چکوال فائرنگ واقعہ
پولیس قبر پھول ڈال رہی ھے اور سربراہ تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔
اگر بچی اور اسکے والدین کی آسٹریلیا کی شہریت نہ ھوتی اور آسٹریلین میڈیا اور حکومت نے اس قتل کو نہ اٹھایا ھوتا تو ایک بچی چھوڑ کر سارا خاندان بھی قتل ھو جاتا تو کسی کو کوئی فرق نہ پڑتا۔ بس یہی ہمارا سسٹم ھے
🚨🇬🇧 UK Impressed by Pakistan's Role in Ending US-Iran War
"What's fascinating is Pakistan's PM Shehbaz Sharif stepped in to help resolve the war, putting Pakistan at the center of global diplomacy — a role Britain once played, and now Pakistan is leading."
GO, PAKISTAN! 🇵🇰
خاں صاحب کے دور میں ساہیوال کا وقوعہ ہوا تھا یوتھیوں نے جی بھر کے دفاع کیا۔
موجودہ دور میں چکوال کا واقعہ ہوگیا ہے اور سی سی ڈی پر اندھ بھگت اور کدّو مرشد مل کر با جماعت بھنگڑے ڈالتے رہے ہیں۔
کہہ دو کہ ایک ہی مال ہے تو کہتے ہیں نہیں ہم تو اصلی و خالص شعور کے مالک ہیں۔
The child’s Australian citizenship forced the authorities to issue potentially incriminating statements & adhere to due process. Had the child been Pakistani, the family would likely have already been silenced, as seen in many other cases.
بجٹ کی بہترین تجویز؛ خواتین کے سینٹری پیڈز پر ٹیکس ختم۔۔۔ ویل ڈن!
امید ہے ملک میں ایک بجٹ ایسا بھی آئے جس میں خواتین کے سینٹری پیڈز مفت قرار دیے جائیں۔
I have seen abuse of harrasment laws by female professionals.
Most recently, a female colleague invoked the harrassment law after because the night duty medical officer parked his car in the space she uses in morning duty.
With this suggestion, men would opt for blindness.
اگر میں وزیراعظم ہوتی تو میں نے لڑکیوں کو صرف تاڑنے پر ہی آنکھیں نکالنے کی سزا دے دینی تھی وہ بھی بیچ چوراہے سبکے سامنے ۔ ہاتھ لگاو گے تو ہاتھ توڑ دیں گے۔ قدم بڑھاو گے کسی عورت کی طرف تو ٹانگیں توڑ دیں گے ۔
کیا آپ ایسا کر سکتی ہین ؟
ہمت ہے ؟
@MaryamNSharif
That argument of phones not being a luxury item is made redundant when you notice electiricty, gas and fuel being heavily taxed, despite these not being luxury items.
What does mr. Gillani even smoke ?
موبائل فون ٹیکس۔۔
قومی اسمبلی میں موبائل فونز پر عائد بھاری PTA اور دیگر ٹیکسز کے معاملے پر رکنِ قومی اسمبلی سید قاسم علی گیلانی نے ایک بار پھر توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسمارٹ فونز پر موجودہ ٹیکسز غیر معمولی حد تک زیادہ ہیں، جس کے باعث عام صارفین، اوورسیز پاکستانیوں اور ڈیجیٹل معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں موبائل فون کوئی لگژری آئٹم نہیں بلکہ تعلیم، کاروبار، آن لائن بینکنگ، روزگار اور ڈیجیٹل رابطوں کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز پر نظرِثانی کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور ڈیجیٹل ترقی کے عمل کو مزید فروغ دیا جا سکے۔۔
جھنگ کی ایشال فاطمہ پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد نہ ثابت ہونے کیس نے نیا رخ لے لیا ۔۔ اسپائر کالج جھنگ سے اسلام آباد اور خلیل کے ساتھ لاہور سے واپس جھنگ ایشال فاطمہ کو استعمال کرنے والوں نے اب اصل کہانی سنانا شروع کر دی ہے۔
ایشال فاطمہ کیس میں نیا انکشاف سامنے آیا ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا انکشاف آ رہا ہے اور والدین کے کردار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اب جو انکشافات سامنے آ رہے ہیں کیا ساری کہانی نشے کی تھی یا اس کے پیچھے ایک مضبوط مافیا بھی موجود ہے ۔
خلیل حسن جوگی سب کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے کوئی جنسی زیادتی نہیں کی جو کچھ ہوا وہ مکمل طور پر رضامندی سے ہوا اور پہلی بار نہیں ہوا یہ تینوں درندوں نے پولیس کے سامنے اپنا بیان دیا ہے بڑا مضبوط مافیا لگتا ہے ان کے پیچھے شاید بہت طاقتور لوگ ہیں ۔
ایشال فاطمہ چلی گئی مگر بڑے سوالات چھوڑ گئی وہ اسلام آباد میں زیر تعلیم رہی پھر جھنگ کے اچھے کالجوں میں زیر تعلیم رہی ایک اچھے بڑے خاندان سے اس کا تعلق تھا دولت کی کوئی کمی نہیں تھی سب کچھ تھا پر ایک معصوم بچی کیسے ان کے ہاتھ میں آئی کس طرح ان عادی نشئیوں نے اسے بہلایا پھسلایا۔ اور یہ ظلم کس طرح ہوا ۔
اس لڑکی کو نہ پیسوں کا مسئلہ تھا نہ گھر چلانے کی ذمہ داری تھی دو ہفتے پہلے بھی لڑکی گھر سے غائب ہو گئی تھی اس کی والدہ نے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں درخواست دی تھی لیکن ایشال فاطمہ نے خود واپس آ کر بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے لاہور گئی تھی اور آج واپس آئی ہے ۔
یعنی یہ پہلا معاملہ نہیں تھا دو ہفتے پہلے بھی یہ معاملات ہو چکے تھے سوال یہ ہے کہ بچی نابالغ تھی تو والدین کی کیا کوئی ذمہ داری نہیں ہے کیا پاکستان میں بچے اس طرح آزاد ہو چکے ہیں یا والدین نے انہیں اتنی آزادی دے دی ہے کہ ماں باپ پولیس اسٹیشن میں شکایتیں کروا رہے ہیں ایف آئی آر درج کروا رہے ہیں ۔
اور بچی خود اپنی مرضی سے جا رہی ہے یہاں پر ذمہ داری کس کی آتی ہے والدین پر آتی ہے یا بچوں پر جنہیں ہم نابالغ سمجھتے ہیں خلیل الرحمن نامی لڑکے کا گھر میں آنا جانا تھا خلیل لڑکی کو لے گیا بچی کیونکہ صرف سترہ اٹھارہ سال کی تھی فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی خلیل حسیب نامی کی قریبی عزیزہ کے گھر لے گیا جہاں امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ کو بھی بلا لیا گیا سب نے مل کر خود بھی اور لڑکی کو بھی نشہ آور گولیاں اور طاقتور ادویات دیتے رہے جس پر اس لڑکی کی حالت غیر ہو گئی۔
یہاں یہ بھی ایک سوال اٹھتا ہے کہ والدین نے پولیس کو کب اطلاع دی جب دو ہفتے پہلے والدین نے بچی کی گمشدگی کی اطلاع پر ایف آئی آر درج کروائی تھی اور بچی خود آ گئی تھی تو اس کے بعد اس بار والدین نے انتظار کیا یا جب بچی تین چار دن تک نہیں آئی تو ایف آئی آر درج کروائی ۔
فرسٹ ایئر کی طالبہ ایشال فاطمہ کے گھر خلیل الرحمن نامی لڑکے کا بہت زیادہ آنا جانا تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اس معصوم بچی کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا یہاں پر کس کی ذمہ داری ہے کیا والدین سو رہے تھے ؟
کیا والدین کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کیا گھر میں پیسوں کی ریل پیل ہو تو والدین کی آنکھیں بند ہو جانی چاہئیں خلیل اس کم عمر بچی کو سیدھا حسیب خان نامی شخص کی قریبی عزیزہ کے گھر لے گیا جو اس پورے گھناؤنے کھیل کا پہلا اڈہ تھا وہاں خلیل نے اکیلے یہ کام نہیں کیا بلکہ اپنے مزید دو ساتھی یعنی امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ کو بھی اس لوکیشن پر بلا لیا ۔
اس گھر کے اندر تمام ملزمان خود بھی اور اس معصوم بچی ایشال فاطمہ کو بھی زبردستی ہائی ڈوز اور خطرناک ادویات دیتے رہے ان خطرناک ادویات کی وجہ سے لڑکی کی حالت خراب ہوتی گی ۔
لڑکے پکڑے جا چکے ہیں اب دیکھتے ہیں انصاف ہوتا ہے یا نہیں میری تو سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کیا معاملات ہیں یہ کیا چیزیں ہیں ہمارے بچے کس سمت جا رہے ہیں اور بچے اس طرف خود بخود تو نہیں چلے جاتے نہ بات یہ ہے کہ کیا والدین کا سارا کردار بچوں کی زندگی میں ختم ہو چکا نابالغ بچی اتنے دن گھر سے غائب رہ رہی ہے ادھر پڑھنے جا رہی ہے ادھر پڑھنے جا رہی ہے ۔
آج کل کا دور اتنا خراب ہے کہ لڑکے کن کے ساتھ دوستی کر رہے ہیں ان پر نظر رکھنی چاہیے کون آ رہا ہے کون جا رہا ہے آپ خواب و خرگوش کے مزے لے رہے ہیں میں الزام نہیں لگا رہا لیکن حقیقت یقین کریں خدا کی قسم بہت کڑوی ہوتی ہے جسے ہم قبول نہیں کرتے ۔
آج کل لڑکوں کی دوستیوں پر اتنی نظر رکھنی ہے تو آپ کی بیٹی کوئی بھی کسی کی بھی بیٹی اگر وہ غائب ہو رہی ہے اپنی مرضی سے آ رہی ہے جا رہی ہے کس کے ساتھ دوستی ہے کچھ بھی پتہ نہیں لگانا کیا ہم اتنے غافل ہو چکے ہیں اپنے بچوں سے والدین کا کیا کوئی کردار نہیں رہا ۔
حکومت اس کیس کے ہر پہلو پر تفشیش کرے سب سے اہم بات بقول بی بی سی کے ورثان نے اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا ۔
A woman allegedly attacked her husband with acid when he arrived at a Union Council office in Gujar Khan to finalize their divorce. The victim, identified as Kamran Hussain, suffered serious injuries and was taken to a local hospital for treatment.
According to police, the woman threw acid on him as he exited the office. She was arrested at the scene. Initial investigations suggest that the attack was motivated by ongoing domestic disputes between the couple.
Police stated that Kamran Hussain is now out of danger, and a case has been registered against the woman. The investigation is ongoing.
Woke up to my phone being blocked by PTA because my 3 month tax-free period expired. Now tell me, how exactly am I supposed to order Foodpanda? I don’t keep cash, can’t pay online because bank verification texts won’t come through. Kya chawal mulk hai bhae
AI subscriptions are dead
Claude Fable 5 will only be on the Anthropic subscription until June 22nd. After that, you will need to pay for usage per token
This will be the start of a much larger trend
Frontier models will no longer be included in subs
You’ll pay a fee and it will only get you access to older, much cheaper models
If you want access to that dank AI sour diesel, you’re going to need to pay for every token you use. No more subsidies
And it make sense. The subsidies were just a Ponzi scheme
For those that don’t know, when you pay $200 a month for an AI sub, you get thousands of dollars of tokens
These AI companies actively lose tremendous amounts of money because of these subscriptions. GDPs of most countries every year are lost on your $200 Claude Max sub
The investor money is running dry. IPOs are coming because of this. And with IPOs need to come profitability
The golden age of paying $200 a month and being able to code on 40 Claude Code instances and getting a usage reset every 5 minutes are about to die
The party couldn’t continue ever. You can’t just leverage the entire global economy for years and expect nothing to break. Now it’s time to pay up
Means a few things:
1. Time to be responsible when it comes to which models you use. You don’t need Fable 5 for GPT 5.5 Xhigh for everything. Build the skill of knowing when to use cheap models
2. Local LLMS/hardware will come even more in demand. I’m currently running GLM on my Mac Studio. It’s great. Is it Fable? No. But it gets the job done for free on simple tasks. Learn about local LLMs
3. This is the beginning of the wealth gap expansion. Those that can afford to spend $10,000 a month on Fable 5 will build incredible products that eat up more and more of the economy. Those that can’t afford Fable 5 will have an insane disadvantage
4. The government will need to step in eventually. There will be too much civil unrest. I hope the answer isn’t free money. That won’t do anything. I hope the answer is education/access to AI resources for ALL. Universal Basic Opportunity
5. You need to seriously reconsider where your money goes every month. If you are complaining about AI prices and in the back of your mind you know your skill set is becoming quickly irrelevant, all while spending money every month on Netflix, Xbox Live, Paramount +, drugs, DoorDash, Uber, and other things that bring nothing positive to your life, you are simply doing it wrong. AI is an investment in yourself. It’s an investment in your relevance to the global economy. You need to make sure you make that investment
The pieces on the board are quickly moving around. The rules are changing. The battlefield is shifting. If you’re not strategizing accordingly, you’re cooked.
Woman threw acid on her husband Kamran Hussain outside UC office in Gujar Khan when he came to file for divorce. Victim suffered severe burns, shifted to THQ Hospital Gujar Khan.
Everyone in Pakistan, except Central/Northern Punjab and Karachi, is convinced there's a gazillion dollars' worth of minerals buried under their feet. Meanwhile, the places with no such grand delusions actually get things done and keep the whole country afloat.
There's something dark and funny about it. The poorer a region gets, the more elaborate the fantasies become. You watch people in these areas weave grand stories about hidden wealth, resources that'll save them someday, Turn them into something akin to Gulf Kafeels, who'll spend evenings chilling and reading their 8000-year histories.
Someone should study this properly that how desperation and delusion feed each other.
آج ایک پنجاب کے ریڑھی بان سے بات ہوئی حکومت مخالف بات کر رہا تھا میں سمجھا یوتھیا ہو گا لیکن ذرا کریدا تو بظاہر انپڑھ نظر آنے والے نے کمال دانائی کا جملہ بولا جو اسی کی زبان میں پیش ہے۔
"ایک مہنگائی نے لمب لاہ دی ہے اپر اس حکومت دا جھوٹ دی فیکٹریاں یوٹیوب آلیاں تے کوئی کنٹرول نہیں کجھ چنگا ہوے تے اس دی وی جئی گئی کر دیندے نے"
میں حیران ہوں جو بات ایک ان پڑھ ریڑھی بان کو سمجھ آ گئی ریاست کو کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔