افسوس ناک
اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثناء جاوید عرف آؤٹ لوفرہ کو قتل کر دیا گیا
پشتو کے مشہور ٹک ٹاکر آؤٹ لوفرہ کو اسکے اپنے خاوند نے فائرنگ کرکے قتل کردیا
ٹک ٹاکر خاتون کے شوہر نے بعد میں خود بھی خودکشی کر لی
میرا آشنا اس وقت بھی میرے پاس ہے
لو اس سے بات کرو !!
پردیس میں بیٹھے شوہر کو چیلنج کرکے یاری دوستی نبھانے والی خاتون کا عبرتناک انجام
2011 میں سکھیکی میں ��یش آئے سچے واقعہ کی روداد
یہ نوجوان کسی سرکاری محکمے میں ملازم تھا اسکا آبائی تعلق سرگودہا سے تھا مگر بسلسلہ ملازمت سکھیکھی آیا
کئی سال یہاں قیام کے دوران اس نے یہیں اپنا اک گھر بھی بنا لیا اور اک مقامی خاندان میں شادی کر لی
کچھ سال بالکل ٹھیک ٹھاک گزر گئے اس دوران خاتون نے اسکے تین بچوں کو بھی ��نم دیا
پھر اسکا تبادلہ کراچی ہوگیا اور یہ بیوی بچوں کو اپنے گھر میں چھوڑ کر کراچی چلا گیا
لڑکی کے والدین جو قریب ہی اک گاؤں میں رہتے تھے انہیں تلقین کر گیا کہ اپنی بیٹی کو کچھ عرصے کے لیے اپنے پاس رکھ لیں
میں جلد آکر اسے لے جاؤنگا جب تک کراچی میں رہائش کا بندوبست نہیں ہوتا
شوہر چلا گیا لیکن خاتون اپنے گھر میں ہی رہنے پر بضد رہی
کچھ ہفتے گزرے تو محلے سے اس نوجوان کو فون کرکے بتایا کہ تمہاری بیوی کا چال چلن ٹھیک نہیں رہا
اک دو لڑکے چھپ چھپا کے رات کے اندھیرے میں آتے ہیں
بہتر ہے اپنے گھر کی خبر لو
وہ شخص بہت پریشان ہوا لیکن اسے یقین تھا کہ اسکی بیوی ایسا نہیں کرسکتی
اس نے بیوی سے فون پربات کی اسے سمجھایا مگر وہ سرے سے انکار ہوگئی اور الٹا اپنے شوہر سے لڑنے لگی کہ اگر میرے اوپر شک ہے تو مجھے طلاق دیدو
شوہر نے اپنی ساس کو فون کیا کہ اپنی بیٹی کو سمجھائیں وہ میرا ہنستا بستا گھر اجاڑنے پر تلی ہے
ماں نے بیٹی کو سمجھایا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی
چند ہفتے چپ چاپ گزر گئے تو سکھیکی کے محلے داروں نے پھر اسے فون کرکے شکایت کی کہ محلے میں باتیں ہو رہی ہیں
ماحول خراب ہونے کا خدشہ ہے لہذا بیوی کا بندوبست کرو اسے ماں باپ کے گھر بھجواؤ یا ساتھ کراچی لے جاؤ
نوجوان اک کوارٹر کا بندوبست کرکے سکھیکھی آیا اور بیوی بچوں لیکر کراچی پہنچ گیا
چند ہفتے بیوی نے شوہر کے ساتھ گزارے تو بہانے بنانے لگی
اس کی اک ہی ضد تھی کہ یہاں میرا دل نہیں لگتا مجھے واپس پہنچاؤ
چنانچہ اک روز شوہر نے بیوی بچوں کو ٹرین میں بٹھایا اور خاتون واپس سکھیکی ا��نے من پسند ماحول میں آگئی
ابھی اک ہفتہ گزرا تھا کہ بیوی نے خود شوہر کو فون کرکے بتایا بہتر ہے مجھے طلاق دیدو
میرا یار اب بھی میرے پاس بیٹھا ہے
سپیکر آن کرتی ہوں اس سے بات بھی کر لو
میرا اب تمہارے ساتھ گزارا ممکن نہیں
شوہر نے بہت سوچا
پھر اک دن چپ چاپ ٹرین میں بیٹھا اور سکھیکی اترا
کلہاڑی کا بندوبست کیا اور رات کی تاریکی میں اپنے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر گیا
بیوی اپنے دوست کے ساتھ محو خواب تھی جبکہ بچے دوسرے کمرے میں سوئے تھے
اس نے بیوی پر کلہاڑی کا وار کیا تو شور سن کر اس کا عاشق بھاگ نکلا
شوہر نے بیوی کا قصہ ختم کیا
کلہاڑی ہاتھ میں تھامے علاقہ کے تھانے پہنچ کر خود گرفتاری دیدی،
پولیس حرکت میں آئی مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد اسکے والدین کے حوالے کردی گئی
بچوں کو بھی ننھیال والے لے گئے
ملزم پولیس والوں کی منت سماجت کرتا رہا کہ میں نے بڑی غلطی کی کاش میں اسے طلاق دے دیتا
اب میرے دل پر بوجھ ہے اور میں بیوی کے جنازے میں شرکت کرنا چاہتا ہوں
لیکن بوجوہ اس شخص کی خواہش کو پورا نہ کیا جا سکا
ملزم کے خلاف اک سال بعد عدالت میں کیس لگا ، اس کا اقبال جرم ، آلہ قتل ، وجہ قتل سب کچھ موجود تھے
اسے سز۔ائے موت یقینی تھی لیکن پھر اس نے اپنے وکیل کے ذریعے اپنی بیوی کے والدین کو پیشکش کی کہ 30 لاکھ روپے لے لیں اور مجھے معافی دے دیں
کیونکہ میرے بچے رل ج��ئیں گے
لڑکی کے والدین نے 50 لاکھ کی شرط رکھی یوں معافی نہ مل سکی
لیکن لڑکی کی ماں اندر خانے شوہر اور بیٹوں کو قائل کرتی رہی کہ اس نے ہماری بیٹا کو مارا ہے لیکن بے قصور ہماری بیٹی بھی نہیں تھی
اس کا کردار واقعی ٹھیک نہیں تھا لہذا جیسے بھی ہو اس کو معاف کردو
آخر کار بیوی کے والدین اور بھائی راضی ہوگئے
عدالت میں بیان جمع کروائے گئے
شوہر کا ملکیتی مکان اسکی ساس کے نام کروایا گیا تاکہ بچوں کے لیے کچھ محفوظ رہے یوں اس شخص کو واقعہ کے ڈیڑھ سال بعد رہائی مل گئی
آج بھی یہ شخص سکھیکی میں اپنے بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے
پردیسی کو عید گھر گزارنے کی خواہش راس نہ آئی :
خود سعودی عرب بھجوانے والی بیوی دشمن بن گئی ۔۔۔
مظفر گڑھ سے ایک تازہ ترین سچا واقعہ ۔۔۔۔۔
صفدر مظفر گڑھ کے ایک گاؤں کا رہائشی تھا اور چند سال پہلے علاقے میں کریانے کی دکان چلاتا تھا ،
لیکن دکان سے گھر کے خرچے پورے نہیں ہورہے تھے اوپر سے تین بچوں کی تعلیم پرورش کے اخراجات ۔۔۔۔۔
صفدر کی حسین و جمیل بیوی بہت سگھڑ تھی لیکن چاہتی تھی کہ انکے گھر کے حالات بدلیں ،
شہناز نامی اس خاتون نے اپنے جیٹھ کی منت سماجت کی جو سعودی عرب کی ایک کمپنی میں ملازمت کررہا تھا ،
بہن نے بھی سفارش کی اور 2024 میں ایک روز صفدر کا ویزا آگیا اور چند روز بعد ہی وہ سعودی عرب روانہ ہو گیا ۔
اسکے ابتدائی 3 ، 4 ماہ میں ہی حالات بہتر ہونے لگے ،
صفدر محنتی آدمی تھا وہ جو کماتا تھوڑا سا خرچہ رکھ کر باقی بیوی کو بھیج دیتا ، بیوی نے سب سے پہلے بچوں کو پرائیویٹ سکول میں ڈالا پھر گھر کا حلیہ درست کرنے لگی اسی دوران جب کہ وہ خود بچوں کو سکول چھوڑنے جاتی تھی اسکے تعلقات طارق نامی ایک شخص کے ساتھ ہوگئے جو اپنے بچے سکول چھوڑنے آتا تھا ،
ہر روز ہیلو ہائے کے بعد فون نمبرز کے تبادلے اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ،
شہناز ہر دو تین دن بعد طارق سے ملاقات کے لیے اسکے گھر جاتی جو کہ بچوں کے ساتھ اکیلا رہتا تھا ��ور اسکی بیوی اکثر رشتہ داروں میں رہتی ،
ملاقاتیں بڑھتے بڑھتی گہری عاشقی معشوقی میں بدل گئیں، شہناز اکثر طارق کو کہتی میں تو بنی ہی تمہارے لیے تھی ۔۔انہی رنگ رلیوں میں دو سال گزر گئے ،
رمضان کے آغاز سے چند روز قبل صفدر اچانک بغیر بتائے سعودی عرب سے اپنے گھر مظفر گڑھ پہنچ گیا ،
وہ اپنے گھر والوں کو س��پرائز دینا چاہتا تھا ،
بچے اور صفدر کے بہن بھائی تو بہت خوش ہوئے ،
بھائی کی دعوتیں ہونے لگیں ہر کوئی بہت خوش تھا لیکن شہناز بے چین رہنے لگی ،
ظاہر ہے شوہر نہیں تھا تو اس کا اچھا گزارہ ہو رہا تھا اسے صفدر سے اب صرف پیسے چاہیے تھے ،
پھر وہ اسے کیسے برداشت کرتی جبکہ وہ آتے ہی بتا چکا تھا کہ عید گزار کے واپس جاؤنگا ۔۔۔۔۔۔
اسکے بعد 3 بچوں کی ماں خوبصورت خاتون ڈائن بن گئی اس نے چھپ کر طارق سے رابطہ کیا اور کہا اب کیا کریں ۔
یہ تو پورا مہینہ سوار رہے گا ۔
طارق نے بھی جواب دیا اب تمہارے بغیر گزارہ ممکن نہیں ، ایک دن کی دوری بھی برداشت نہیں کہاں ایک مہینہ ۔۔۔
چنانچہ دونوں ��ے ملکر صفدر کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام بنایا ،
چند روز قبل شہناز نے صفدر کو دودھ میں بے ہوشی کی دوا ملا کر پلا دی اور وہ سو گیا ،
شہناز نے طارق کو بلا لیا وہ گھر آیا اور پھر اس نے صفدر کا گلا دبا کر اور سانس روک کر اسے مار ڈالا ،
اور رات کے اندھیرے میں اپنے گھر چلا گیا ،
شہناز بھی سو گئی ، صبح ہوئی تو اس نے بین ڈالنا شروع کر دیے اور رشتہ داروں اور صفدر کے بہن بھائیوں کو فون کردیے کہ میرا صفدر اچھا بھلا ��ویا تھا اب اٹھ نہیں رہا پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔
سب رشتہ دار اکٹھے ہو گئے ، احتیاطی طور پر کسی نے پولیس کو بھی فون کردیا ۔ شہناز کا موقف تھا کہ صفدر جب سے آیا تھا بیمار رہتا تھا اور دوائیاں بھی کھا رہا تھا ،
پولیس نے صفدر کے گلے پر دبائے جانے کے نشانات بھی دیکھ لیے ۔ جب شہناز سے وہ دوائیاں لانے کو کہا گیا جو بقول اسکے صفدر کھاتا تھا تو وہ ادھر ادھر ڈھونڈنے کے باوجود نہ دکھا سکی ،
شک کی بناء پر پولیس شہناز کو تھانے لے گئی اور ایک حوالدارنی نے اس سے پوچھ گچھ کی تو شہناز نے ہتھیار ڈال دیے ، اسکی نشاندہی پر طارق کو بھی گرفتار کر لیا گیا ،
صفدر کے تینوں بچے ددھیال نے سنبھال لیے ہیں اور بیوی بچوں کو اچھے مستقبل دینے کی خواہش رکھنے والا صفدر منوں مٹی کے نیچے جا سویا ہے۔۔
ریاض الجنہ کے یہ دو مقام بہت ہی خاص الخاص ہیں۔
نیلے دائرے والا وہ مقام ہے جہاں سرکار صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت فرمایا کرتے تھے۔ ترک بہت عاشق اور ادب کرنے والے لوگ ہیں اس لیے انھوں نے وہ متبرک مقام مہراب کے اندر لے لیا تاکہ اس پاک اور معتبر زمین پر کسی کا پاؤں نہ آئے اور جب لوگ سجدہ کریں تو لوگوں کے سر اس پاک مقام سے کچھ پیچھے ہو جہاں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک ہوا کرتے تھے۔
روایات اور بڑوں سے جو سنا ہے اس کے مطابق سبز دائرے والی جگہ وہ ہے جہاں درختوں میں سے سب سے خوش نصیب درخت حنانہ لگا ہوا تھا اور اس سے آقا علیہ الصلاۃ والسلام ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔
حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القَوی جب یہ واقعہ بیان فرماتے تو ارشاد فرماتے؛ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو! جب ایک درخت کا بے جان تَنا فِراقِ مصطفیٰ میں رو سکتا ہے تو تمہیں فراقِ رسول میں رونے کا زیادہ حق ہے۔
(وفاء الوفاء، 1/388تا 390، دلائل النبوۃ للبیہقی، 2/556 تا 561 ماخوذاً)
جس لڑکی کی طلاق ہو جائے اور ساتھ اک دو بچے بھی ہوں
اسکی دوبارہ شادی کے چانس 10 فیصد سے زائد نہیں
پچھلے دس پندرہ سالوں میں میں نے کوئی ایسا عظیم مرد نہیں دیکھا جس نے عورت کو بچے سمیت قبول کیا ہو
Adult Society
جسم کی صحت کی خاموش نشانیاں
✨️واضح اور یاد رہنے والے خواب آنا، دماغ صحیح طرح سے کام کر رہا ہے۔
✨️ منہ میں زیادہ لعاب بننا، منہ کے جراثیم متوازن اور صحت مند ہیں۔
✨️پیٹ سے آوازیں آنا، نظام ہاضمہ درست کام کر رہا ہے۔
✨️ٹھنڈے پانی سے نہانا اچھا لگنا ، خون کی گردش مضبوط ہے��
✨️بغیر الارم کے جلدی آنکھ کھل جانا، ہار مونز متوازن ہیں۔
✨️جلدی پسینہ آجانا ، جسم کا ڈی ٹاکس سسٹم ٹھیک کام کر رہا ہے۔
✨️دھوپ میں چھینک آنا ، اعصابی نظام تیز اور فعال ہے۔
✨️جلدی نیل پڑنا مگر جلد ٹھیک ہو جانا ، مدافعتی نظام مضبوط ہے۔
✨️ کھانے کے بعد ڈکار آنا ، معدے کا تیزاب درست مقدار میں ہے۔
✨️باقاعدگی سے ٹوائلٹ جانا ، آنتوں کی صحت بہترین ہے۔
اگر یہ نشانیاں آپ میں ہیں تو شکر ادا کریں، آپ کا جسم آپ کا ساتھ دے رہا ہے