پنجاب میں اس وقت لوگوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے اور افسر شاہی نے مریم صاحبہ کی سیاسی تباہی کا مکمل بندوبست کر دیا ہے اس قدر مہنگائی اور بجلی کے بل گیس کے بل ہیں ایسے میں پیرا فورس جیسے بدمعاش غریب ��ر چھوڑ دیے ہیں
خدا کے لئے لوگوں کے کاروبار تباہ مت کرو
پنجاب برصغیر کا اناج گھر تھا سدا کا خوشحال ترین صوبہ تھا مگر اب اس پر اتنا بوجھ لاد دیا کہ پنجاب کا عام بندہ کنگال ہو رہا اس بندے کی گفتگو سنیں یہ کہہ رہا بچے سو جاتے تو گھر جاتے کہ کہیں دس بیس کی چیز نا مانگ لے
مریم صاحبہ پنجاب کی معاشی حالت کا سوچیں
جیو ٹی وی ہم ادھر ٹویٹر پہ لگائے ہیں ادھر بھی اس کی اتنی شریات ارہی ہوتی ہیں ادھر فیس بک پہ جائیں ادھر بھی چل رہا ہے بند کہاں ہوا ہے کیا ڈرامہ چل رہا ہے
جیو کے پروگرام میں نبی اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی جسمانی منظر کشی پر جیو کی نشریات پندہ دن کے لیے معطل. کیا صرف پندرہ دن چینل بند کرنے سے ازالہ ہو جائے گا؟ سب ٹھیک ہو جائے گا؟ کیا پیمرا کا ماننا ی�� ہے کہ بس پندرہ دن کی سزا کے عوض یہ سب ٹی وی پر دکھایا جا سکتا ہے؟ جیو پر مکمل پابندی لگائی جانی چاہیے.
عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتوں کے تناظر میں میاں شہباز شریف صاحب @CMShehbaz کو کوشش کرنی چاہئے کہ تیل کی قیمتیں واپس 250 یا 260 تک لائی جائیں۔
عوام کو مہنگائی کے اس طوفان میں کچھ ریلیف ملے گا۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کے سامنے یہ فارسی شعر پڑھا۔۔جس کا مفہوم یہ تھا کہ
"خوشی میں تو سب ہی آپ کے آس پاس آ جاتے ہیں
اصل دوست وہ ہے جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو"
ایرانی صدر نے مسکراتے
اثبات میں سر ہلایا
اگر ملک کسی معاشی یا سیاسی مشکل کا شکار ہو تو کیا ل سفارتی یا دوسرے معاملات روک دیئے جائیں؟
در اصل محمد حنیف اور وسعت اللہ خان کی تحریریں جذباتیت مایوسی اور دوسروں پر طنز کی "طاقت"ہی سے چلتی ہیں اور یہی ان کا "سرمایہ" ہیں
البتہ زمینی حقائق ایک الگ چیز ہے
شہباز شریف نے جے ڈی وینس کو اک سائیڈ طرف لے جا کر کہا ہے جلدی جلدی دستخط انگوٹھے لگا لیں ۔ محسن حجازی ابھی کہیں اور ماتھا مار رہا ہے اگر اس کی ادھر نظر پڑھ گئی تو اس نے یہاں بھی رولا ڈال دینا ہے
سندھ پیپلزپارٹی نے تباہ و برباد کردیا لیکن میڈیا پر کہیں آپ کو سندھ سے متعلق کوئی ٹاک شو ھوتا ھوا نظر نہیں آئے گا،پی ٹی آئی نے خیبرپختونخواہ تباہ کردیا ،کرپشن لی آماجگاہ بنادیا صوبے کو لیکن نام نہاد صحافیوں کا ٹولہ آپ کو خیبر پختونخواہ کے حالات الیکٹرانک میڈیا یا سوشل میڈیا پر نہیں دکھائے گا،آزاد کشمیر ،جی بی اور ��لوچستان کی تباھی میں بھی پیپلزپارٹی کی کرپشن اور نااھلی کا ھاتھ ھے ،رہ گیا پنجاب اور وفاق ،جہاں کام ھوتے ھوئے نظر آتے ھیں ،نئے منصوبے لگ رھے ھیں،ترقیاتی کام ھورھے ھیں ،نئے ھسپتال بن رھے ھیں،تعلیم پر ریکارڈ بجٹ لگایا جارھا ھے،سڑکوں کا جال،پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ،بازاروں کی ری ماڈلنگ سمیت بہت سے منصوبے پائپ لائن میں ھیں اور بہت سے تعمیر ھوکر عوام کے لئے آسانی پیدا کررھے ھیں لیکن میڈیا کے ٹاؤٹس سارے کیمرے یہاں رکھ کر بیٹھے ھیں اور رپورٹنگ ھورھی ھے کہ مریم نواز نے کتنے کے جوتے پہنے اور کتنے کے کپڑے۔کاش ھمارا میڈیا وہ حالات دکھاتا جو دو جماعتوں کی نالائقی سے پیدا ھو��ے ھیں۔
تیل کی قیمتوں میں کمی اچھا اقدام ہے لیکن ناکافی ہے !
اگر @PTIofficial حکومت میں @ImranKhanPTI
100 ڈالر پر بیرل کا خرید کر عوام کو 150 روپے لیٹر پہ بیچ رہے تھے تو @CMShehbaz کیسے عالمی مارکیٹ میں ہم سے کم 74 ڈالر پر بیرل کا خرید کر اب بھی 299 یعنی تقریباً 300 روپے لیٹر بیچنا چاہتے ہیں۔
عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں۔
اگر پیٹرول کی قیمت نواز شریف کی 2017 والی قیمت پہ نہیں لا سکتے جس کے دعوے اور وعدے کیئے جاتے تھے تو کم از کم عمران خان کے دور کی رجیم چینج کے وقت 2022 کی قیمت پہ ہی لا کر دکھاؤ۔
چلو ہمت کرو !
@pakistanipeeeps@ShabnamHusnain1 کسی نے بھی کوئی چیز سستی نہیں کرنی جس جس نے بھی مہنگائی کی تھی تو صرف پٹرول کا نام شو کر کے اب کوئی چیز سستی نہیں ہوگی جلدی
جس وقت شہباز شریف صاحب نے اقتدار سنبھالا اس وقت پیٹرول 160 روپے لیٹر اور عالمی منڈی میں ریٹ سو ڈالر سے اوپر تھا آج عالمی منڈی میں ریٹ 75 ڈالر بیرل اور پاکستان میں 300روپے لیٹر ہے
شہباز صاحب نے ڈیڑھ سو روپے لیٹر بڑھا دیا ہے جبکہ نواز شریف جب 2013 میں اقتدار میں آئے پیٹرول 100روپے لیٹر تھا تین سال بعد جب انکو نکالا پیٹرول اس دن 66روپے لیٹر تھا یہ کارکردگی تھی
جب 137 روپے پیٹرول بڑھا تو بہت شور ہوا اگلے دن 80 روپے کم کرنا پڑا تھا اس لیے خوب شور ڈالیں ہر جگہ لکھیں کسی راتب خور کی کسی خوشامدی پوسٹ کے چکر میں مت آئیں اس قدر اعتراض کریں کہ ان کو جان چھڑانی مشکل ہو اور یہ واپس پیٹرول اصل قیمت پر لائیں اس کے علاوہ کوئی حل نہی ہماری حکومت کے ساتھ اپوزیشن بھی نا اہل ترین ہے
ایران کی جنگ سے پہلے عالمی منڈی میں تیل 76 ڈالر پر تھا اور پاکستان میں اس کی قیمت 250 روپے اور ڈیزل کی قیمت 280 روپے تھی آج عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 73 ڈالر ہے اور پاکستان میں پٹرول کی قیمت قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے پرآجائےگی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے پر آ جائے گی۔ اس کا مطلب کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی کا ریلیف عوام کو منتقل نہی�� کیا جا رہا۔ اصولاْ تیل کی قیمت دو سو سے زیادہ اور ڈیزل کی قیمت دو سو دس سے زیادہ نہیں ہونی چاھئے تھی!