ای آئی یو گلوبل انڈیکس میں کراچی کا 170 نمبر پر آنا ناکامی نہیں بلکہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ دنیا میں ہزاروں شہر ہیں اور یہ انڈیکس ان کو فلٹر کر کے ٹاپ کے 173 شہر اس انڈیکس کے لئے منتخب کرتا ہے۔ دنیا کی ٹاپ انویسٹمنٹ کمپنیز، سرمایہ کاری کے لئے ان شہروں کو evaluate کرتی ہیں۔
پاکستان کے باقی شہر اس گلوبل ریڈار پر نظر ہی نہیں آتے پاکستان سے صرف کراچی وہ شہر ہے جو اس انڈیکس میں جگہ بنا سکا ہے جس کا مطلب ہے کہ کراچی پاکستان کا وہ اکنامک انجن ہے جو دنیا کے ایلیٹ شہروں میں پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس انڈیکس میں جگہ بنانے کا مطلب ہے کہ کراچی دنیا کے ایلیٹ شہروں میں اپنی جگہ بنا چکا ہے اور دنیا کے ٹاپ اینٹلیجنس یونٹ، سرمایہ کاری کے لئے اسے مانیٹر کرنے پر مجبور ہیں۔
کشمیر کی نمائندگی بھٹوز اور پیپلزپارٹی سے بہتر کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ پیپلزپارٹی کے بانی چیرمین نے کہا تھا کہ میں نیند میں بھی کشمیر کے بارے کوئی غلط فیصلہ نہیں کر سکتا۔
آج چیرمین بلاول بھٹو زرداری بھی آزاد کشمیر کے عوام کی قومی سطح پر پارلیمان میں نمائندگی کی بات کر کے کشمیر کی آواز بن رہے ہیں۔۔۔
صولت صاحب کراچی کم از کم رہائش کے قابل شہروں کی فہرست میں شامل تو ہے، لاہور، اسلام آباد سمیت پاکستان کا کوئی اور شہر تو رہائش کے قابل شہروں کی اس فہرست میں جگہ ہی نہیں بنا سکا۔ اس پر بھی کچھ لکھیں کہ پاکستان کا دارلحکومت اسلام آباد اور لکسمبرگ بن چکا لاہور قابل رہائش شہروں کی فہرست میں شامل کیوں نہیں ہیں؟
لاہور پر تو سارے پنجاب اور وفاق کے فنڈز لگائے گئے ہیں اس کے باوجود لاہور اس فہرست سے باہر کیوں ہے؟؟؟
اصلاح کی گنجائش ہر ادارے، ہر پروگرام اور ہر حکومت میں ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ وفاق اور پنجاب میں برسرِاقتدار نون لیگ جسے خود اپنی کارکردگی میں سب سے زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے وہی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام عالمی سطح پر تسلیم شدہ سماجی تحفظ کا ایک کامیاب ماڈل ہے۔ اس میں مزید بہتری ضرور لائی جا سکتی ہے، لیکن کروڑوں غریب خواتین کے گھروں کا چولہا جلانے والے پروگرام کو متنازع بنانا اور بوجھ کہنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ انتہائی نامناسب رویہ ہے۔
اگر کسی کو صرف “بینظیر” کے نام سے مسئلہ ہے تو اس کا کوئی علاج نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پروگرام آج تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ مستحق خاندانوں کی مدد کر رہا ہے، جبکہ 2008 سے اب تک 2.6 کھرب روپے سے زائد امداد براہِ راست غریب خاندانوں تک پہنچائی جا چکی ہے۔۔۔
یہ صرف فیصل راٹھور کے جلسے کی ایک جھلک ہے۔ ابھی آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی شمولیت باقی ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کے منتظر ہیں، اور عوامی جوش و خروش واضح طور پر بتا رہا ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی کامیابی پاکستان پیپلز پارٹی کا مقدر بنے گی۔
جیت ہو گی تیر کی
بلاول بھٹو بینظیر کی
بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں دو سو افراد کو زندہ جلانے کے المناک سانحے کے ملزمان باعزت بری ہو گئے۔
کوٹ رادھا کشن میں مسیحی میاں بیوی کو زندہ جلانے کے مقدمے میں بھی ملزمان باعزت بری قرار پائے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس سارے عمل میں اگر کوئی بے عزت ہوا ہے تو وہ انصاف ہے، ملزمان تو باعزت بری ہو گئے، مگر متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔۔۔
اس کہانی کی ہمارے ملک اور نظام عدل سے کسی بھی طرح کی مماثلت قطعی طور پر اتفاقیہ ہرگز نہیں ہے۔۔۔
ایک دفعہ ہنسوں کا ایک جوڑا کسی ملک کے اوپر سے اڑتا ہوا جا رہا تھا انہوں نے نیچے دیکھا تو محسوس کیا کہ یہ ملک کسی بڑی نحوست کا شکار ہے۔ یہ دیکھ کر ہنسوں کا جوڑا نیچے اتر آیا۔ نیچے ان کی نظر ایک بندر پر پڑی تو اس سے سوال کیا کہ اس ملک پر اتنی نحوست کیوں طاری ہے۔ اس پر بجائے کوئی جواب دینے کے بندر نے ہاتھ بڑھا کر ہنس کی مادہ کو پکڑ لیا اور کہنے لگا کہ یہ تو میری مادہ ہے۔ اس پر ہنس نے بہت شور مچایا لیکن بندر پر کوئی اثر نہ ہوا۔ بالاآخر معاملہ اس ملک کی عدالت میں پہنچ گیا۔ عدالت نے سارے معاملے کو سنا اور پھر فیصلہ سنا دیا کہ بندر حق پر ہے اور ہنس کی مادہ اس کے حوالے کر دی۔ ہنس نے بہت شور مچایا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے بندر کی مادہ ہنس کیسے ہو سکتی ہے لیکن اس کی کسی نے نہ سنی۔ فیصلے کے بعد جب بندر اور ہنس عدالت سے باہر آئے تو بندر نے ہنس کی مادہ اس کے حوالے کی اور اس سے کہا کہ اب تمہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ ہمارے ملک پر نحوست کیوں طاری ہے۔ اب جتنی جلدی ہو سکے اپنی مادہ کو لے کر اس ملک سے نکل جاو۔
آموں کی سرکاری پیٹیاں جس کو مرضی پہنچیں ہم تو اپنے ندیم بھائی @clickonnadeem کے شُکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے دوبئی پہنچنے سے پہلے ہمارا آموں کا تحفہ دوبئی پہنچا دیا۔۔۔❤️
جج کے لبادے میں چھپی اس کالی بھیڑ کو عبرت کا نشانہ بنا دیا جانا چاہیئے لیکن کچھ نہیں ہو گا غریبوں کے گھر اُجاڑنے والی یہ کالی بھیڑ غریب عوام کے خون پسینے سے اکٹھے گئے ٹیکس کے پیسوں سے تاحیات کروڑوں کی مراعات حاصل کرتی رہے گی۔۔۔
پاکستان کا ایک ہی شہر کراچی اس انڈیکس میں شامل ہے بے شک آخری نمبروں پر ہی ہے جبکہ لاہور جو لکسمبرگ سے زیادہ ترقی کر چکا ہے وہ تو اس لسٹ میں جگہ ہی نہیں بنا سکا۔ اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔
سادہ الفاظ میں اگر کہا جائے تو دنیا کے ٹاپ کے شہروں میں کراچی شامل ہے، لاہور اس میں شامل نہیں ہے۔۔۔
کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلا کر قتل کیے جانے جیسے ہولناک مقدمے میں تینوں ملزمان کا بری ہو جانا صرف ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ انصاف پر ایک کاری ضرب ہے۔ جب ایسے سنگین مقدمات بھی ملزم انجام تک نہ پہنچ سکیں تو سوال صرف ایک رہ جاتا ہے، کیا ہمارے ہاں انصاف واقعی زندہ ہے یا ہر بار انصاف ہی قتل ہوتا ہے۔۔۔💔
آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد نسلہ ٹاور کو گرانے کا فیصلہ دینے والے چیپ جسٹس گلزاری لال کو کٹہرے میں لایا جائے جس کے ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی فیصلے نے بے شمار لوگوں کی عُمر بھر کی کمائی ملبے کا ڈھیر بنا دی۔
گلزاری لال کو نہ صرف کٹہرے میں لایا جائے بلکہ اسے نشان عبرت بنایا جائے، اس کی ساری مراعات جو وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی حاصل کر رہا ہے سب فوری طور پر بند کی جائیں۔ اگرچہ اس سے بھی نسلہ ٹاور کے مکینوں کے نقصان کا ازالہ تو نہیں ہو گا لیکن آئندہ کسی گلزاری لال کو ایسا فیصلہ کرنے کی جُرات نہیں ہو گی۔
اس سے پہلے چیپ جسٹس افتخار چ کی جانب سے ریکوڈک کے ساتھ معاہدے کو منسوخ کرنے والے فیصلے کے بعد پاکستان کو چھ ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنا پڑا تھا۔
اس شخص کے غلط فیصلوں کی قیمت بھی پاکستان عرصہ تک ادا کرتا رہے گا لیکن یہ شخص آج بھی ریٹائرمنٹ کے بعد کروڑوں روپے کی مراعات حاصل کر رہا ہے۔
آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد نسلہ ٹاور کو گرانے کا فیصلہ دینے والے چیپ جسٹس گلزاری لال کو کٹہرے میں لایا جائے جس کے ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی فیصلے نے بے شمار لوگوں کی عُمر بھر کی کمائی ملبے کا ڈھیر بنا دی۔
گلزاری لال کو نہ صرف کٹہرے میں لایا جائے بلکہ اسے نشان عبرت بنایا جائے، اس کی ساری مراعات جو وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی حاصل کر رہا ہے سب فوری طور پر بند کی جائیں۔ اگرچہ اس سے بھی نسلہ ٹاور کے مکینوں کے نقصان کا ازالہ تو نہیں ہو گا لیکن آئندہ کسی گلزاری لال کو ایسا فیصلہ کرنے کی جُرات نہیں ہو گی۔
پچھلے سال قصور میں منعقد ہونے والی بابا بلھے شاہ کانفرنس میں شرکت میرے لیے ایک غیر معمولی اعزاز تھی۔ اس محفل میں اہلِ علم و دانش کے درمیان شریک ہونا نہ صرف باعثِ فخر تھا بلکہ یہ تجربہ میری زندگی کی خوبصورت اور ناقابلِ فراموش یادوں میں ہمیشہ شامل رہے گا۔
تو وفاق میں نون لیگ کی حکومت اور وزیراعظم کیا اللہ واسطے بنوا دیتے؟؟؟
بی بی یہ سیاست ہے نون لیگ والے اتنے چُوچے نہیں ہیں کہ پیپلزپارٹی کا صدر ایسے ہی بنوا دیتے، اگر نون لیگ کے پاس اتنے ووٹ ہوتے تو انہوں نے صدر باؤ جی کو بنوا لینا تھا۔ صدر کے الیکٹورل میں پیپلزپارٹی کا ووٹ سب سے زیادہ تھا، اگر تینوں بڑی جماعتیں اپنے امیدوار کھڑے کرتیں تو بھی صدر پیپلزپارٹی کا ہی منتخب ہونا تھا۔۔۔