بظاہر چپ چاپ اور پر سکون نظر آنے والے اپنے اندر موج در موج کتنے طوفان لیے پھرتے ہیں کوئی نہیں جانتا. کیونکہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ چرچا نہیں کرتی.مگر بیرونی زخموں سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے.ایسے میں کبھی دل چاہتا ہے کہ اندر سے اٹھنے والے ہر طوفان کو اسطرح سے رونقِ ورق کر دیا جائے کہ ہر حرف کی چیخیں دور تک سنائی دیں ہر لفظ نوحہ کناں ہو. اور ہر جملے سے جذبات کا لہو ٹپکے اور کاغذ درد کی شدت سے کراہ اٹھے. تحریر میں بکھرا درد اتنا گہرا ہو کہ پڑھنے والے کی زندگی سے سکون چھین لے. اسکے ہونٹوں کی مسکراہٹ غارت ہو جائے اور آنکھیں ندیاں بن کر بہنے لگیں. تب ہی تو پتہ چلتا ہے رستے زخموں پہ کانٹوں کا مرہم لگانا کسے کہتے ہیں. سسکیاں سمیٹ کا مسکرانا کسے کہتے ہیں. دکھ کے آنگن میں خوشی کے پھول کھلانا کسے کہتے ہیں...
ہر گلی کے موڑ پر شیطان کھڑا ہے. کوئی وسوسے کی شکل میں، کوئی تعلق کی شکل میں، کوئی ضرورت کی شکل میں، کوئی آپنی ہی شکل میں. میں کنکر پھینکتا ہوں.. ایک گرتا ہے، دس کھڑے ہو جاتے ہیں. میں پتھر اٹھاتا ہوں.. ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں، جیب میں سوراخ ہو گیا ہے. کہاں سے لاؤں اتنے پتھر؟ نہ پہاڑ باقی رہے، نہ دریا میں پتھر. سب ختم ہو گئے اس روز.. جب میں نے اپنے اندر کے شیطان کو پتھر مارا تھا.
اب سمجھ آیا.. شیطان باہر نہیں ہوتے، شیطان وہ خیال ہیں جو ہمیں کمزور کر دیتے ہیں. وہ لالچ جو سجدے بھلا دیتا ہے. وہ غصہ جو رشتے جلا دیتا ہے. وہ مایوسی جو دعا چھین لیتی ہے. تو اب کنکر نہیں اٹھاتا میں.. اب دعا اٹھاتا ہوں. اب پتھر نہیں پھینکتا.. اب صبر کا کوہ کھڑا دیتا ہوں. کیونکہ شیطان کنکروں سے نہیں مرتے.... شیطان "اعوذباللہ" سے مرتے ہیں. اور جب اللہ ساتھ ہو.... تو پھر ہر جانب فرشتے کھڑے ہو جاتے ہیں....!!!
مریم کی کنیز اؤل کے لہجے میں رعونت، الفاظ میں تکبر، اور انداز میں دائمی اقتدار کا زعم، تاریخ مسکرا رہی ہو گی یہی فریب کبھی فرعون نے بھی پالا تھا مگر وقت نے اس کا تعارف پانی میں لکھ دیا سو ان کا انجام بھی بُرا ہو گا
@AbbasKhan251 Chanar K Darakh Ka saya boht hota bai chanar k darakh k nechy bath jain to AC ko bol jain gy itna saya or thanda hota Chanar Hum kashmriyu ka qomi darakh ha
“موسیٰ علیہ السلام اکیلے چل رہے تھے، فرعون کے محل سے نکالے گئے، نہ زادِ راہ تھا نہ پناہ، مدین کے صحرا میں۔
وہ دونوں لڑکیوں کے لیے جانوروں کو پانی پلا کر ایک درخت کے سائے میں جا بیٹھے، اپنے بھٹک جانے کی شکایت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ پورے شعور اور کامل یقین کے ساتھ صرف اللہ کی+