نیت شوق بھر نہ جائے کہیں 🌟
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں 💖
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد 👀
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں 📅
نہ ملا کر اداس لوگوں سے 🚫
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں ✨
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے 🤲
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں ⏳
آواز دے رہی ہے یے کس کی نظر مجھے
شاید ملے کنارہ وہیں ڈوب کر مجھے
چاہا تجھے تو خود سے محبت سی ہو گئی
کھونے کے باد مل گئی اپنی خبر مجھے
ہر ہر قدم پے ساتھ ہوں سایہ ہوں میں ترا
اے بے وفا دکھا تو ذرا بھول کر مجھے
دنیا کو بھول کر تری دنیا میں آ گیا
لے جا رہا ہے کون ادھر سے ادھر مجھے
تو کہاں ہے مجھے او خواب دکھانے والے
آ کہ دکھلاؤں تجھے میں ترے وعدوں کی کتاب
یاد ہیں تجھ کو وہ مہکے ہوئے رنگین خطوط
کس قدر پیار سے لاتی تھیں نصابوں کی کتاب
اب کوئی خواب میں دیکھوں کہاں فرصت ہے مجھے
میری بے خواب نگاہوں میں ہے یادوں کی کتاب
ان سے نین ملا کے دیکھو
یہ دھوکا بھی کھا کے دیکھو
دوری میں کیا بھید چھپا ہے
اس کا کھوج لگا کے دیکھو
کسی اکیلی شام کی چپ میں
گیت پرانے گا کے دیکھو
آج کی رات بہت کالی ہے
سوچ کے دیپ جلا کے دیکھو
یہ بے سر و سامانی نخچیر بھی ہنستے ہیں
کچھ تیر نئے جوڑو بوسیدہ کمانوں میں
ہم اہل سخن دور حاضر کی نمائش میں
ہر عیب چھپا جائیں سنگیت کی تانوں میں
اس راہ محبت سے جاویدؔ گریز اچھا
ٹکراؤگے بھٹکو گے سنسان چٹانوں میں
جاوید اکرم
سچائی کی تلخی ہے ہم سادہ بیانوں میں
پتھر کی ہیں بنیادیں شیشے کے مکانوں میں
جو چاہو وہ لے جاؤ احساس کی نگری سے
خوشیاں بھی ہیں آنسو بھی آنکھوں کی دوکانوں میں
تم دیپ محبت کے پلکوں پہ سجا لینا
بٹ جائے نہ یہ دنیا تفریق کے خانوں میں