قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار ��اصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرن�� کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی ��ندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
ویسے تو FIA والے عام شہریوں کے خلاف مقدمات بنانے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ آن ڈیوٹی ایک ایف آئی اے اہلکار کو اس طرح ہراس کرنے پر یہ اقرار الحسن کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہیں یا نہیں۔
یہ حرکت کسی پی ٹی آئی والے نے کی ہوتی تو اب تک اس کی پوری فیملی اٹھا لی گئی ہوتی۔
پیچھے کھڑے تمام اہلکاروں کو پتہ ہے کہ اقرار فوج کا ٹاوٹ ہے اس لیے وہ سب ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ اگر ہم میں سے کوئی ہوتا اور ذرا سی بھی اُنچی آواز میں بات کرتا تو یہ سب ہمیں مار مار کر دنبہ بنا دیتے اور پھر دو کلو چرس کا جھوٹا مقدمہ ڈال کر جیل بھیج دیتے
آپ کو کس نے یہ حق دیا کہ آپ میرے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیکر سیاست میں مداخلت کریں الیکشن چوری کریں غیرقانونی آئینی ترامیم کرتے پھریں آپ کو کس نے اختیار دیا جعلی نظام حکومت میں صدر وزیراعظم اور تمام وزیراعلیٰ فارم 47 بناکر عوام پر مسلط کردیں یہ آپ ڈیوٹی نہیں کررہے حرامزدگی کررہے ہیں : اقرار الحسن کا فیلڈمارشل سے دوٹوک مکالمہ
تحریک انصاف کے سفر میں سے ایک یادگار لمحہ ۔۔۔ جس دن عمران خان اسمبلی میں وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
اس دن ہم سب کے نعروں سے وہ اسمبلی کم سٹیڈیم زیادہ لگ رہا تھا۔
کیا پتہ تھا کہ اس کے آگے عشق کے امتحان اور بھی تھے۔
#PTIFoundationDay#EverySecondCountsForKhan
شیخ رشید جو ہر دور میں ڈیکٹیٹر کا ساتھی ہؤا کرتا تھا, آج 4 سال ہوگئے جیل کاٹی پریشر برداشت کیا, آج خاموش ہے لیکن ڈیکٹیٹر کا ساتھ نہیں دیا!
سب سے بڑی بات, عمران خان کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا❤️
شیخ صاحب کوئی نہیں یہ دن بھی گ��ر جائے گے!!
اب یہ بات تمام گریڈ آفیسر پر سرِعام لاگو ہوگی؟
"میرے ٹیکس کے پیسوں سے آپ یہ یونیفارم پہن کر کھڑے ہوئے ہیں یہاں پر۔ آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ آپ یونیفارم پہن کر پولیٹیکل کمنٹ کریں"
ایک شخص کا نام اسکی حرکتوں سے پھدو پڑ گیا۔ وہ اس بات سے اتنا تنگ آیا کہ اپنا گاوں چھوڑ گیا۔ نئی جگہ کیا اور کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو پیچھے سے کسی نے پکارا اوئے پھدو۔ وہ لڑنے لگا چیخنے چلانے لگا اور آخر میں کہتا ہے باقی چھوڑو یہ بتاؤ تمہیں میرا نام کیسے پتہ چلا
وہ ایف آئی اے والا کوئی اللہ کا ولی ہے ادھر اس نے کہا اس کا حال جواد احمد والا ہوگا ادھر اس پر جواد احمد والی کیفیت طاری ہوگئی۔
پھدو ای اوئے
لڑائی اقرار الحسن اور ایف آئی اے اہلکار کی ہوئی لیکن زیادہ تنقید وردی پہن کر سیاست کرنے والے جرنیلوں پر ہورہی ہے۔ الحمد للہ ثم الحمدللہ اس قوم کا نشانہ اب تیر کی طرح سیدھا ہے۔