اختر مینگل صاحب ان فائر 🔥🔥
لوگوں کے ماؤں بہنوں کو اٹھا کر اپ اسے ائینی ترامیم کہتے ہیں ، اس میں ایک شق اور ڈال دے کہ لوگوں کی ماؤں بہنوں کی چیخوں پکار سے حاصل کردہ ائین ترامیم
اپوزیشن نہ مانی تو “ضمیر” کےووٹوں سےآئینی ترمیم لےآئیں گے۔۔بلاول بھٹو
آسان الفاظ میں اگر عمران خان اور مولانا نہ مانےتو لوٹوں کےذریعےآئینی ترمیم منظور کروا لیں گے،کیوں کیسا لگا بلاول کا ویژن،یہ ہے بےنظیربھٹو اور نوازشریف کا میثاق جمہوریت اور یہ ہےبلاول بھٹو کی جمہوریت۔۔
شرمناک۔۔
مریم نواز صاحبہ کی پریس کانفرنس سے پہلے عظمٰی بخاری صاحبہ۔۔
ماشاءاللہ اپنے اُن تمام صحافی بھائیوں کو سلام جنہوں نے یہ سب خاموشی سے سُن لیا اور سُن کر پھر پریس کانفرنس میں بھی تشریف لے آئے۔۔
ماشاءاللہ۔۔
ملک رہنے کے قابل نہ رہا،،،ہم بھاگنے کے قابل نہیں رہے،،،صفیں بنا لیں گردنیں جھکا لیں،،،سب کی باری آنے والی ہے،،،
ہم ستر سال بعد جس مقام پر پہنچے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے،،،قصہ مختصر💔
پنجاب کالج طالبہ ریپ کیس کہانی۔۔
کوئی ریپ نہیں ہوا،سب جھوٹ،جھوٹی کہانی گھڑی گئی،PTI نے اس ایشو پر گندی سیاست کی۔۔مریم نواز
جی بجا فرمایا،ابھی تک نہ مدعی نہ ملزم نہ لڑکی نہ ریپ پرچہ مگر PTI پر الزام لگانے سے پہلے ذرا اپنے وزیرتعلیم کو تو برطرف کریں جس نےجلتی پر تیل ڈالا اور ذرا اپنی پنجاب حکومت کےاُن لوگوں کو تو سزا دیں جنہوں نےبِنا انکوائری کالج کیمپس کی رجسٹریشن معطل کر دی۔۔
برائے کرم یہ وضاحت کریں کے کیا آپ پنجاب کے وزیر اطلاعات کو سیاسی گدھ کہہ رہی ہیں جنہوں نے برملا اعتراف کیا کہ پنجاب گروپ آف کالجز کے پرنسپل نے واقع کی سی سی ٹی وی وڈیو ڈیلیٹ کی اور انہوں نے کالج کی رجسٹریشن کینسل کردی یا آپ پنجاب اسمبلی کے سپیکر سے مخاطب ہیں جنہوں نے پیغام دیا کے پولیس کے مقابلے میں وزیر اطلاعات کی بات پر اعتبار کرنا ضروری ہے یا آپ ان طالب علموں کو سیاسی گدھ کہہ رہی ہے جنہیں پولیس اور کالج کی انتظامیہ کی طرف سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا مگر کالج کے مالک میاں آمر محمود کے حوالے سے ایک لفظ آپ کے منہ سے نہیں نکلا۔
جتنا میرا اسلام اور قران کا مطالعہ ہے قران شریف میں اسکے علاہ بھی دیگر واضح احکامات موجود ہے ۔یہ بھی حکم ہے کہ جو ظالم کا ساتھی ہے جو انسان تو کیا جانور پر بھی ظلم کرے جو جبر فسطائیت پھیلائے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے ہے ۔کاش ان احکامات پر پنجاب پولیس تھوڑی سی روشنی ڈالتی ۔
یہ زخم دینے والے نقاب پوش نہیں۔ وہ چھتر مارنے والے خونخوار پیادے نہیں۔ بوٹوں کی چاپ اور چغے کی غلاظت واضح ہیں۔ معصوم جسم پر زخم بھر جائیں گے۔ نہیں بھریں گے تو روح کے زخم جو اس ظلم سے مستفید ہر MNA, MPA اور سینیٹر قبر تک لے کر جاے گا۔ بولو!
جو صحافی علی امین گنڈا پور سے پیسہ لینے والے صحافیوں کے نام اور ثبوت مانگ رہے تھے بائیکاٹ کر رہے تھے وہ آج قاضی فائز عیسی کے اسی الزام پر کیوں خاموش ہیں؟