Legendary captains of World cricket are proving they are champions on & off the field. Their voices matter! There is growing concern about the health of Imran Khan in prison. IK must be treated humanely &should receive proper medical care as mandated by SC order #ReleaseImranKhan
ضروری اپیل
میری ٹوئیٹر پر موجود انصافینز اور عمران خان کے چاہنے والوں سے گزارش ہے کہ پنجاب اسلمبلی اور قومی اسمبلی ، سینیٹ پر توجہ دیں۔ ممبران کو مجبور کریں کہ وہ ایکٹویٹی کریں۔
پنجاب اسمبلی میں تو باقاعدہ ایک پالیسی ہے کہ احتجاج کرنے کا کیا فائدہ۔ تقریر میں ایسا جملہ بولیں جو وائرل ہو جائے بس کام ہو گیا۔ مطلب توجہ صرف ایک جملے پر چٹکلے پر جو وائرل ہو جائے۔ اور بس اسے دکھائیں کہ یہ ہم نے کیا ہے۔
ایک لمحے کو مان لیں انہیں خان پر بات کی اجازت نہیں۔ تو مریم جیسی نالائق وزیراعلی کبھی نہ آئی لیکن دیکھیں یہ اسے بھی ایکسپوز نہیں کر پاتے۔
آج لندن میں پاکستانی فوجی آمر جنرل عاصم 'یزید' منیر کے قریبی ساتھی، چیئرمین او پی ایف، سید قمر رضا کو برطانوی پاکستانی کشمیریوں نے کونسلر عاشق حسین فردوسی کی قیادت میں عوامی سطح پر گھیر لیا اور کھلے عام چیلنج کیا۔ ان سے پاکستان میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث اس ناپسندیدہ آمر کی حمایت پر صراحتاً جواب طلب کیا گیا۔ کوئی گول مول بات، کوئی بہانہ قبول نہیں کیا گیا۔ اگر یہ پاکستان ہوتا تو اب تک فوجی ڈکٹیٹر کے پالتو کتے نجانے کیا کچھ کرچکے ہوتے۔
انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر 20 سالہ کیریئر میں ، جس دوران میں نے دنیا بھر کی 25سے زائد آمیریتوں میں کام کیا ہے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ، قید تنہائی ور طبی سہولیات سے محرومی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے ۔
اب میں کچھ قانونی نکات کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ جیسا کہ ذکرہوا، جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا واضح حکم دیاتھا۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ انہیں ہسپتال میں داخل کر کے ایک جامع میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ماہرین قلب، جنرل سرجن، ماہرین امراض داخلہ، آنکھوں کے معالج اور خان صاحب کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان شامل ہوں ۔ اس کے علاوہ طبی ریکارڈ پیش کرنے، ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں کروانے اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطہ بحال کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ سماعت کے دوران معزز جج نے واضح طور پر کہا تھا کہ خود میڈیکل بورڈ کی رپورٹ ان کی نبض اور دل کی دھڑکن کے غیر معمولی ہونے کی تصدیق کرتی ہے ۔ اور ظاہر ہے ، عدالتی مہلت طویل عرصہ قبل ختم ہو چکی ہے ۔جیسا کہ ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا، 20اگست کو آدھی رات کے بعد انہیں ایک سرکاری ہسپتال (پمز) منتقل کر دیا گیا، جبکہ دوسری طرف شفاء انٹرنیشنل ہسپتال ایک گاڑیوں کا قافلہ بھیج کر دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی جہاں ڈاکٹر فیصل سلطان گھنٹوں اپنے مریض کا انتظار کرتے رہے اور وہ وہاں کبھی لائے ہی نہیں گئے۔ چند گھنٹوں کے اندر، انتہائی سرسری معائنے کے بعد، بغیر کسی آزاد بورڈ کی میٹنگ کے، صبح 5 بجے انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ پمز انتظامیہ رپورٹس عام کرنے سے گریز کر رہی ہے ، حکومت ان کی بہن نے واضح کیا ہے کہ کوئی تفصیلی اور باقاعدہ معائنہ نہیں کیا گیا۔جہاں بھی آئینی اور جمہوری نظام قائم ہو اور اختیارات کی تقسیم کا قانون موجود ہو، وہاں اعلیٰ ترین عدالت کے احکامات کی پابندی لازم ہوتی ہے۔ اگر انتظامیہ عدلیہ کے واضح احکامات کو اس طرح نظر انداز کرے گی تو آئین اپنی اہمیت کھو دیتا ہے ٌاور بحرانوں کے حل کے لیے غیر موثر ہو جاتا ہے ۔انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر 20 سالہ کیریئر میں ، جس دوران میں نے دنیا بھر کی 25سے زائد آمیریتوں میں کام کیا ہے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ، قید تنہائی ور طبی سہولیات سے محرومی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے ۔ یہ صرف ان پر قائم سیاسی مقدمات کا معاملہ نہیں ، بلکہ جیل کے ان کی قید کے حالات اور بدسلوکی نیلسن منڈیلا قواعد کی شدید خلاف ورزی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ رویہ پاکستان کے اپنے قوانین کے بھی خلاف ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس معاملے پر صرف ہم یا ان کا خاندان ہی آواز نہیں اٹھا رہے، بلکہ ہمیں اقوام متحدہ ور دیگربین الاقوامی اداروں کی مکمل تائید حاصل ہے مارچ 2024میں بلاجواز حراست پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے ان کی قید کو غیر قانونی اور سیاسی طور پر متحرک قراردیتے ہوئے ان کی فوری اور بلامشروط رہائی کا مطابلہ کیا تھا اسی طرح تشدد کے معاملے پر اقوام متحدہ کی خصوص رپورٹ نے حکومت پاکستان کو باضابطہ مراسلہ بھیجا جس میں ان کی قید تنہائی پر شدید خدشات ظاہر کیے گئے ۔ علاوہ ازیں تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کا نام شامل کرتے ہوئے طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش اکااظہار کیا اور حکومت پاکستان سے اس پر جواب طلب کیا۔ اپریل 2026 میں انٹرپارلیمانی یونین (IPU)نے بھی متفقہ طور پر ان کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ مناسب طبی دیکھ بھال کا حق ہر قیدی کا بین الاقوامی قانون کے تحت مسلمہ حق ہے۔سپریم کورٹ کے حکم پر فی الفور عمل ہونا چاہیے ۔ تاہم، محض ہسپتال میں داخلہ ان کا حتمی حق نہیں ہے ، بلکہ عمران خان اور ان کی اہلیہ پر قائم تمام بے بنیاد مقدمات سے فوری اور بالمشروط رہائی کے حقدار ہیں
بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکیل جیرڈ جینسر کی گفتگو
جب آخری بار، ہم نے اپنے والد سے بات کی تو وہ ہمارے طبیعت دریافت کے ٹاپک کو جلدی سے بدل کر ہمارے بارے میں سوال کرتے ہیں، وہ اپنے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے، یہ بھی فکر ہوتی ہے کہ کب کال کاٹ کر دی جائے۔ قاسم خان۔
عمران خان کے بیٹوں کا مکمل انٹرویو۔
#StopRiskingImranKhansLife
ابھی ہماری فارم 47 حکومت Sky Sports کی شکایتیں کر رہی تھی کہ آج CNN نے بھی عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کا انٹرویو چلا دیا۔
بین الاقوامی میڈیا بھی اب فارم 47 والوں کے صحیح چیزے لے رہا ہے۔ 😂😂
پوری دنیا سے اتنا پریشر آ رہا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال جانے دیں اور اسے رہا کریں۔
مگر یہ فرعون، یزید اور نمرود ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔
27 ستمبر صرف انقلاب کا دن ہو،
اس کے علاوہ پاکستانیوں کے پاس کوئی آپشن نہیں۔
The sons of former Pakistan PM Imran Khan have spoken to Al Jazeera about their father’s worsening health in prison. Kasim and Suleiman Khan are demanding authorities allow access to independent medical treatment.
"الحمدللّٰہ! نیتِ صادق اور شفاف دامن کے ساتھ بے گناہ ہیں۔ اللّٰہ بے نیاز ہے، اور وہی مظلوم کے حق میں وقت اور حالات کے رخ موڑنے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے۔"قریشی