریضہ لگ رہی تھی — آہستہ چل رہی تھی، جیسے واقعی تکلیف میں ہو۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کی اجازت مانگی، وجہ بتائی کہ ریڑھ کی ہڈی کا مسئلہ ہے۔ ڈرائیور نے ہمدردی میں اجازت دے دی۔
سفر شروع ہوا تو اس نے ایک اور “عام سی” بات کی جوس نکالا، خود پیا، اور پھر ڈرائیور کو بھی آفر کیا۔ پہلے انکار ہوا، مگر پھر وہی جملہ جو اکثر دل نرم کر دیتا ہے:
“بھائی، رزق کی بے حرمتی نہ کریں…”
دو گھونٹ… صرف دو گھونٹ اور کہانی بدل گئی۔
کھوکھر چوک پہنچتے پہنچتے ذیشان کی حالت بگڑنے لگی۔ خاتون نے موقع دیکھا، فون کا پاس ورڈ لیا، موبائل اور کیش لے کر غائب ہو گئی۔
لیکن یہاں کہانی ختم نہیں ہوئی…
پٹرول پمپ کے عملے نے صورتحال دیکھ کر 1122 کو بلایا، پولیس کو اطلاع دی گئی۔ اور پھر وہی چیز جو اس کیس کو خاص بناتی ہے:
تیز ایکشن۔
• سی سی ٹی وی فوری چیک
• موبائل کا آئی ایم ای آئی ٹریس
• لوکیشن لائیو ٹریک
چند گھنٹوں میں پولیس اسی خاتون تک پہنچ گئی وہی فون ہاتھ میں، اور مزید رقم نکالنے کی کوشش میں۔
گرفتاری ہوئی، اعتراف ہوا، اور ایک اور حقیقت سامنے آئی:
تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نشے (ice / ch*rs) کی لت نے اسے جرم کی طرف دھکیل دیا تھا۔
یہ کہانی صرف ایک واردات نہیں ایک وارننگ ہے:
اعتماد، ہمدردی اور “رزق” جیسے جذبات… بعض اوقات سب سے خطرناک ہتھیار بن جاتے ہیں۔
سیکھنے والی بات:
• دوران ڈیوٹی کسی اجنبی سے کھانے پینے کی چیز ہرگز قبول نہ کریں
• ہوشیاری بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی انسانیت
انہی وجوہات کی بناء پر اسلام نے نشے اور منشیات جیسی چیزوں سے ہمیشہ دور رہنے کی تلقین فرمائی!
🔴 ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بیکائی:
ایران 48 گھنٹوں سے نہیں بلکہ 48 سالوں سے مسلسل الٹی میٹم اور ڈیڈ لائن کا سامنا کر رہا ہے۔
پتھر کے زمانے میں بھی ایرانی شائستگی اور وقار کے ساتھ بات کرتے تھے۔ ماہرین نفسیات کو دوسروں کی بدتمیزی کے پیچھے وجوہات کی تحقیق کرنی چاہیے۔
پاکستان میں” وقار اور خودداری “ کیساتھ زندگی گزارنے کیلئے 15 تجاویز و مشورے
پاکستان میں زندگی گزارنا ایک فن ہے، اور یہاں وہی شخص سکون سے رہتا ہے جو حالات سے لڑنے کی بجائے انہیں ”ہینڈل“ کرنا سیکھ لے۔ یہ وہ 15 زمینی حقائق ہیں جنہیں اگر آپ حکمت اور سمجھداری کی ”میٹھی گولی“ سمجھ کر نگل لیں، تو آپ کی زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔
1-ظاہر پر یقین
یہاں لوگ کتاب کو اس کے سرورق سے جج کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت، لباس اور گفتگو کا انداز آپ کی آدھی کامیابی ہے۔ اگر آپ خود کو اچھے طریقے سے پیش کریں گے (Well-dressed)، تو دکان ہو یا دفتر، آپ کو عزت اور راستہ دونوں ملیں گے۔ اسے دکھاوا نہ سمجھیں، اسے ”پریزنٹیشن“ سمجھیں۔
2-تعلقات ایک سرمایہ ہیں
اسے سفارش کہہ کر مسترد نہ کریں، اسے ”تعلقاتِ عامہ“ (PR) سمجھیں۔ مشکل وقت میں انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ لوگوں سے خلوص سے ملیں اور تعلق بنائیں، کیونکہ پاکستان میں ایک فون کال وہ کام کروا سکتی ہے جو مہینوں کی خواری نہیں کروا سکتی۔
3-اپنی خوشی کی حفاظت
اپنی کامیابی، اپنی تنخواہ اور اپنے مستقبل کے پلانز کو راز رکھیں۔ خوشی کا شور مچانے کے بجائے اسے خاموشی سے منائیں، کیونکہ خاموشی میں سکون ہے اور شور میں حسد۔
4-اپنی مدد آپ
کسی مسیحا یا حکومت کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے مسائل کا حل خود ڈھونڈیں۔ یہاں سسٹم تھوڑا سست ہے، اس لیے جو شخص اپنی ذمہ داری خود اٹھا لیتا ہے اور متبادل انتظام (جیسے جنریٹر، سولر، پرائیویٹ میڈیکل) کر لیتا ہے، وہ ڈپریشن سے بچ جاتا ہے۔
5-زبان کی مٹھاس
پاکستان میں لہجے کی سختی کام بگاڑ دیتی ہے اور زبان کی مٹھاس پہاڑ جیسا مسئلہ حل کروا دیتی ہے۔ ”بھائی جان“ اور ”محترم“ کہہ کر بات کرنے سے آپ کا کام جلدی ہو جاتا ہے۔ یہاں غصے کی بجائے عاجزی زیادہ طاقتور ہتھیار ہے۔ویسے بھی عاجزی اور خوش اخلاقی ہمارے دین کی اہم اقدار ہیں
6-انگریزی بطور ہنر
انگریزی سے مرعوب ہونے کی بجائے اسے ایک ”ٹول“ یا اوزار سمجھ کر سیکھ لیں۔ یہ بین الاقوامی زبان ہے اور ترقی کی چابی ہے۔ اگر آپ کو اچھی انگریزی آتی ہے تو آپ کی بات زیادہ وزن دار سمجھی جاتی ہے، اسے اپنی پروفیشنل لائف کا حصہ بنائیں۔
7-صحت سب سے پہلے
سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال کے پیشِ نظر دانشمندی اسی میں ہے کہ بیماری کا انتظار نہ کیا جائے۔ اپنی خوراک اور ورزش پر دھیان دیں تاکہ ڈاکٹر کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ یہاں پرہیز علاج سے واقعی بہت بہتر ہے۔
8-بحث سے گریز
سڑک پر یا سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے ذہنی دباؤ کے۔ یہاں ہر شخص اپنی رائے میں حق بجانب ہے۔ مسکرا کر گزر جانا یا ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں“ کہہ کر بات ختم کر دینا ذہنی سکون کی ضمانت ہے۔
9-مالی منصوبہ بندی
مہنگائی ایک حقیقت ہے، اس پر کڑھنے کی بجائے اپنی آمدنی بڑھانے پر توجہ دیں۔ بچت کو کیش کی صورت میں رکھنے کے بجائے کسی ایسی چیز (سونا/پلاٹ) میں رکھیں جس کی قیمت وقت کے ساتھ بڑھے۔ یہ معاشی سمجھداری ہے۔
10-امید لیکن تیاری کے ساتھ
اچھے کی امید رکھیں لیکن برے حالات کے لیے تیار رہیں۔ اپنے پاس ہمیشہ ایک ”پلان بی“ رکھیں۔ چاہے وہ آمدنی کا دوسرا ذریعہ ہو یا ایمرجنسی فنڈ، یہ آپ کو راتوں کو پرسکون نیند دے گا۔
11-رشتہ داروں سے فاصلہ اور محبت
رشتہ داروں سے محبت ضرور کریں لیکن اپنے مالی اور نجی معاملات میں ایک حد (Boundary) قائم رکھیں۔ دوریوں میں عزت برقرار رہتی ہے۔ میل جول اتنا رکھیں جتنا دونوں طرف سے خوش اسلوبی سے نبھایا جا سکے۔
12-قانون اور احتیاط
قانون کو توڑنے کی بجائے اس کے احترام کو اپنی طاقت بنائیں۔ ہیلمٹ پہننا، لائسنس ساتھ رکھنا اور ٹیکس دینا آپ کو پولیس یا اداروں کے خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ قانون پر عمل کرنا دراصل خود کو محفوظ کرنا ہے۔
13-ہنر کی قدر
صرف ڈگری پر انحصار کرنے کی بجائے کوئی ایسا ہنر سیکھیں جس کی مارکیٹ میں مانگ ہو۔ ڈگری آپ کو انٹرویو تک لے جائے گی، لیکن آپ کا ہنر (Skill) آپ کو کرسی پر بٹھائے گا اور ترقی دے گا۔
14-وقت کی قدر
اگرچہ یہاں وقت کی پابندی کم ہوتی ہے، لیکن اگر آپ وقت کے پابند بن جائیں تو آپ دوسروں سے ممتاز (Stand out) ہو جائیں گے۔ جو شخص دوسروں کے وقت کی عزت کرتا ہے، لوگ اس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔
15-شکر گزاری
اتنے مسائل کے باوجود پاکستان میں جو نعمتیں (خاندان، آزادی،سستی لیبر ) میسر ہیں، ان پر شکر ادا کریں۔ شکوہ کرنے سے نعمتیں کم لگتی ہیں، شکر کرنے سے ان میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔ مثبت رویہ ہی سب سے بڑی دولت ہے۔
آخری مشورہ
پاکستان گلاب کے پھول کی طرح ہے، اس میں کانٹے (مسائل) ضرور ہیں لیکن اس کی خوشبو (اپنائیت اور مواقع) بھی لاجواب ہے۔ کانٹوں سے دامن بچائیں اور خوشبو سے لطف اٹھائیں۔ یہاں جینا مشکل نہیں، بس تھوڑا ”اسمارٹ“ ہونا پڑتا ہے۔
#جاوید_تیموری
پاکستان کو اپنی #معیشت بہتر کرنے کے لیے چیلنجز کا مقابلہ کر کے ان کو مواقع میں بدلتے ہوئے درست اقدامات کرنے چاہیں جن سے پاکستان کو فائدہ ہو، نہ کہ معیشت، پٹرول کی قیمتوں میں غیر معقول اضافہ کر کے غریب و مجبور عوام کو نچوڑتے کر بہتر کی جائے۔
#petroleumprices#pakistan#IranWar
اگرچہ عالمی سطح پر افراتفری ہے لیکن #پاکستان کے حالات اتنے برے نہیں کہ #پٹرول کی قیمت ایک دم حد سے زیادہ بڑھا دی جائے۔
پاک بھارت #جنگ اور امریکہ-اسرائیل ایران جنگ میں سفارتی کوششوں کے بعد اپنی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے
اگر اسرائیل محمد بن سلمان کو قتل کر دیتا تو مجھے خوشی محسوس نہ ہوتی، حالانکہ وہ میرے ملک کی تباہی اور بہت سے یمنیوں کے قتل کا سبب بنا تھا۔ حالانکہ وہ وہی تھا جس نے 2017 میں میرے والد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو 10 ملین ڈالرز انعام دینے کا اعلان کیا تھا، اور پھر 2020 میں میرے والد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ہمارے اور اس شخص کے درمیان جو کچھ ہوا اس کے باوجود میں کبھی خوش نہیں ہو سکتا اگر وہ امریکہ یا اسرائیل کے ہاتھوں مارا جائے۔
جی ہاں، میں اپنے ملک اور میرے والد کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے لیے انصاف چاہتا ہوں، لیکن میں اپنے والد کا خون کبھی بھی اسرائیل کے کیے پر اپنی خوشی کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔
اسرائیل کی کوئی بھی فتح تمام مسلمانوں، عربوں، آزاد لوگوں اور انسانیت کی بلا استثناء شکست ہے۔
خطے میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی وجہ اسرائیل اور امریکہ ہیں، جو خون بہایا گیا اس کے ہر قطرے کی وجہ، تمام اختلافات کی وجہ ہے۔ فلسطین کا مسئلہ میرے لیے کسی بھی دوسرے مسئلے سے زیادہ اہم ہے، اور اگر محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ جنگ کرتا تو میں ان کے ساتھ اسرائیل کے خلاف لڑتا، اس کے باوجود اس نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔
یہ احمد حسن زید کی تحریر ہے۔ احمد حسن
یمنی سیاستدان حسن محمد زید کے فرزند ہیں۔
حسن محمد زید حزب الحق (Al-Haq Party) کے بانی اور جنرل سیکریٹری تھے۔
@Ahmed_hassan_za
🚨 BREAKING: 🇶🇦
Qatari Minister Lolwah Al-Khater to Trump and Netanyahu:
“Stop speaking on our behalf. Stop using us as an excuse for your agendas. We don’t want you to ‘liberate’ us—we just want to be left alone. Stop fueling wars. It’s not our fault you failed in school and were educated by Hollywood—the world is not a movie.”
🚨🇺🇸 DAY 15 - VERY IMPORTANT WAR UPDATE, WESTERN MAINSTREAM MEDIA KEEPS HUSH HUSH:
As of (3/15/26) countries responses to Trump's Hormuz troops/warships emergency help request:
Rejected:
🇨🇳 China: Sovereign right
🇫🇷 France: No
🇯🇵 Japan: Own decisions
🇩🇪 Germany: No convoy
🇳🇴 Norway: No convoy
🇮🇹 Italy: No
🇭🇺 Hungary: No
🇸🇰 Slovakia: No
🇨🇿 Czech: No
🇹🇷 Turkey: No
🇨🇭 Switzerland: No
Discussing/Pending:
🇬🇧 UK: Options review
🇰🇷 S. Korea: Under review
🇦🇺 Australia: Scared but under review
So far the Iranians have only allowed 77 oil ships to cross the Strait of Hormuz, since the outbreak of the war. The transactions for all that cargo were carried out only in Yuans. This is the first proper attempt at de-dollarization in history.
🚨BREAKING
American professor John Mearsheimer:
“There is no state on the planet more ruthless, more deadly than Israel.
The idea that Israel could use nuclear weapons against Iran is certainly possible.
And frankly, that scenario really worries me.”
🔴 اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا:
آپ نے سنا ہوگا کہ اسپین تنہا ہے۔ جب ہم نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا تھا، تب بھی یہی لوگ یہی بات کہہ رہے تھے، اور بعد میں دوسرے بھی ہمارے پیچھے آئے۔
آخرکار تنہا وہی رہ جائیں گے جو ناقابلِ دفاع چیز کا دفاع کرتے ہیں۔
شعیب ملک کا بیان:
سال 2023 کے آغاز میں میری پہلی شادی باہمی رضامندی سے ختم ہوئی۔ ہم دونوں نے یہ طے کیا کہ ہم اپنے بچے کی مشترکہ پرورش کریں گے۔ اسی کے بعد میں نے دوسری شادی کی۔
میں نے ہمیشہ اپنی نجی زندگی کو اپنے خاندان کے احترام میں نجی ہی رکھا ہے، مگر لگتا ہے کہ میری خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا گیا۔
میری دوسری شادی کے بعد کچھ لوگوں نے میرا نام ان افراد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جن سے میں کبھی ملا تک نہیں۔ میری ذاتی زندگی کے بارے میں بغیر تصدیق اور بغیر اجازت کہانیاں گھڑی گئیں۔ میری اہلیہ کو بھی ایسی باتوں پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں، جو میرے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اس پر بات کرنا ضروری ہو گیا ہے، کیونکہ میرا بیٹا اس عمر میں ہے جہاں وہ یہ جھوٹی اور من گھڑت خبریں پڑھ سکتا ہے۔ محض چند ویوز اور معمولی فائدے کے لیے پھیلائی جانے والی یہ بے بنیاد باتیں ان لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بن رہی ہیں جو میرے لیے اہم ہیں۔
میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ میری ذاتی زندگی یا کسی کی بھی نجی زندگی کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔
ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے میں جانتا ہوں کہ تنقید ساتھ چلتی ہے، مگر اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ کسی کی پرائیویسی میں مداخلت کرنا اور ساکھ کو نقصان پہنچانا اس حد کو پار کرنا ہے۔
ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، زندگی میں چند لائکس اور ویوز سے بڑھ کر بھی بہت کچھ ہے۔ میرا بھی ایک خاندان ہے، جیسے آپ سب کا ہے۔
امید ہے کہ اس پیغام کو مثبت انداز میں لیا جائے گا اور میری ذاتی زندگی سے متعلق قیاس آرائیاں اور مذاق بند ہوں گے۔
بصورتِ دیگر، میری ٹیم متعلقہ افراد اور اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔
#T20WorldCup #cricket #PakistanCricket