یہ تصویر کسی بادشاہ کے محل کی نہیں بلکہ ایک ایسے بوبو کے دفتر کی ہے جو عوام کو قرضوں کے دلدل میں پھنسانے والے حکمرانوں کے من پسند افسر ہے ،اور انہی قرضوں کے سہارے ملک چلانے کو کوشش کی جا رہی ہے
یہ کوئی اور ملک ہوتا 15 بچے نااہلی کی وجہ سے فوت ہوئے ہوتے تو پورا ملک باہر آجاتا۔وزیراعظم استعفی دے کر گھر چلا جاتا۔ یہاں پر لوگوں کے ساتھ ساتھ حکمران بھی مردہ ضمیر ہو چکے ہیں
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے
مصطفی کمال نے کہا کہ جیسے پورا ملک چل رہا ہے، ویسے ہی ہسپتال بھی چلے گا، ہم پمز کو کیسے مثالی بنا سکتے ہیں۔ ان کی یہ بات سن کر میرا یہ سوال ہے کہ ایک ایسا شخص جو نومولود بچوں کے بارے میں، ایسی بے حسی کا مظاہرہ کرتا ہے، اسے وزیر صحت ہونا بھی چاہیے یا نہیں؟ ریما عمر
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@reema_omer
ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے۔
اس شخص کو تمغہ امتیاز ملنا چاہئے کہ ظلم کے اس دور میں جرات اور دلیری سے سچ ب��لا اور ڈنکے کی چوٹ پر بولا۔ ماشاءﷲ۔ ہر فرد میں یہ قوت ایمانی ہو تو ہم اس ظلم سے جلد نجات پا سکتے ہیں انشاءﷲ۔
ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں، لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کر دیا گیا۔ صدیق جان
#pakistan@SdqJaan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
حکومت اپنے استعمال کےلئے12 ارب کا جہاز لیتے اور غریب کا بچہ جہاں گنجائش 30 بچوں ہموہاں 184 بچے ہیں۔سیاستدانوں اور اعلی افسروں کی تعلیم اور صحت کا علاج سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں میں نہ ہوگا تو اسی طرح سب چلے گا
Kyun naheen? Kaisay naheen?
ہسپتال میں آگ لگنے سے بچاؤ کے وہ آلات نہیں ہوتے جو کسی اعلیٰ پرائیویٹ ہسپتال میں ہوتے ہیں۔
واہ!
عوامی پیسے سے وزیروں کی گاڑیاں چلیں۔ وزیروں کے دفاتر کے AC چلیں۔
مگر نرسری میں فائر الارم، اسپرنکلر، ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہو سکتے؟ فریحہ ادریس
#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے دل چیر کر رکھ دیا ہے۔ معصوم نومولود بچوں کا اس طرح دنیا سے چلے جانا ناقابلِ تلافی صدمہ اور انتہائی دردناک سانحہ ہے۔ ان ننھی جانوں کے والدین کس کرب اور ا��یت سے گزر رہے ہوں گے، اس کا تصور ہی روح کو تڑپا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ متاثرہ والدین اور اہلِ خانہ کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
#PIMSincident
اندازہ کریں کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس کو پورے پاکستان کا صحت کا وزیر بنایا ہے۔ دنیا میں ان کے قتل و غارت، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، غنڈا گردی جیسے جرائم پر کتابیں لکھ چکی ہیں۔ سیف خان آفریدی
#pakistan@SaifSolicitor
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا ک�� سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کردیا گیا
ہیلتھ کارڈ کے لیے کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں لیکن میڈیا کو پچاس ارب سے زائد دینے ، گیارہ ارب کا جہاز خریدنے ، آئی پی پیز کو ہزار ہا ارب دینے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں بڑھانے ، اراکین اسمبلئ، اسپیکر ، چیئرمین سینٹ اور وزرا کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے پیسہ موجود ہے ، یہ اشرافیہ کا نظام ہے
ثابت ہو گیا ہے کہ جن سے 28 کلومیٹر کا اسلام آباد اور صرف دو ہسپتال تو سنبھالے نہیں جاتے، وہ چھوٹے صوبے بنا کر سنبھال تو نہیں سکیں گےـ ہاں یہ ضرور ہوگا کہ وہ مزید کئی مصطفیٰ کمال، طلال چوہدری یا عطاء تارڑ جیسے درجنوں فارم 47 والے وزیر بنا کر قوم پر ٹھونس دیں گےـ
یا اللہ پاکستان پر رحم کر اور ان بے حس وحشی درندوں سے نجات دلوا !!
#PIMs
عوام اب ایسے حکمرانوں سے شدید تنگ ہے جن کے لگژری لائف اسٹائل اور عوامی مشکلات میں طویل خلیج ہے اوپر سے جب آپ 17 سیٹوں پر مسلط کردہ ہوں تو پھر ایسے ہی ہوتا ہے جیسے طلال چوہدری کی PIMS آمد پر ہوا
بہت ہی ڈھیٹ لوگ ہم پر مسلط ہیں، دارالحکومت کے ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے، مصطفیٰ کمال کو صوبے بنانے کا شوق ہے، پہلے 28 کلو میٹر کو تو سنبھالو، شرم کرکے استعفیٰ دو اور گھر بیٹھو۔ سائرہ بانو
#pakistan@Saira_Banokhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں