کے پی میں ضلعی انتظامیہ ، پولیس موجود ہے ،
آئین کی کتاب اور تمام اداروں کے قانون موجود ہیں،
اس کے باوجود نظر آرہا ہے کہ دن دیہاڑے وزرا کو نقاب پوش اغوا کررہے ہیں ، فائرنگ کر رہے ہیں،
یہ ہمارے صوبے کے اداروں پر سوالیہ نشان ہے ،
یہ وفاق اور ایجنسیز پر ایک دھبہ ہے ،
بابر سلیم سواتی اسپیکر کے پی اسمبلی
علیمہ بی بی، نورین بی بی اور عظمی بی بی کی ناحق گرفتاری، خیبر پختوخواہ اور اسلام آباد میں کارکنوں، وزرا اور پارلیمنٹیرینز پر حملوں اور گرفتاریوں نے ہم سب پر ذمہ داری کو بڑھا دیا ہے۔ آگے فراست اور اتفاق سے چلنا ہو گا۔ پورے پنجاب اور بالخصوص لاہور پر فسطائی یلغار کے پیش نظر ضلع لاہور میں پارٹی معاملات مشاورت و اتفاق سے چلانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کل پنجاب کے چاروں ریجنز کی تنظیموں سے بھی رابطہ رہا۔ آج اور کل پنجاب کے ممبران پارلیمنٹ سے مشاورت ہو گی۔
”اگر کوئی وردی میں آتا ہے اور قانونی طریقے سے بات کرتا ہے تو ہم جواب دیں گے ورنہ اگر کوئی سول کپڑوں میں آکر ہم پر بندوق سیدھی کرتا ہے تو پھر اگر کوئی Reaction آیا تو اس کے ذمہ دار یہ رحیم ہو گی“- @ShafiJanPTI
یہ ہمارے ایم اینیز اسلام آباد میں مانگ کیا رہے ہیں ہر گزرتے گھنٹے کے بعد ایک ایم این اے گرفتار ہو جاتا ہے
اپنی حفاظت کریں تاکہ اپنے اپنے حلقوں سے ورکرز نکال سکو۔
آپکو بھی گرفتار کریں گے؟ صحافی کا وزیراعلی سہیل آفریدی سے سوال
کہاں ہیں پکڑیں نا ۔۔ اگر میں اکیلا بھی رہ گیا تو پھر بھی لانگ مارچ کرونگا۔ سہیل آفریدی کا جواب
کیا آپ کو یاد ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کو یہ کہہ کر چھوٹ دے دی تھی کہ مریم نواز "خاتون" ہونے پر "رعایت" کی مستحق ہیں۔
بس ویسے ہی یاد آ گیا کہ مریم نواز تو "خاتون" تھیں جبکہ PTI کی تمام خواتین جنہیں سیاسی انتقام بازی کا بدترین نشانہ بنایا گیا اور بنایا جا رہا ہے، ان کے "خاتون" ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
لاہور سے تحریک انصاف کا کوئی رہنما عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری اور محاصرہ پر باہر نہ نکلا اور نہ اُن کے گھر گیا تو اُس پر تنقید کی گئی پھر رات کو سہیل آفریدی پشاور سے لاہور بہنوں کے پاس آ رہے تھے تو اُن پر بھی تنقید : سمجھ سے باہر ہے کہ آخر چاہتے کیا ہیں؟
مشورہ اچھا ہے۔ زرا سبھی لوگ اس پر اپنی رائے دیں۔ کیوں کے کچھ لوگوں نے اسے احتجاج فیل کرنے کی باریک کاروائی بھی قرار دے دینا ہے۔ اس لئے وہ بھی زرا اپنی رائے دے دیں۔
ایک دفعہ لانگ مارچ شروع ہو جائے تو لمبا کرنا آپکے لئے بھی مشکل ہوتا ہے۔ کہنا آسان ہے لیکن کھانا۔ باتھ روم دوسرے مسائل معاملات کو مشکل بناتے ہیں۔ شروع کرنے سے پہلے یہ آپکے لئے زیادہ آسان اور حکومت کے لئے زیادہ مشکل ہو گی۔ شروع ہوگیا تو پھر حکومت اور آپ برابر۔ بلکہ حکومت نے کون سے پیسے پلے سے لگانے ہیں۔ وہ کئی دن لگا سکتے ہے۔
یہاں سب بہت بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں
میں آپکو حقیقت بتاتی ہوں کہ حقیقت میں کیا ہوتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ جب رات کے درمیانے پہر پولیس کی نفری آپکے گھر دھاوا بولتی ہے تو کوئی مدد کو نہیں آتا۔
بس آپ ہوتے ہے وہ نفری ہوتی ہے اور آپ کے اہلِ خانہ ہوتے ہیں۔ اس وقت سب سے ضروری چیز ہوتی ہے اپنی ماؤں بہنوں اور بچیوں کی عزت بچانا، ان کو مار پیٹ سے بچانا۔ اپنی زندگی کی جمع پُونجی اپنا گھر بچانا۔
کل رات کی گرفتاریاں اسکا ثبوت ہیں کہ عمران خان کے اہلِ خانہ تک کو بچانے پورے لاہور سے کوئی نا آ سکا۔ کسی نے اس طرف جانے کی ہمت نا کی جب کہ شام سے پولیس وہاں تھی۔
اللّٰہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے کیونکہ ہمارا مقابلہ کمظرف جانوروں سے ہے۔