On my appeal to raise funds for the families of the 25 shaheed who were shot while doing peaceful protests, the Pak American community has raised $534,000 in just over 24 hours .
I want to thank the Pak American Community and special thanks to Dr Nasrullah and Asad Faizi for setting up the fund.
https://t.co/tNHDXt1y9H
My full speech earlier today.
PTI has always been a peaceful & democratic Party. Numerous examples I shared where we showed restraint and chose a peaceful solution to avoid confrontation even if it meant a set back for me or the party.
I ask the authorities to conduct a transparent investigation of any attack that happened on govt buildings; it is my belief that this is all scripted to frame PTI.
Also, I urge the police, instead of barging in and creating chaos, come into my house with a proper search warrant and arrest the alleged terrorists if they are hiding inside.
The mindset behind this unprecedented crackdown and current reign of terror that PTI and its supporters are being subjected to (that was not even witnessed during Zia and Musharraf martial laws) is that we Pakistanis are like a herd of sheep who can be terrorised enough to meekly bow down to this naked show of power. Well we won’t because we are humans and ummat of the greatest leader of all times who made us pledge to Allah that we will bow to no one except Him(Almighty).
امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق اور ان کے قافلے پر خود کش حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میری دعائیں حملے میں زخمی ہونے والے جماعتِ اسلامی کے کارکنان کے ساتھ ہیں۔
The way Pakistani women stood up for Haqeeqi Azadi, they will be remembered and become part of our democratic history.
Also what will never be forgotten is the brutality of our security forces and the shameless way they went out of their way to abuse, hurt and humiliate our women.
Hundreds are languishing in jail in terrible conditions. This too won’t be forgotten.
حقیقی آزادی کیلئے جس انداز میں پاکستانی خواتین کھڑی ہوئی ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور (انکی یہ ثابت قدمی) ہماری جمہوری تاریخ کا حصہ بنے گی۔
اس کے ساتھ ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کی بربریت اور ہماری خواتین کو تکلیف پہنچانے، انہیں اذیت دینے اور ان کی تذلیل کرنے کیلئے جس بے شرمی سے انہوں نے (قانون و اخلاق کی) تمام حدود پامال کیں، اسے کبھی فراموش نہ کیا جائے گا۔
سینکڑوں نہایت ابتر حالات میں جیلوں میں بند ہیں۔ یہ (وحشت بھی) کبھی نہ بھُلائی جائے گی۔
حقیقی آزادی کیلئے جس انداز میں پاکستانی خواتین کھڑی ہوئی ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور (انکی یہ ثابت قدمی) ہماری جمہوری تاریخ کا حصہ بنے گی۔
اس کے ساتھ ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کی بربریت اور ہماری خواتین کو تکلیف پہنچانے، انہیں اذیت دینے اور ان کی تذلیل کرنے کیلئے جس بے شرمی سے انہوں نے (قانون و اخلاق کی) تمام حدود پامال کیں، اسے کبھی فراموش نہ کیا جائے گا۔
سینکڑوں نہایت ابتر حالات میں جیلوں میں بند ہیں۔ یہ (وحشت بھی) کبھی نہ بھُلائی جائے گی۔
وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کے معاملے پر 2017 کے کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے ترتیب دیے گئے ٹرمز آف ریفرنس میں ایک سوچا سمجھا نقص/خلاء موجود ہے یا جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہے۔ یہ (ٹی او آرز) اس پہلو کا ہرگز احاطہ نہیں کرتے کہ وزیراعظم کے دفتر اور سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کی غیرقانونی و غیرآئینی نگرانی کے پیچھے کون ہے؟
کمیشن کو اس تحقیق کا اختیار دیا جائے کہ عوام اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی ٹیلی فون پر کی جانے والی گفتگو کی ٹیپنگ اور ریکارڈنگ میں کون سے طاقتور اور نامعلوم عناصر ملوث ہیں۔ یہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت پرائیویسی کے حق کی سنگین خلاف ورزی کے۔
فون ٹیپنگ کے ذریعے (عوام اور اعلیٰ شخصیات کی) نگرانی اور ان کے مابین کی جانے والی بات چیت تک غیرقانونی رسائی حاصل کرنے والوں کا ہی محاسبہ نہ کیا جائے بلکہ اس ڈیٹا کو کانٹ چھانٹ کر اور اس کے مختلف حصوں کو توڑ مروڑ کر سوشل میڈیا کو جاری کرنے والوں سے بھی باز پرُس کی جائے۔
قانون کی حکمرانی کے سائے میں پنپنے والی جمہوریتوں میں ریاست کی جانب سے (شہریوں کی) زندگی کے بعض پہلوؤں میں اپنی مرضی سے مداخلت کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جب بھی ریاست یوں غیرقانونی طور پر فرد پر پہرے بٹھاتی/اس کی نگرانی کرتی ہے تو آرٹیکل 14 کے تحت اسے میسّر پرائیویسی اور شخصی وقار کے حق پر زد پڑتی ہے۔ حال ہی میں خفیہ طور پر جاری (Leak) کی جانے والی بعض کالز ایسی تھیں جو اصولاً وزیراعظم کے دفتر کی محفوظ ٹیلی فون لائن پر کی جانے والی گفتگو کے زمرے میں آتی تھی۔
اس کے باوجود انہیں غیرقانونی پر ٹیپ اور کانٹ چھانٹ/رد و بدل کرکے جاری کیا گیا۔ اس ٹیپنگ میں کارفرما یہ دیدہ دلیر عناصر بظاہر وزیراعظم کی دسترس سے باہر دکھائی دیتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ان کا علم تک نہیں۔
یہ کردار ہیں کون جو قانون سے بالاتر ہیں، ملک کے وزیراعظم کے بھی ماتحت نہیں اور پوری ڈھٹائی سے (شہریوں، اعلیٰ شخصیات کی) خلافِ قانون نگرانی کرتے ہیں۔ کمیشن کی جانب سے ان عناصر کی نشاندہی ناگزیر ہے۔