سرحد یونیورسٹی والے معاملے میں اب تک فوجی افسر پر حملہ کرنے ہاتھ اٹھانے والے 37افراد کی شناخت ہو چکی ہے ان کے خلاف سخت تادیبی اور قانونی کاروائی شروع ہو چکی ہے تحریک انصاف نے گندی سیاست کے لیے اور نوجوان بلی چڑھا دیے ہیں
معاملہ سادہ تھا ایک یونیورسٹی میں ایک حادثہ ہوا ایک آفیسر اس کا حصہ تھا ادارے نے فوری طور پر ایکشن کا اعلان کیا آفیسر کی گرفتاری اور کاروائی کا بتا دیا گیا بات یہاں ختم ہو جاتی ایکشن لیا جا چکا تھا
مگر پھر تحریک انصاف نے اس کے سوشل میڈیا ایکو سسٹم نے اس واقعے پر سیاست شروع کی فوج کے خلاف ایک زہریلی ترین سوشل میڈیا مہم شروع کی اب وہ معاملہ جو کرنل کے کورٹ مارشل پر نبٹ جاتا اس میں بہت سارے لوگ آئیں گے سوشل میڈیا والے تو ڈالر سمیٹ اگلے ٹاپک پر چلے جائیں گے مگر کل سے سرحد یونیورسٹی کے وہ سارے سٹوڈنٹ اب چھپتے پھر رہے ہیں ان پر بہت سنگین الزامات کا پرچہ کاٹ دیا گیا ہے
شکریہ تحریک انصاف کا ادا کریں
یونیورسٹی ویڈیو کو بغور دیکھنے کے بعد صاف نظر آتا ہے کہ یہ واقعہ کسی اور واقعے کا تسلسل ہے، اسٹوڈنٹس کے برتاؤ سے صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ kpk کے بدتمیز یوتھیے ہیں جن کی تربیت عمران خان نے کی اور اب وہ عروج پر ہے، کوئی آفیسر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتا جب تک اس کو اس حد تک لے جایا جائے،بہرحال کرنل صاحب غلطی کر بیٹھے،
جہاں کرنل صاحب کو حراست میں لیا گیا ہے وہاں ان بدمعاشوں کو بھی گرفتار کرنا ضروری ہے جنہوں نے ایک حاضر آفسر کو دھکے مارے اور وردی پر ہاتھ ڈالا،
ڈبلُ سٹینڈرڈ —
محمد بنُ قاسم ایک خاتون کی آواز پر پہنچے تو ہیرو ۔۔۔۔۔
ایک فوجی افسر اپنی بیوی کی آواز پر اس کی عزت بچانے کے لئے پہنچے تواس پر تنقید۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(رانا سہیل ——اردو خبرنامہ کینیڈا )
اگر ادارہ فوجی افسر کو بچانے کی کوشش کرتا اگر ادارے کے لوگ طلبا پر تشدد کرتے تو اعتراض بھی بنتا تھا اور سوشل میڈیا پر تنقید بھی ہونی چاہیے تھی مگر ایسا کچھ نہی ہوا فوجئ افسر گرفتار ہے اس کا کورٹ مارشل ہو گا اس کی نوکری اس کا فوجی کئیریر ایک لمحاتی غلطی کی وجہ سے ختم ہو گیا ہے انصاف اتنا ہی تیز رفتار ہونا چاہیے
دیکھنا یہ ھے یونیورسٹی والے سٹوڈنٹس کے رویے کے زمہ دار ھیں وہ سٹوڈنٹس کے ساتھ کیا کرتے ھیں۰
کیا ھماری یونیورسٹیوں میں یہ تعلیم دی جاتی ھے کے دوسروں کی بہن بیٹی بیوی کا عزت کا جنازہ کیسے نکالنا ھے؟
مجھے تو حیرانی فیمیل سٹوڈنٹس پے ھے وہ کیسے اس ھراسمنٹ کو جستیفائی کر کے سٹوڈنٹس کو مظلوم بنا رھی ھیں؟؟؟
یہ ڈاکٹر جدون کا ڈاکٹر آینہ جو کہ کرنل کی اہلیہ ہے ان سے 21 اگست کا تحریری معافی نامہ ہے جب ڈاکٹر آئینہ نے ڈاکٹر جدون کے خلاف پولیس کو درخواست دی تو اس نے معافی مانگی۔۔۔۔اور آج چار دن بعد یونیورسٹی کے کچھ آوارہ طلبا کو ساتھ ملا کر اپنی بحالی کے لیے ڈرامہ رچایا۔۔
اب جبکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ڈاکٹر آئینہ سنگین ہراسانی کی متاثرہ خاتون ہیں اور اپنے شوہر لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی کو انہوں نے فون کر کے یونیورسٹی نہیں بلوایا تھا (مکمل ثبوتوں کیساتھ تفصیل میرے گزشتہ ٹویٹ میں پڑھئیے جانئیے) اور یہ کہ غلطی کرنل اسفند کی نہیں بلکہ اس جھنڈ کی تھی جو جدون خان نے ڈاکٹر آئینہ کیخلاف پلاننگ کر کے اکٹھا کیا اور کرنل اسفند نے جو کیا اپنی اہلیہ کی جان عزت بچانے اور سیلف ڈیفنس میں کیا، سو کرنل اسفند کیخلاف کوئی کاروائی نہیں ہونی چاہئیے بلکہ جو اصل ملزمان ہیں ان کی سخت پکڑ ہونی چاہئیے۔ اس ملک میں پہلے ہی ہراسانی کا شکار خواتین کس ظلم اور اذیت کا سامنا نہیں کرتیں اور اب اگر ہراسانی سے بچانے والوں کیخلاف کاروائی ہوئی تو خواتین کی حفاظت کرنا ہی جرم بن جائے گا ۔۔۔۔۔۔
خواتین جاب پر جس ہراسمنٹ کا سامنا کرتی ہیں ۔ آدمی اس کا سوچ نہیں سکتے۔ اس ہراسمنٹ کا آپ کسی سنئیر کو بتائیں تو آپ کی درخواست ردی کی نوکری میں ڈال دی جاتی ہے۔ سنئیر خود مل کر ٹھٹھے اڑانا قابل فخر سمجھتا ہے ۔
جنسی ہراسمنٹ کا عنصر شامل نہ ہو تو ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت آپ درخوست نہیں دے سکتے
آپ شادی شدہ ہوں بچے ہو آپ کو بآسانی تب بھی دوست بننے کی آفر دی جاتی ہے۔۔
آپ مکمل پردہ کر رہے ہوں تب بھی عجیب و غریب نام رکھے جاتے ہیں۔
ان مردوں کو اس اذیت کی سمجھ تب آتی جب ان کی بیٹی اس سے گزرتی۔
سنئیر سے لے کر جونئیر تک ۔ سٹوڈنٹ تک ایسے کرتے۔
مجھے ڈاکٹر آئینہ سے ہمدردی ہے
اگر جتھا کرنل صاحب کی بیوی کو نقصان پہنچا دیتا پھر یہی لوگ کہتے کہ کیسا فوجی تھا اپنی بیوی کو نہیں بچا سکا ۔ ۔۔۔ اس معاملے میں کرنل سے زیادہ وہ جتھا قصوروار ہے ۔ عجیب غنڈے پل رہے ہیں تعلیمی اداروں میں ۔۔ نا تمیز نا تہذیب نا کسی کی عزت کا خیال ۔۔۔
ریاست نے اپنے ریاستی اہلکار کو کٹہرے میں کھڑا کر لیا
لیکن جن کی شکلیں یوتھیوں نے غائب کر دی وہ اس سلوموشن ویڈیو میں کلئیر ہیں
ریاستی اہلکار کا گریبان پھاڑنے پر وردی کی تضحیک کرنے پر ایک ایک جنگلی کی زندگی عذاب بن جانی چائیے بخشش کسی کی نہیں ہونی چائیے @OfficialDGISPR
یہ اینگل بھی بہت اہم ہے جولائی 2026 میں اسلام آباد کے شاہین چوک/نائنٹھ ایونیو کے قریب پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق ایک خاتون (نمرہ) کو زبردستی لے جانے یا ہراساں کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کو روکنے کی کوشش میں سعد عباسی کے ہاتھوں شہید ہو گیا تھا
پہلے یہ فیصلہ کر لو کہ آپ کو اعتراض کس بات پر ہے
-نوجوان لڑکوں میں گھری ہوئی ایک خاتون کی عزت بچانے پر -
اپنی بیوی کی عزت بچانے پر-
وردی پہن کر عزت بچانے پر
یا پھر ہوائی فائر کرنے پر
(رانا سہیلُ——اردو خبرنامہ کینیڈا)
اگر یہی حملہ یہی فائرنگ کوئئ صحافی کرتا تو سارے صحافی کوے کی طرح اس کی حمایت میں آ جاتے ایک یوتھیا صحافی ہے اس نے بیوی قتل کر دی یہ سب اس کی حمایت میں جت گے ایک صحافی کی بیوی نے موٹر وے اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی یہ حمایت میں جت گے تاولیں دینے لگ گے جاوید چوہدری اور خانزادہ کی لڑائی ہوئی اس نے بھائی بلوا کر اسے پٹوایا تھا ایسے بے شمار واقعات مگر آج ان کو بھی اعلی اخلاقیات کی الٹیاں ہو رہی ہیں
عسکری حکام کا سرحد یونیورسٹی روات کیمپس واقعے کا فوری نوٹس لے کر انکوائری شروع کرنا قابلِ تحسین ہے۔ مگر ویڈیو میں خاتون کو مشتعل ڈنڈا بردار ہجوم کے گھیرے اور دھکوں سے دوچار دیکھ کر بھی خاموش رہنا ناقابلِ فہم ہے۔ قانون اگر ایک افسر کے خلاف حرکت میں آ سکتا ہے تو اس مشتعل جتھے سے بھی قانون کے مطابق نمٹا جانا چاہیے۔ انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
ایک لفنگا کرنل کے سر پر راڈ برسا رہا ہے۔ اصولا کرنل صاحب اس کے بھیجے میں بھی گولی اتار دیتے تو یہ جرم نہیں سیلف ڈیفنس تھا۔
سائیڈ ارم ہر آفیسر کو حفاظت کے لیے دیا جاتا ہے ڈیکوریشن کے لیے نہیں
یہ سوال بار بار اٹھا چکے ریاست کے بڑے سوچیں کہ جو نفرت آج بھی دیکھائی گئی جسے سوشل میڈیا پر پاکستان میں موجود مخصوص جماعت کے صحافی اور دیگر ایکو سسٹم سے وابسطہ لوگ amplify کرتے ہیں اربوں روپے میڈیا ڈیجیٹل میڈیا پر لگانے کے باوجود وہ بڑھتی کیوں جا رہی ہے ؟
فوج سے وردی سے نفرت کو کس نے آبیاری دی اور کون جو اس نیکسس کو کون نہی توڑ سکا ؟
کون اپنے کام میں مکمل ناکام ہوا ہے ؟
فوجی نے وردی اور گن کا ناجائز استعمال کیا تو وہ لائن حاضر ہوگیا مطلب ادارے نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ذمے داری کا ثبوت دیا۔
جنہوں نے فوجی کی بیوی کو حراساں کیا پکڑ لئے۔؟ جنہوں نے فوجی کو مارا وہ پکڑے گئے۔؟ نہیں پکڑے نا۔؟
کیونکہ حکومت بزدل بے شرم اور بے غیرت ثابت ہوئی ہے
ایک پروفیسر خواتین کو ہراساں کر رہا پھر اس نے سٹوڈنٹ کو استعمال کیا ایک خاتون ملازم کو یرغمال بنایا اس سب کے دوران یہ سرحد یونیورسٹی انتظامیہ کہیں نظر نہی آئی اس یونیورسٹی کو بھی بند ہونا چاہیے یہ بچوں کو کیا سیکھا رہے ہوں گے ؟