Nearly 10,000 Palestinian detainees are held in Israeli prisons—most without trial—including hundreds of children, doctors, and academics. They are subjected to the most brutal forms of torture, and no one in the world speaks about them.
Be their voice.
"ٹیوشن سینٹر سے قبرستان تک " (احتیاط کرنا ممی ڈیڈی نہی بلکہ ممی اور ڈیڈی ہونے کا اصل تقاضہ ہے )
ہمارے معاشرے میں حفظ ماتقدم کو اور احتیاط کرنے کو بزدلی اور "ممی ڈیڈی" ہونا سمجھا جاتا ہے - مجھے یاد ہے جب میں پہلی دفعہ امریکا سے واپس پاکستان آیا تو کار میں اگلی سیٹ پر جب بیٹھتے ہویے کار سیٹ لگاتا تھا تو باقی لوگ مذاق اڑاتے تھے کہ ممی ڈیڈی - ہمارے ہاں ڈرائیور کار سیٹ لگانے کی بجاے ایک کنڈا اس سیٹ میں پھنسا دیتا ہے کہ کار "ٹو ٹوں" نہ کرے - شیر خوار بچوں کو گود میں لیکر موٹرسائیکل پر خواتین بیٹھتی ہیں جس میں اس بچے کے موٹر سائیکل سے گرنے کا سب سے زیادہ چانس ہوتا ہے - کہیں کوئی تعمیر ہورہی ہو تو وہاں کوئی بیریئر نہی لگا ہوتا - جس عمارت میں تعمیر ہورہی ہوتی اسی عمارت میں لوگوں کی آمدو رفت بھی جاری ہوتی ہے - گھروں کا لینٹر ڈل رہا ہو تو وہاں بریانی پکائی جاتی ہے جس کو کھانے کیلئے سارا محلہ اسی لینٹر والی چھت کے نیچے چاول لینے جمع ہوا ہوتا ہے - کوئی اگر سمجھا دے کہ یہ خطرناک ہے تو اس کا یہ کہ کر مذاق اڑایا جاتا ہے کہ آپ تو بلکل ایڈونچرس نہی ہیں - زندگی موت تو الله کے ہاتھ میں ہے - وہ بیچارہ اس بات پر چپ کر جاتا ہے اور پھر ٹوٹے ہویے دل کے ساتھ قلم سے اس وقت بولتا ہے جب ایک گھر کی چھت جس پر راج مزدور اینٹیں لگا رہے ہوتے ہیں اور اسی کے نیچے اس قوم کا مستقبل چھوٹے چھوٹے بچے ٹیوشن پڑھ رہے ہوتے ہیں اور پھر وہ چھت گر جاتی ہے اور کتنے گھروں کا چراغ گل کر جاتی ہے -
آج لاہور میں ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا - کاہنہ میں ایک گھر کی چھت اس وقت گر گئی جب اس کے نیچے دو درجن سے زیادہ بچے بیٹھے ٹیوشن پڑھ رہے تھے - جس وقت بچے گھر میں پڑھ رہے تھے اسی وقت اسی کمرے کی چھت پر مزدور مٹی بھرائی کا کام کر رہے تھے اور اینٹیں لگا رہے تھے اور مزدوروں اور اینٹوں کا وزن چھت برداشت نہ کرسکی اور دھڑام گر گئی - نتیجہ یہ نکلا کہ چودہ بچے موت کی گود میں جا سویے -اس میں سے تین بچے ایسے تھے جو ایک ہی کوکھ کے تھے -
اس کو حادثہ کہنا غلط اور غفلت اور کوتاہی کہنا زیادہ مناسب ہوگا -
کیا ہوجاتا کہ اگر اس کمرے میں بچوں کو اس لئے نہ بٹھایا جاتا کہ اوپر کام ہو رہا تھا -
کیا ہوجاتا کہ اس وقت راج مزدور کام کرنا محفوظ نہ سمجھتے کہ بچے بیٹھے ہیں -
کیا ہوجاتا کہ ہمارے ہاں ایسے قوانین بن جاتے کہ تعمیر کی جگہ پر بچوں کا داخلہ ممنوع ہے -
زیر تعمیر عمارت پر سرخ ربن لگا کر کارڈن کردیا جاتا تو کیا یہ زندگیاں بچ نہی سکتی تھیں ؟
چلیں پاکستان سے باہر اس دنیا میں چلتے ہیں جہاں زندگیوں کی اہمیت ہے -
جب پاکستان میں لوگ اگلی سیٹ پر بیٹھ کر سیٹ بیلٹ میں کنڈا لگا رہے ہوتے ہیں تو امریکا میں کار سیٹ نہ لگانے پر ڈھائی سو ڈالرکا جرمانہ ہو رہا ہوتا ہے - جس کی وجہ سے کوئی کار سیٹ لگاے بغیر کار چلانے کا یا آگے بیٹھنے کا سوچتا بھی نہی ہے -
جب لاہور یا کراچی میں ایک تین چار سال کا بچہ موٹر سائکل کی ٹینکی پر بیٹھا ہوتا ہے اور پیچھے ایک نو ماہ کا بچہ کوئی خاتون گود میں لیکر بیٹھی ہوتی ہے جہاں اس کی ذمے داری میں صرف وہ بچہ سنبھالنا نہی بلکہ بہت بڑا دوپٹہ سنبھالنا بھی ہوتا ہے اور اس دوپٹے کے پھنسنے اور بچے کے گرنے کا ایک جیسا چانس ہوتا ہے ' تب مغرب میں کسی بچے کو موٹر سائکل تو بہت دور کی بات کار کی اگلی سیٹ پر بھی بٹھانے کا کوئی سوچ بھی نہی سکتا کیوں کہ اس پر اس کا لائسینس کینسل کردیا جاتا ہے - پچھلی سیٹ پر بھی بچہ جب بیٹھا ہوتا ہے تو اس کو کار سیٹ میں بیلٹ لگا کر بٹھایا جاتا ہے کیونکہ ریسرچ کے مطابق اگلی سیٹ پر بچے کو نقصان کا زیادہ چانس ہوتا ہے - میں جانتا ہوں کہ یہاں پڑھنے والا معاشی حالات کا ذکر کریگا کہ پاکستان میں غربت ہے تو موٹرسائیکل ہی سواری رہ جاتی ہے تو میں اس پر یہ سوال کرونگا کہ کیا گاڑیوں والی فیملیاں بچے موٹرسائیکل پر نہی بٹھاتی ؟ گاڑیوں میں بچے اگلی سیٹ پر یا کھڑکی سے باہر منہ نکال کر نہیں بیٹھے ہوتے ؟
جب پاکستان میں کوئی گنے سے لدی ہوئی ٹرالی سڑک پر جارہی ہوتی جس پر اتنا گنا لدا ہوتا ہے کہ اس کے وزن سے ٹرالی نظر بھی نہی آرہی ہوتی اور اس کے پیچھے بچے گنا لینے کیلئے بھاگ رہے ہوتے ہیں تب امریکا میں کسی بھی اوور لوڈ وہیکل کے پیچھے ایک چھوٹی گاڑی چلتی ہے جو سرخ لائٹ آن کرتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ "اوور سائز وہیکل " اور اس وہیکل کی تیسری لین ہوتی ہے اور اس چھوٹی گاڑی کا مقصد بس اس وہیکل کے پیچھے رہنا ہوتا ہے -
جب پاکستان میں سکول کے بچے بسوں پر لٹک کر سکول جارہے ہوتے ہیں ' بسوں کی چھتوں اور رکشوں کے دروازوں پر جھول رہے ہوتے ہیں ' تب امریکا میں پیلے رنگ کی سکول بس میں بچے سکول جاتے ہیں جس کو رکتا ہوا دیکھ کر سڑک کے دونو طرف کی ٹریفک رک جاتی ہے تاکہ بچے اس میں سے نکل کر سڑک کراس کریں تو ہر طرف کی ٹریفک مکمل جام ہو اور تب تک رکی رہے جب تک سکول بس اپنی لائٹ گرین نہی کردیتی اور سٹاپ کا سگنل آف نہی کردیتی -
ہمارے باورچی خانوں میں جب کوئی عورت بچہ گود میں اٹھاے دودھ اور چاے ابال رہی ہوتی ہیں اور بچہ اگر جھلس جائے تو اس کو قسمت اور اس عورت کی مجبوری سمجھا جاتا ہے لیکن مغرب میں ایسی کسی حرکت کے دوران اگر بچہ جھلس جائے تو اس کو چائلڈ ابیوز سمجھ کر کاروائی کی جاتی ہے اور اگر چائلڈ نیگلکٹ ثابت ہوجاے تو بچہ فوسٹر بھی کرلیا جاتا ہے -
ہمارے ہاں جب شیر خوار بچہ مامتا کی محبت میں ماں باپ کے ساتھ ایک بیڈ پر سورہا ہوتا ہے تو امریکا میں اس پر پابندی ہے - بچہ جھولے میں سلایا جاتا ہے کہ بچہ ماں باپ کے کروٹ لینے پر ان کے وزن کے نیچے نا آجاے -
ہمارے ہاں بڑی عید پر جب بیل آدھی کٹی گردن کے ساتھ سڑکوں پر بھاگ رہے ہوتے ہیں ' اور لوگ اور گاڑیاں ان کے نیچے آرہے ہوتے ہیں ' قصائی سڑکوں پر گھسیٹے جارہے ہوتے ہیں ' اور باقی معاشرہ ان کی وڈیوز پر فنی میوزک لگا کر ٹک ٹاک پر لگا رہا ہوتا ہے ' تب امریکا میں آبادی سے دور ایک چار دیواری والے فارم پر قربانی کرنے کی اجازت ہوتی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جاسکے -
جب ہمارے ہاں کسی احمد پور شرقیہ میں پیٹرول کے لیک ہوتے ٹینکر سے لوگ پیٹرول بوتولؤن میں بھر رہے ہوتے ہیں اور پھر آگ لگنے سے درجنوں لوگ مر جاتے ہیں ' تب امریکا اور یورپ میں پٹرول کے ٹینکر کے کسی ایسے حادثے کے فورا بعد وہاں پولیس پہنچ کر اس علاقے کو کارڈن آف کردیتی ہے اور فائر بریگیڈ آگ لگنے سے پہلے ہی احتیاطا پہنچ جاتے ہیں -
جب ہمارے ہاں کسی کاہنہ لاہور میں بچے کسی چھت کے نیچے پڑھ رہے ہوتے ہیں جب اسی چھت پر راج مزدور اینٹیں پھینک رہے ہوتے ہیں اور مٹی بھرائی کر رہے ہوتے ہیں ' تب امریکا میں ایسی عمارت میں بچے تو دور بڑوں کا بھی داخلہ ممنوع ہوتا ہے اور اگر ایسا کوئی حادثہ ہوجاے تو اس عمارت کے مالک کے خلاف ایسا کیس ڈالا جاتا ہے کہ وہ ساری عمراس سے آزاد نہی ہوسکتا -
بس کہنا یہ تھا کہ یہ جو ہوا یہ نہی ہونا چاہیے تھا -
بس کہنا اتنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنی زندگیوں میں تھوڑی سی احتیاط اور پری کاشن کرلیں تو بہت بڑےنقصانات اور حادثات سے بچ سکتے ہیں - ہماری حکومتیں بھی حادثوں کے بعد نوٹس لینے اور پابندیاں لگانے کی بجاے اگر پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کرالیں تو ہم یہ دن نہ دیکھیں - ہمارے بچے اتنے معمولی نہیں ہیں کہ کسی رکشے سے گر کر ہلاک ہوجائیں یا کسی اینٹ کے نیچے آکر مر جائیں اور ٹیوشن سینیٹر سے قبر تک پہنچ جائیں - ان معصوم کلیوں کو سنبھال سبھال کر رکھیں اور جان لیں کہ احتیاط کرنا "ممی ڈیڈی" ہونا نہی ہوتا بلکہ "ممی اور ڈیڈی " ہونے کا اصل تقاضہ ہوتا ہے کہ اپنی اولاد کی حفاظت کیلئے ہر ممکن احتیاط کریں - میں اس قلم کے ذریے اس سانحہ پر بس اسی طرح احتجاج اور تعزیت کر سکتا تھا - 😭
حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گیے ....
قلم کی جسارت وقاص نواز
-------------------------------------------------------
@noshigilani@MoeedNj
Handing over all public health facilities to PPHI is an admission of the Sindh Government's failure. If outsourcing is necessary, choose proven institutions like Indus Hospital, SIUT, or CLF, not NGOs known more for paperwork than public healthcare .Kindly reverse this decision .