آج صغیر بلوچ اور اکرار بلوچ کو 12 دن مکمل ہوچکے ہیں جو زندانوں کی تاریکی میں بنا کسی جرم کے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اکرار بلوچ گردے کے مریض ہیں، جن کا ایک گردہ گزشتہ سال نکالا گیا تھا، جبکہ دوسرا گردہ بھی انتہائی متاثر ہے۔
#ReleaseSagheerandIkrarBaloch
بالاچ بلوچ ایک پرامن شہری تھے، جہنوں نے اپنے لوگوں کی درد اور تکلیف کو سمجھ کر ہر پکار پر لبیک کہا، اب بالاچ بھی اندھیری زندان میں اذیتں سہ رہا ہے۔ بالاچ کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنے لوگوں کیلئے اُٹھاتے تھے۔ بالاچ کو رہا کیا جائے۔
#ReleaseBalachBaloch@mmatalpur@Alijanmaqsood12
طالبعلم بالاچ بلوچ کو لاپتہ افراد، انسانی کی خلاف ورزی اور بلوچ نسلی کشی کی خلاف آواز بلند کرنے کے پاداش ایک ماہ پہلے لاپتہ کردیا گیا ہے جو تاحال لاپتہ ہے۔ بالاچ ایک پرامن شہری کے طور پر پُرامن آواز انداز میں آواز بلند کرتے تھے۔
@AlifyaSohail@mmatalpur#ReleaseBalachBaloch
Another formerly disappeared-then-released Baloch, Adeel Iqbal, S/O Master (teacher) Iqbal faced extrajudicial murder. This marks 26th unconditional murder in the month of June across Balochistan. These murders have raised a new mode of Baloch suppression.
#StopBalochGenocide
Mahrang Baloch and other Baloch Yakjehti Committee organizers are being punished for speaking truth to power.
Their only crime is demanding dignity and justice.
#ReleaseBYCLeaders#FreeMahrangBaloch
کوئٹہ کی سڑکیں نہتّے مظاہرین کے خون سے لال ہوئے۔ گولیوں کی گونج، آہوں کی بازگشت، اور جبر کی سفاکی ہمارے دلوں پر نقوش چھوڑ چکی ہے، مگر یہ نقوش مایوسی کے نہیں، بیداری اور بغاوت کے ہیں۔ ماہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبرگ بلوچ، گلزادی بلوچ، اور بیبو بلوچ جیسے سرفروشوں کی جبری قید، اور ہمارے پیاروں کی گمشدگیاں ریاست کے وہ کالے دھبے ہیں جو نہ چھپ سکتے ہیں، نہ مٹ سکتے ہیں۔
عدالتیں خاموش ہیں، انصاف مفلوج ہے، اور جھوٹ کا پردہ اتنا کمزور ہے کہ سچ کی ایک چنگاری اسے راکھ بنا سکتی ہے۔ بیبو بلوچ کے والد کی بےگناہ گرفتاری، اور ہزاروں مکارانہ کوششیں اس ظلم کی اصل تصویر ہیں، مگر ہم نے ان تین مہینوں میں صرف زخم نہیں سہے، ہم نے حوصلہ، ہمت اور یقین کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
آج ریاست کے پاس اپنی سفاکی کا کوئی جواز نہیں، کوئی ثبوت نہیں، اور سب سے بڑھ کر کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ وہ صرف طاقت کے نشے اور جھوٹ کی لاٹھی سے قائم ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی ریاستیں دیرپا نہیں ہو��یں۔
ہم کمزور نہیں ہوئے، ہم مضبوط ہوئے ہیں۔ ہمارے دلوں میں خوف نہیں، صرف امید ہے۔ عوام بیدار ہو رہی ہے، شعور ابھرتا جا رہا ہے، اور ظالم کے خلاف جدوجہد اب ایک فریضہ بن چکی ہے۔ یہ جبر ہمیں توڑنے نہیں آیا، یہ ہمیں جوڑنے، جگانے اور پختہ کرنے آیا ہے۔
ظلم کے دن گنے جا چکے ہیں۔
ہم نہ رکیں گے، نہ جھکیں گے۔
فتح ہمیشہ اُن کا مقدر بنتی ہے جو سچ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
ہم زندہ ہیں، اور جب تک سچ باقی ہے، ہم لڑیں گے۔
#ReleaseBYCLeaders
"She Was Our Voice. Now They’ve Taken Her Too": Detention of Baloch Activist Sparks Outcry
Quetta, “I don’t know how to give a speech. Dr. Mahrang has been my voice. She is our Màth our mother. Now they have detained her too.”
Baloch Student Shayan Missing After Alleged Detention
Shayan a medical student at Federal Medical College Islamabad, has reportedly gone missing following his alleged detention by state officials at the Islamabad Toll Plaza. His family, says he has not been heard from since
Shahzaib was not released from custody, he was returned when death was already near. His body was burnt, bones broken, nails ripped out, boiling water poured down his throat.
This wasn’t justice. It was calculated torture.
Before dying, he said:
“Even infidels wouldn’t do this in war.”
This is the reality Baloch youth face, cruelty beyond comprehension, buried in silence.
#StopBalochGenocide
معروف بلوچ انسانی حقوق کی کارکن و بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے پاکستانی فوج کے شع��ہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔
کولواہ: پاکستانی فورسز کی تحویل میں نوجوان تشدد سے جانبحق
بلوچستان کے علاقے کولواہ، رودکان میں گذشتہ دنوں پاکستانی فورسز نے متعدد علاقائی افراد کو حراست میں لیکر اپنے جرک کیمپ منتقل کردیا۔
جہاں دیگر افراد کو بعدازاں رہا کردیا گیا تاہم نواب ولد نوربخش سکنہ رودکان، رود کو تحویل میں رکھا گیا۔ بعدازاں زیرحراست نواب کی لاش برآمد ہوئی ہے جس پر کرنٹ دینے و دیگر تشدد کے نشانات پائے گئے۔
On the fourth day of Eid, while returning home from a picnic with three friends, Shahzaib Baloch was abducted by Pakistani forces. After enduring brutal torture, he was released yesterday in a critical condition and he succumbed to his injuries in the hospital.
اس وقت میں اورمیری بہن ہدہ جیل میں بیٹھے احتجاج پر بیٹھے ہیں جہاں سپریڈنٹ ہم سے بے عزتی کرتے ہوئے ہمیں دھمکا رہی ہے اور وکالت نامہ پر دستخط نہیں کر رہی ہے۔ کل یہ وکالت نامے ہم نے جمع کیے تھے لیکن سپریڈنٹ اب تک انہیں دستخط کرنے پر راضی نہیں اور یہ تمام کارروئیاں آئی جی کے کہنے پر کی جا رہی ہیں جو انہیں ان غیر قانونی سرگرمیوں کیلئے کہہ رہا ہے۔ ہمارے قانونی حق کو ٹھکرا کر ہمیں دھمکایا جا رہا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو میں ان دستخط نہیں کرونگا جو قانون اور آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
ہم صبح 10 بجے سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور اب تک یہیں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس غیر قانونی اقدام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، ہم جب تک یہاں سے نہیں اٹھیں گے جب تک سپریڈنٹ ان وکالت ناموں پر دستخط نہیں کرتا جو انہیں قانون کرنے کو کہتا ہے۔
پولیس ہمیں مسلسل ہراساں کر رہی ہے اور ہمارے اوپر پولیس کی نفری بیٹھا دی گئی ہے۔ ہم سے موبائل چھینے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔
بلوچ طلباء کہاں ہیں؟
کتابوں والے ہاتھ زنجیروں میں کیوں ہیں؟
صغیر، عزیر، ماہ جبین، زکریا... یہ صرف نام نہیں، بغاوت کی چنگاریاں ہیں!
وہ نسل جوسچ بولتی ہے،جھکتی نہیں آج لاپتہ ہے!
ہر گمشدہ طالبعلم ایک سوال ہے،جواقتدارکے ایوانوں پر تازیانہ ہے
#SaveBalochStudents#StopBalochGenocide
A Letter to My Father — On Father’s Day
Baba,
They didn’t take you for something you did.
They took you for who I chose to become.
On this Father’s Day, I don’t have your voice, your presence, or your prayers. I have only your absence and the cruel truth that you’re being punished for my refusal to be silent.
They came to Hub and took you.
They say you’ll be released if I surrender,
If I stop organizing.
If I silence myself.
If I betray everything that led me to this path.
But how could I, Baba?
I did not grow up with politics.
I grew up with grief
with photographs of the disappeared,
with wailing mothers,
with blood on our soil and fear in our homes.
The pain of our people shaped me.
The silence surrounding their suffering turned me into a voice.
And now, they want to crush that voice by taking you.
They’ve done it before when they took Elum (brother), when they took my cousin, held them for months. Now it’s you. They think if they target the people I love, they can break my will.
But I carry the strength of the Baloch nation in my bones.
Not inherited, but earned through tears, through resistance, through every step I’ve taken on this wounded land.
You are not their criminal.
You are their hostage.
Because I refuse to kneel.
And Baba, if this is the cost of truth, I accept it.
I would rather live with the pain of your absence than with the guilt of betrayal.
I would rather fight with an aching heart than live with a silenced soul.
I promise you this: I will not stop. I will not be silent. I will not be bought.
Not because I am fearless,
But because I know,
“You would rather sit in their cell than see me bow.”
With love, and unbroken resolve,
Your daughter,
Sabiha