شعب ابی طالب علیہ السلام اور بیت حضرت علی علیہ السلام وہ مبارک گھر تھا جہاں رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پرورش پائی ۔ یہ وہی گھر ہے جہاں ہمارے پیارے رسول نے تین سال سوشل بائیکاٹ کے بھی گزارے ۔
شعب ابی طالب (7-10 نبوی) میں ابو طالب نے نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لیے اپنی جان و مال داؤ پر لگا دی
ہر رات آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ تبدیل کرتے اور آپ کا کوئی نہ کوئی بیٹا وہاں سوتا ۔ حضرت علیؓ نے کم عمری میں بھی آپ ﷺ کے پہرہ دار بن کر، بھوک اور سختی کے باوجود بیداری و وفاداری سے نبی ﷺ کا ساتھ نبھایا۔
آپ سیرت کی کتابوں میں جتنے بھی واقعات سنتے ہیں کہ رسول اللہ کو اذیتیں پہنچائی گئی وہ سب کی سب حضرت ابو طالب کی وفات کے بعد پیش آئی ۔ ان کی زندگی میں کسی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ ❤️ کو کچھ کہے
رسول اللہ ﷺ ❤️ نے ارشاد فرمایا
اے علی تو دنیا و آخرت میں میرا بھائی ہے
صل اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم
کیا اللہ کے آخری رسول کو یہ حق و اختیار دیا گیا تھا کہ وہ قرآن کی کسی آیت کے خلاف کوئی اپنی بات یا اپنا نظریہ پیش کر سکیں؟؟ اگر نہیں تو جو احادیث/روایات خلاف قرآن ہیں کیا وہ نبی کی بات ہو سکتی ہے؟؟
کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن کے خلاف کوئی بات یا نظریہ پیش کرنے کا اختیار تھا؟
نہیں، اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآنِ مجید کی کسی آیت یا حکم کے خلاف اپنی طرف سے کوئی بات، نظریہ، یا تبدیلی پیش کرنے کا کوئی حق و اختیار نہیں دیا گیا تھا۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واضح ہدایت فرمائی ہے کہ:
﴿وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ﴾ (سورۃ یونس: 15)
ترجمہ: "اور جب ان کو ��ماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس کو بدل دو۔ آپ کہہ دیجئے کہ مجھے یہ اختیار نہیں کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں تو اسی بات کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔"
اسی طرح سورۃ الحاقّہ (آیت 44 سے 47) میں بھی یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر نبی اپنی طرف سے کوئی بات اللہ کی طرف منسوب کر دیں تو اللہ ان کی "شاہ رگ" کاٹ دے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی معصوم تھے اور وہ قرآن میں اپنی مرضی سے کوئی رد و بدل یا اس کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کر سکتے تھے۔
نبی کریم ﷺ کا کام اللہ کے احکامات کو من و عن لوگوں تک پہنچانا اور، نہ کہ ان میں کوئی ردوبدل کرنا۔
مختصراً یہ ہے کہ!!!
نبی ﷺ کی کوئی بھی بات قرآن کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ چونکہ نبی ﷺ کو قرآن کے حکم میں تبدیلی کا اختیار نہیں تھا، اس لیے قرآن سے متصادم کوئی بھی قول نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔
یا اللہ سبحانہ و��عالی ہمیں اپنے دین کا فہم عطاء فرما آمین ثم آمین یا رب العالمین
ایک لڑکی کی شادی کو ابھی صرف 2 مہینے ہوئے تھے۔
نیا گھر، نئے لوگ، نئی ذمہ داریاں… اور دل میں ہزار امیدیں۔
ایک رات اچانک اس کی طبیعت خراب ہو گئی۔ جسم تپ رہا تھا، سر پھٹ رہا تھا۔ جب تھرمامیٹر لگایا گیا تو بخار 102 تھا۔
و�� کمبل اوڑھے خاموشی سے لیٹی تھی کہ اتنے میں فون بجا۔
اسکرین پر لکھا تھا: "امی کالنگ..."
جیسے ہی فون اٹھایا، ماں کی آواز آئی:
"میری بچی، کیسی ہے؟ آواز اتری ہوئی کیوں لگ رہی ہے؟"
بیٹی کی آنکھیں بھر آئیں۔
"امی… بہت تیز بخار ہے۔ پورا جسم ٹوٹ رہا ہے…"
ماں گھبرا گئی۔
"ہائے اللہ! میری بچی… فوراً چادر اچھی طرح اوڑھ لو۔ ٹھنڈی ہوا نہ لگنے دینا۔ میں ابھی تمہاری پسند کی یخنی بنا کر بھائی کے ہاتھ بھیجتی ہوں۔ اور سنو… دوا وقت پر لینا۔ میں ابھی تمہارے لیے دو نفل پڑھتی ہوں۔"
ماں کی باتوں میں ایسا سکون تھا جیسے کسی نے جلتے دل پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہو۔
بیٹی نے آنسو صاف کیے اور فون بند کیا ہی تھا کہ دروازہ کھلا۔
ساس اندر آئیں۔ ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
"اوہ… بخار ہے؟"
بہو نے آہستہ سے کہا:
"جی امی… 102۔"
ساس بولیں:
"اچھا چلو، یہ ہلدی والا دودھ پی لو۔ اور سنو، کل مہمان آ رہے ہیں، دس لوگ ہیں۔ گوشت فریج سے نکال دینا، مصالحہ بھی پیس لینا۔ میں اکیلی کب تک سب سنبھالوں؟"
بہو نے کمزور آواز میں کہا:
"امی… طبیعت بہت خراب ہے…"
ساس فوراً بولیں:
"ہم نے بھی ساری عمر بخار میں کام کیے ہیں۔ یہ لاڈ پیار میکے میں چلتے ہیں، سسرال میں نہیں۔ کام کرتی رہو گی تو بخار خود بھاگ جائے گا۔"
یہ جملے سن کر بہو خاموش ہو گئی۔
وہی 102 کا بخار تھا…
لیکن دو عورتوں کے رویے آسمان زمین جتنے مختلف تھے۔
ایک نے دعا دی…
دوسری نے ڈیوٹی۔
ایک نے کہا: "آرام کرو"
دوسری نے کہا: "کام کرو"۔
رات کو شوہر گھر آیا تو بیوی کی سوجھی ہوئی آنکھیں دیکھ کر پریشان ہو گیا۔
اس نے پیار سے پوچھا:
"کیا ہوا؟"
بیوی خاموش رہی، مگر آنسو بول پڑے۔
شوہر نے ساری بات سنی… اور پ��ر آہستہ سے اپنی ماں کے کمرے میں گیا۔
بہت ادب سے بولا:
"امی… آج آپ کی بہو کو 102 بخار تھا۔"
"جب مجھے بخار ہوتا ہے تو آپ رات بھر میرے سرہانے بیٹھی رہتی ہیں… میرے لیے دعائیں کرتی ہیں… پٹیاں رکھتی ہیں…"
"تو پھر وہ… جو کسی اور کی بیٹی ہے… اسے بخار میں مزدوری کیوں؟"
ماں خاموش ہو گئیں۔
شوہر نے پھر دھیرے سے کہا:
"امی… آپ بھی کبھی کسی کی بہو تھیں۔ کل کو ہماری بیٹی بھی کسی کے گھر جائے گی۔ اگر اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تو؟"
"یاد رکھیں… بہو صرف رشتے میں بہو ہوتی ہے، درد اسے بھی ویسا ہی ہوتا ہے جیسا بیٹی کو ہوتا ہے۔"
یہ الفاظ ساس کے دل میں اتر گئے۔
کچھ دیر بعد وہ خاموشی سے کچن میں گئیں۔ یخنی گرم کی۔ دوا نکالی۔ اور خود بہو کے کمرے میں آئیں۔
بہو حیران رہ گئی۔
ساس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور دھیمی آواز میں بولیں:
"معاف کر دے پتر… میں بھول گئی تھی کہ میں بھی کبھی بہو تھی۔"
بہو کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے…
مگر اس بار یہ دکھ کے نہیں، اپنائیت کے تھے۔
مورل آف دی اسٹوری:
1. ساس او�� ماں میں فرق صرف رویے کا ہوتا ہے۔ محبت دے دو، بہو خود بیٹی بن جاتی ہے۔
2. بہو بھی انسان ہے، مشین نہیں۔ اسے بھی بخار، درد اور تھکن ہوتی ہے۔
3. سمجھدار شوہر گھر بچا لیتا ہے۔ وہ ماں اور بیوی کے درمیان دیوار نہیں، پل بنتا ہے۔
4. جو سلوک آج بہو سے کرو گے، کل وہی تمہاری بیٹی کے نصیب میں آئے گا۔
"تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے ��ہترین ہو۔" — حضرت محمد ﷺ
جیل میں بیٹھا تن تنہا پورے نظام کو مسلسل شکست دے رہا ہے، تمام دنیاوی طاقتیں ایک طرف اور وہ توکل اللہ والا شخص ایک طرف۔ اللہ عمران خان کا سایہ اس قوم پر سلامت رکھے اور یزید وقت کے قبضے سے پاکستان کو اللہ آزاد کروائے۔ آمین
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
عمران خان قید تنہائی میں رہ کر بھی جیت گیا جبکہ نواز شریف، بلاول، آصفہ بھٹو گلگت بلتستان کے پہاڑوں پر ماتھے رگڑنے کے باوجود ہار گئے ہیں..
یہ ہوتا ہے غیور عوام۔۔
محمد اظہر الدین کا تاریخی قدم — مسمار مسجد کی جگہ دوگنی بڑی مسجد تعمیر ہوگی!
مودی سرکار نے یوپی میں 60 سال پرانی مرکزی جامع مسجد اور م��رسے کو مسمار کردیا — لیکن بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہر الدین نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اسی مسجد کے قریب ایک مسلمان شخص سے زمین خرید کر مسمار مسجد سے دوگنی بڑی مسجد اور مدرسے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
اس موقع پر مشہور بزنس ٹائکون ہمایون کبیر نے زمین کے لیے دو کروڑ روپے پیش کیے — لیکن زمین کے مالک نے پوری رقم واپس کرتے ہوئے کہا یہ زمین میری طرف سے اللہ کے گھر کے لیے وقف ہے — مجھے کوئی پیسہ نہیں چاہیے اور ہزاروں مسلمانوں نے اسلام زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
اظہر الدین نے للکارتے ہوئے کہا— بابری مسجد بھی گرائی تھی، آج وہ اس سے بڑی بن کر آخری مراحل میں ہے مسجد گرانے سے اسلام نہیں گرتا!
**ایمان ہو تو ایسا — پیسہ نہیں، جذبہ بولتا ہے!
#suggestedforyou #cricket #golditalkshok
روم کے ایک جنگجو بہادر نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں کی ایک جماعت کو قید کر لیا اور شاہِ روم کے سامنے عرض کیا:
"مسلمانوں میں ایک شخص نہایت قوی اور رعب دار ہے، لوگ اس کی صورت دیکھ کر ڈر جاتے ہیں۔"
شاہِ روم نے اسے دیکھنے کے لیے طلب کیا۔ اس کے سامنے ایک لمبی زنجیر لگی رہتی تھی، جس کی وجہ سے کوئی شخص جھکے بغیر اس کے پاس نہیں جا سکتا تھا۔
جب اس مسلمان مرد نے زنجیر دیکھی تو شاہِ روم کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ شاہِ روم نے زنجیر اٹھانے کا حکم دیا تاکہ وہ اس کے پاس آ سکے۔
جب مسلمان اس کے پاس پہنچا تو دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد شاہِ روم نے کہا:
"تم ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ، میں اپنی انگوٹھی تمہارے ہاتھ میں پہنا دوں گا اور ولایتِ روم تمہیں عطا کر دوں گا۔"
مسلمان نے جواب دیا:
"دنیا کا کتنا حصہ تیرے قبضے میں ہے؟"
شاہِ روم نے کہا:
"تہائی یا چوتھائی۔"
مسلمان نے کہا:
"اگر پوری دنیا تیرے قبضے میں ہوتی، اور وہ سونے اور جواہرات سے بھری ہوتی، اور تو اسے مجھے ایک دن کیمض اذان نہ کہنے کے بدلے میں دے دیتا، تب بھی میں اسے قبول نہ کرتا۔"
شاہِ روم نے پوچھا:
"اذان کیا چیز ہے؟"
مسلمان نے کہا:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ
شاہِ روم نے کہا:
"بے شک اس کے دل میں محمد ﷺ کی محبت راسخ ہو چکی ہے، اس لیے اس کا اپنے دین سے پھر جانا ناممکن ہے۔"
پھر اس نے حکم دیا کہ ایک دیگ آگ پر رکھی جائے اور اس میں پانی بھرا جائے۔ جب پانی خوب جوش مارنے لگا تو حکم دیا کہ اس مسلمان کو اس میں ڈال دو۔
چنانچہ اسے دیگ میں ڈال دیا گیا۔ اس نے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کہا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے صحیح سلامت نکل آیا۔
لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔
اس کے بعد شاہِ روم نے حکم دیا کہ اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں قید کر دیا جائے اور چالیس دن تک اس کے سامنے صرف سور کا گوشت اور شراب رکھی جائے۔
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
جب چالیس دن پورے ہوئے تو دروازہ کھولا گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ جو کچھ اس کے سامنے رکھا گیا تھا، سب ویسا ہی موجود ہے۔ اس نے اس میں سے کچھ بھی استعمال نہیں کیا تھا۔
لوگوں نے پوچھا:
"تم نے اس میں سے کچھ کیوں نہیں کھایا؟ حالانکہ دینِ اسلام میں شدید مجبوری کے وقت اس کی اجازت ہے۔"
اس مسلمان نے جواب دیا:
"اگر میں اس میں سے کھاتا تو تم خوش ہوتے، اور مجھے تمہیں غصہ دلانا منظور تھا۔"
پھر بادشاہ نے کہا:
"اگر تم مجھے سجدہ کر لو تو میں تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو آزاد کر دوں گا۔"
مسلمان نے جواب دیا:
"دینِ محمدی ﷺ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔"
شاہِ روم نے کہا:
"اچھا، میری پیشانی کو بوسہ دے دو۔"
مسلمان نے جواب دیا:
"ہاں، ایک شرط کے ساتھ۔"
بادشاہ نے کہا:
"جس طرح چاہو۔"
چنانچہ اس مسلمان نے اپنی آستین بادشاہ کی پیشانی پر رکھ دی اور آستین کے اوپر سے بوسہ دیا، اور نیت یہ کی کہ میں اپنی آستین کو بوسہ دے رہا ہوں۔
اس کے بعد ��اہِ روم نے اسے اور اس کے تمام ساتھی قیدیوں کو رہا کر دیا اور بہت سا مال و زر بھی عطا کیا۔
پھر اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:
"اگر یہ شخص ہمارے شہر میں ہمارے دین پر ہوتا تو ہم اس کی عبادت نہ سہی، لیکن اس کی عظمت و بزرگی کا اعتقاد ضرور رکھتے۔"
جب وہ مسلمان عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا:
"اس مال کو صرف اپنے لیے مخصوص نہ کرو بلکہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لوگوں کو بھی شریک کرو۔"
چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔
(نوادر القلوبی)
#قومی_زبان
میری آنکھوں میں پانی آگیا جب میں نے قرآن میں پڑھا
سورۃ الاعراف (آیت 172)
اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوْا بَلٰى
“کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟
انہوں نے کہا: کیوں نہیں
ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں
سورۃ التکویر (آیت 26):
فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَ
“پھر تم کہاں جا رہے ہو؟
واقعی ہے تو سوچنے کی بات
کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟
#رہے_نام_اللہ_کا
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد انکی چار بیویوں میں ہر ایک کے حصہ میں آٹھواں حصہ 340 کلو سونا بنا، اللہ اکبر کبیرا
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ
6 ارب 29 کروڑ 34 لاکھ روپے آج کی قیمت کے مطابق ہر ایک بیوی کو وراثت میں ملے اور یہ آٹھواں حصہ اور اولاد میں وراثت تقسیم کرنے کیلئے سونے کو کاٹنے کیلئے ہاتھ زخمی ہوگئے ذرا اندازہ لگائیں کہ آج کوئی ان جیسا امیر ہے؟
اللہ کی راہ میں بہت زیادہ خرچ کرنے والے تھے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک دن میں 31 غلام آزاد کیے اور سیدالاولین و الآخرين صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمانے میںآدھا مالیعنی 4 ہزار دینا خرچ کیے پھر چالیس ہزار کیے اور پھر پانچ سو گھوڑے اللہ کی راہ میں خرچ کیے اور پھر پانچ سو سواریاں
امہات المؤمنین کیلئے ایک باغ وقف کیاجو 4 لاکھ میں فروخت ہوا اور پچاس ہزار دینار اللہ کی راہ میں خرچ کیے اور وصیت فرمائی کہ جو اصحاب بدر میں سے زندہ ہیں ہر ایک کیلئےچار ہزار دینار اور اس وقت 100 اصحاب بدر زندہ تھے، اللہ اکبر کبیرا
4 ہزار دینار کا مطلب 17 کلو سونا آج کے دور میں جو کہ 31 کروڑ 46 لاکھ 70 ہزار روپے بنتے ہیں آج کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق اور 100 اصحاب میں سے ہر ایک کو اتنی رقم دی گئی، اللہ اکبر کبیرایہی وہ عملی محبت کی تصویر ہے جس کے متعلق ارشاد ربانی ہے
رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ
اسی لیے میں کہتا ہوں کہ تم سارا جہان چھان مارو لیکن میرے نبی ﷺ کے جانثاروں جیسا ایک بھی نہ ڈھونڈ پاؤ گے
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ
"بعض اوقات اللہ کے نزدیک ایک بھوکے انسان کا پیٹ بھرنا… ہزاروں عبادتوں سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے!"
ایک بزرگ حج کے لیے گئے۔
چاروں طرف لاکھوں انسان تھے…
لبیک اللہم لبیک کی صدائیں، عبادتوں کا شور، آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں دعائیں…
وہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں سویا تو خواب میں دو فرشتوں کی گفتگو سنی۔
ایک فرشتہ دوسرے سے کہہ رہا تھا:
"اس سال لاکھوں لوگ حج کے لیے آئے… مگر کسی کا حج قبول نہیں ہوا۔"
دوسرا حیران ہو کر بولا:
"کیا ایک کا بھی نہیں؟"
پہلا فرشتہ بولا:
"نہیں… مگر مصر میں ایک موچی ہے، اس کا حج قبول ہوا ہے۔ اور اسی کی برکت سے باقی تمام حاجیوں کا حج بھی قبول کر لیا گیا۔"
بزرگ یہ سن کر حیران رہ گئے۔
حج مکمل ہونے کے بعد وہ سیدھے مصر روانہ ہوئے، اس شخص کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر ایک چھوٹے سے گھر تک پہنچ گئے۔
وہ واقعی ایک عام سا موچی تھا…
نہ کوئی شہرت، نہ کوئی بڑا مقام۔
بزرگ نے اسے سارا خواب سنایا تو وہ شخص رونے لگا اور کہنے لگا:
"میں نے تو حج کیا ہی نہیں… میرا حج کیسے قبول ہو گیا؟"
بزرگ نے پوچھا:
"پھر ضرور کوئی ایسی نیکی ہوگی جو اللہ کو پسند آ گئی۔"
موچی نے آہ بھری اور کہنے لگا:
"میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ ایک بار اللہ کے گھر جاؤں۔ میں نے سالہا سال محنت کر کے حج کے لیے پیسے جمع کیے تھے۔
جب روانگی میں صرف چند دن باقی تھے تو ہمارے پڑوس سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی۔
میری بیوی نے کہا:
'بچوں کا دل چاہ رہا ہے… جا کر تھوڑا سالن مانگ لاؤ۔'
میں دروازے پر گیا تو ایک غریب آدمی باہر آیا۔
میں نے کہا:
'اگر ممکن ہو تو تھوڑا سا شوربہ دے دیں۔'
وہ شخص رونے لگا اور بولا:
'یہ گوشت ہمارے لیے تو حلال ہے… مگر آپ کے لیے حرام ہے۔'
میں حیران رہ گیا۔
پوچھا: 'کیوں؟'
وہ بولا:
'میرے بچے تین دن سے بھوکے تھے۔ آج شہر سے باہر ایک مردہ گائے پڑی تھی… میں اسی کا گوشت اٹھا لایا ہوں تاکہ بچوں کی جان بچ سکے۔'
یہ سن کر میرے قدم لڑکھڑا گئے…
میں گھر واپس آیا، حج کے لیے جمع کیے ہوئے سارے پیسے اٹھائے اور اس شخص کے حوالے کر دیے۔
میں نے سوچا…
اللہ کے گھر جانے سے پہلے شاید اللہ کے بندوں کا سہارا بننا زیادہ ضروری ہے۔"
کتنی عجیب بات ہے…
ہم عبادتوں میں بڑے بڑے مقام ڈھونڈتے ہیں، جبکہ اللہ کبھی کسی بھوکے کے آنسو پونچھنے پر راضی ہو جاتا ہے۔
سبق یہ ہے کہ:
اللہ صرف عبادت نہیں دیکھتا… دل بھی دیکھتا ہے۔
کبھی کبھی ایک سچی قربانی، ایک خالص نیت اور کسی مجبور کی مدد انسان کو وہ مقام دے دیتی ہے جہاں لاکھوں سجدے بھی نہ پہنچا سکیں۔
ایک شخص نے حضور سیدِ عالم ﷺ کی خواب میں زیارت کی۔ عرض کیا کہ:
“یارسولَ اللہ ﷺ ! میں نے آپ کی ایک حدیث سنی ہے کہ مومن کی جان ایسی بے تکلف نکال لی جاتی ہے جیسے خمیری آٹے سے بال، کیا یہ حدیث صحیح ہے؟”
فرمایا: “ہاں۔”
عرض کیا کہ: “قرآنِ کریم نے تو جان کنی کی سخت شدت اور دشواری بیان فرمائی، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:”
﴿ كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ ﴾
پھر عرض کیا کہ: “اس حدیث و آیت میں مطابقت کیوں کر ہو؟”
فرمایا: “سورۂ یوسف پڑھو، وہاں اس کا جواب مل جائے گا۔”
وہ بیدار ہو کر بار بار سورۂ یوسف پڑھتا رہا مگر جواب سمجھ میں نہ آیا۔ مجبور ہو کر عالمِ وقت کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ:
“سورۂ یوسف کی اس آیت میں تیرے سوال کا جواب ہے:”
﴿ وَقَالَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ لِٱمْرَأَتِهِ أَكْرِمِي مَثْوَىٰهُ عَسَىٰ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴾
یعنی مصر کی عورتوں کو زلیخا نے دعوت دی۔ کھانے کے بعد ان کے ہاتھوں میں لیموں اور چھری دے دی، پھر رُخِ یوسف سے نقاب اٹھا کر حسنِ خداداد کی جھلک دکھا کر کہا: “اب لیموں کاٹو۔”
انہوں نے بے خودی میں بجائے لیموں کے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور بول اٹھیں:
﴿ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ ﴾
دیکھو! ان عورتوں کے ہاتھوں پر چاقو چلا، ہاتھ کٹا، خون بہا، درد بھی ہوا، مگر جمالِ یوسفی میں ایسی محو ہو گئیں کہ نہ آہ و بکا کی، نہ درد کی شکایت، نہ تکلیف کا احساس؛ بلکہ حال یہ تھا کہ ہاتھ کٹ رہا ہے اور حسنِ یوسفی کی مداح خوانی کر رہی ہیں۔
ایسے ہی مردِ صالح کو بوقتِ نزع جمالِ مصطفائی ﷺ کی زیارت ہوتی ہے۔ تب نقشہ یہ ہوتا ہے کہ جان نکل رہی ہے اور سامنے جمالِ مصطفی ﷺ ہے۔ مرنے والا دیکھ دیکھ کر کہہ رہا ہے:
“تمہارے جمال پر قربان، تمہارے کمال کے صدقے، تمہارے خد و خال پر فدا، تمہارے بنانے والے ربِّ ذوالجلال پر قربان، تیرے ��خسار پر قربان، تیری گفتار پر صدقے، تیری رفتار پر فدا۔”
غرض یہ کہ مرنے والا اُن پر قربان ہوتا رہا اور جان نکل گئی، اُسے محسوس بھی نہ ہوا۔
تو قرآنِ کریم نے واقعی تکلیف کا ذکر فرمایا اور حدیثِ پاک نے احساس کی نفی کی، دونوں میں کوئی مخالفت نہیں۔
یہ زندگی و موت کا حال تھا، رہی قبر تو وہ دیدارِ مصطفی ﷺ کی ج��ہ ہے، وہ بھی ان کو پیاری رہی۔ قیامت کے دن بھی وہ حضرات سایۂ دامانِ مصطفی ﷺ میں امن و امان سے ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمای��: قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو ساری مخلوق کے سامنے لایا جائے گا۔ اس کے گناہوں کے 99 رجسٹر کھولے جائیں گے، ہر رجسٹر کی لمبائی حدِ نگاہ تک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: "کیا تو ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے لکھنے والے فرشتوں نے تجھ پر ظلم کیا؟" وہ ڈرتے ہوئے کہے گا: "نہیں، اے میرے رب!" اللہ فرمائے گا: "آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہوگا، ہمارے پاس تیری ایک نیکی موجود ہے۔" پھر ایک چھوٹ�� سی پرچی (بطاقہ) نکالی جائے گی جس پر "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" لکھا ہوگا۔ وہ شخص حیرت سے کہے گا: "یا رب! اتنے بڑے رجسٹروں کے سامنے اس چھوٹی سی پرچی کی کیا حیثیت ہے؟" تب گناہوں کے رجسٹر ترازو کے ایک پلڑے میں اور وہ پرچی دوسرے پلڑے میں رکھی جائے گی۔ گناہوں والے رجسٹر ہوا میں اڑ جائیں گے اور کلمے والی پرچی کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔
سنن ترمذی: 2639 / سنن ابن ماجہ
#hassanulmustafaofficial #Hadith
اماں ہاجرہ کو مت بھولو، جو صفا اور مروہ پر چڑھتی اور اترتی ہوئی دوڑ رہی تھی، ان کی ساری امیدیں ایک مشکیزہ پانی کی تھیں مگر اللہ نے انہیں زم زم کا وہ چشمہ عطا کیا جو آج تک نہیں سوکھا۔ ہم ایک دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، اللہ کئی راستے کھول دیتا ہے، تم صرف دعا کرو، راستے اللہ خود بنا دے گا۔
اس نے لرزتی آواز میں کہا کہ حضرت اگر دو ہزار روپے کا انتظام ہو جائے تو بڑی مہربانی ہوگی، میں بہت بڑی مصیبت میں ہوں
دوپہر کا وقت تھا جب ایک پریشان حال شخص میری دہلیز پر آیا، جس کے چہرے پر زمانے کی سختی اور آنکھوں میں شدید بے بسی تھی۔
اس نے لرزتی آواز میں کہا کہ حضرت اگر دو ہزار روپے کا انتظام ہو جائے تو بڑی مہربانی ہوگی، میں بہت بڑی مصیبت میں ہوں اور اگلے مہینے تنخواہ ملتے ہی واپس کر دوں گا۔
میں نے اپنی جیب ٹٹولی مگر وہاں کچھ نہیں تھا، وہ آخری رقم بھی میں کچھ دیر پہلے خرچ کر چکا تھا، اس لیے میں نے بڑے افسوس سے کہا کہ بھائی اس وقت تو ہاتھ بالکل خالی ہے لیکن تم ہمت نہ ہارو، عصر کے وقت دوبارہ آنا، میں دیکھتا ہوں اور امید ہے کہ اللہ کوئی نہ کوئی سبب بنا دے گا۔
وہ شخص مایوسی اور بے بسی کے عالم میں الحمدللہ کہہ کر بوجھل قدموں سے لوٹ گیا۔
عصر کے قریب میں گھر میں اپنے کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا کہ اچانک میرا فون بجا، اسکرین پر جو نمبر چمک رہا تھا اور وہ ہماری مسجد کے جوائنٹ سکریٹری کا فون تھا
علیک سلیک کے بعد بڑی بے چینی سے کہا کہ حضرت میرے دل میں ایک عجیب سا احساس ہے، اگر میں آپ کو کچھ رقم بھیجوں تو کیا آپ آج ہی کسی انتہائی مجبور اور ضرورت مند کو وہ رقم پہنچا سکتے ہیں؟
میں یہ سن کر سن ہو گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ میں سوچنے لگا کہ اس کائنات کا نظام کتنا حیران کن ہے کہ ابھی عصر کا وقت بھی نہیں ہوا تھا اور اس سائل کے مالک نے میلوں دور بیٹھے ایک شخص کے دل کو اس کے لیے تڑپا دیا۔ کچھ ہی دیر میں میرے اکاؤنٹ میں دو ہزار نہیں بلکہ پورے تین ہزار منتقل ہو گئے۔
مغرب کی نماز کے بعد میں اور مسجد کے مؤذن صاحب دفتر میں بیٹھے تھے جب میں نے اس شخص کو دوبارہ بلایا اور پوچھا کہ بھائی تم دوپہر کو اتنے پریشان تھے، آخر ان پیسوں کا کرنا کیا تھا؟
وہ ��ڑپ کر بولا کہ حضرت کل رات میرا گیس سلنڈر ختم ہو گیا تھا، گھر میں چولہا ٹھنڈا پڑا ہے اور ادھر میری سگی بہن ہسپتال میں داخل ہے، میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ جا کر اس کا چہرہ دیکھ سکوں۔
میں نے پوچھا کہ جب میں نے دوپہر کو تمہیں خالی ہاتھ لوٹا دیا تو تم نے کیا کیا؟
وہ روتے ہوئے بولا کہ حضرت میرا دل بالکل ٹوٹ گیا تھا، میں نے یہاں سے جا کر سیدھا اپنے مالک کو پکارا اور کہا کہ اے میرے مالک میں چار چھوٹے بچوں کو لے کر کہاں جاؤں، اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے خاندان کا کیا بنے گا، بس دل پھٹ پڑا تھا۔
میں نے مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ تمہارے مالک نے تمہاری پکار سن لی ہے، اس نے دور بیٹھے ایک ایسے شخص کو تمہارا وسیلہ بنا دیا جو نہ تمہیں جانتا ہے اور نہ تم اسے جانتے ہو، تمہیں دو ہزار کی ضرورت تھی نا، لیکن تمہارے سخی رب نے تمہاری جھولی میں تین ہزار ڈال دیے ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ شخص وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور سسکیاں لے کر رونے لگا۔
اس کا یہ اخلاص دیکھ کر پاس بیٹھے مؤذن صاحب کی آنکھوں سے بھی آنسو ج��ری ہو گئے اور میں خود ہنسی کے پیچھے اپنے خوشی کے آنسو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ وہ شخص اٹھا، مسجد کے صحن میں گیا اور اپنے رب کے حضور طویل سجدہِ شکر میں گر گیا۔
عشاء کی نماز کے بعد میں نے اس مخیر کو دوبارہ فون کیا اور انہیں پوری کہانی سنائی اور پوچھا کہ محترم آخر اللہ نے اپنے اس پیارے بندے کی حاجت روائی کے لیے آپ ہی کا انتخاب کیوں کیا؟ تو دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی اور میں سمجھ گیا کہ وہ بھی جذباتی ہو چکے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ اس مادی معاشرے میں دو یا تین ہزار روپے کی کوئی اوقات نہیں ہے، لیکن اس چھوٹی سی رقم کے پیچھے میرے رب نے اپنی غیبی طاقت اور بندے سے اپنی سچی محبت کا جو شاہکار دکھایا ہے، وہ انسان کے ایمان کو ایک نئی زندگی دے دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ فرمایا :
جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔
(صحیح البخاری : 1521)
الله تک پہنچنے کا طریقہ
حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ کے زمانے میں بغداد کے بادشاہ کی دلی تمنا تھی کہ حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ علیہ اس سے ملاقات کریں
لیکن حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ کبھی بھی بادشاہ کے دربار میں تشریف نہ لے گئے
ایک دن یوں ہوا کہ بادشاہ چھت پر بیٹھا تھا کہ اس نے حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ کو شاہی محل کے قریب سے گزرتے دیکھا تو اس نے فورًا حکم دیا کہ حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ کو کمند ڈال کر محل کی چھت پر کھینچ لیا جائے
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا جب حضرت بہلول دانا رح��تہ الله علیہ بادشاہ کے سامنے پہنچے
تو بادشاہ نے پوچھا یہ فرمائیے آپ الله تک کیسے پہنچے ؟
حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ نے فرمایا جس طرح آپ تک پہنچا ہوں
بادشاہ نے عرض کی میں سمجھا نہیں حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ نے بادشاہ سے فرمایا اے بادشاہ اگر میں خود آپ تک پہنچنا چاہتا تو نہا دھو کر لباس فاخرہ پہن کر دربان کی منتیں کر کے محل کے اندر داخل ہوتا پھر عرضی پیش کرتا پھر گھنٹوں انتظار کرتا پھر بھی ممکن تھا کہ آپ میری درخواست رد کر دیتے
لیکن جب آپ نے خود مجھے بلانا چاہا تو محض کچھ لمحوں میں ہی اپنے سامنے بلا لیا
اسی طرح جب الله کو اپنے بندے کی کوئی ادا پسند آتی ہے تو اسے لمحوں میں قرب کی وہ منزلیں طے کروا دی جاتی ہیں جو بڑے بڑے عابدوں کیلئے باعث رشک بن جاتی ہیں
رومی
"2 گھوڑے کا واقعہ"
نبیﷺ کی سچائی کی گواہی ایک صحابی نبی کریمﷺ کے پاس ایک گھوڑا لے کر آئے جسے وہ بہت پسند کرتے تھے۔
نبی کریمﷺ نے اس گھوڑے کو دیکھا اور فرمایا:
"یہ گھوڑا ہمارے لیے اچھا ہے"
یہ سن کر گھوڑا اچانک پرسکون ہو گیا اور اس کا مزاج نرم ہو گیا۔
روایات میں آتا ہے کہ اس گھوڑے نے کبھی کبھی ایسا رویہ اختیار کیا جس سے لوگوں کو محسوس ہوا کہ وہ نبی کریمﷺ کی برکت سے فرمانبرداری اختیار کر رہا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کی عزت کے لیے جانوروں کے دلوں میں بھی نرمی پیدا فرما دیتا ہے۔
حوالہ:
مسند احمد
دلائل النبوۃ للبیہقی (مختلف روایات کے ضمن میں معجزات)