قسم سے گوہر صاحب نے رولا دیا ۔۔ یار بس کردیں آپ بلاوجہ سب کو غدار ڈکلئیر کرتے ہیں یہ سارے اپنے حساب سے لڑ رہے ہیں ۔۔
اُن اکاؤنٹس سے دور رہیں جو ہمارے ہیروز کو بدنام کر رہے ہیں ۔ 😭🔥
اب تک خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی/گورنر راج لگانے کی 3 وجوہات بتا دی :
نمبر 1: وفاقی وزیر قانون نے انٹرنیشنل میڈیا کو کہہ رہا تھا کہ KP حکومت " Child Marriage Act" کا قانون پاس نہیں کر رہی تھی ۔
نمبر 2 : محسن نقوی کہہ رہا تھا کہ دہشتگردی کو ختم کرنے میں خیبرپختونخوا حکومت تعاؤن نہیں کر رہی۔
نمبر 3 : اسحاق ڈار کہہ رہا ہے کہ تحریک انصاف اپنا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نہیں بدل رہا۔ یعنی کہ انکو مسئلہ سہیل آفریدی سے تھا۔
اگے دیکھتے ہیں اور کیا وجوہات تھی۔۔۔!
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
Aunty,
You're absolutely right about one thing: that the PTI has been in power for 13 years in KP. Besides that, here's a fact check with some context.
Structural gaps between Punjab and Khyber Pakhtunkhwa long predate PTI rule.
The 1981 census literacy stood at 16.7% in NWFP versus 27.4% in Punjab; by the 1998 census it was 37.3% versus 47.4%.
Punjab’s larger population, canal-irrigated agriculture from the colonial period, along with it's larger industrial base, have produced higher baseline development for not just decades, but more if you were to include the pre-Partition period -- as Gazetted in two centuries of colonial rule.
Moreover, under the 7th NFC Award (in force since 2010), the divisible pool is allocated primarily by population (82% weight), giving Punjab ~51.74% and KP ~14.62% plus a 1% war-on-terror top-up; absolute transfers therefore favor Punjab regardless of provincial performance.
But you seem to brush over the fact that while you were getting glow ups in London and Jeddah, KP absorbed the principal costs of the post-2001 insurgency and successive military operations. SATP data record 5,883 terrorism-related fatalities in the province in 2009 alone (when you were still raising those lovely children in Mayfair). 2014's Operation Zarb-e-Azb, launched in North Waziristan -- where your father never once went as PM to visit troops -- displaced approximately 930,000 people.
Considering you were probably concentrating on your studies at King Edwards during this period, maybe a reminder is in order. The "threat" that you don't feel from India, rather from KP, thanks to the TTP and its network, grew out of the 1980s Afghan mujahideen infrastructure that Pakistan Army's then Chief, Zia-ul-Haq -- your father's personal mentor and sponsor -- had supported.
As for your father's last dance, well, violence fell sharply after the 2014–2017 operations (to roughly 100–200 annual fatalities by 2017–2019). But Daddy had nothing to do with military planning or ops -- rather, your father was flying out emissaries to talk to the TTP (but in a helicopter, not a Gulfstream, just FYI). It was the Raheels and the Tariq Khans and the Amir Riazes and the Asim Bajwas -- a lot considerably more talented and tolerant than the current one, that was handling the fighting.
Yes, violence did rise again after 2021. But it was after the U.S. withdrawal from Afghanistan, compounded by your Daddy's handpicked Chief, Qamar Bajwa, resettling the Taliban back in KP.
As for your allegations about inks to terrorism, here's the best part: senior PTI leaders were repeatedly assassinated by TTP during the peak years.
Look up these names, Auntry:
Israrullah Khan Gandapur: Serving as the Khyber Pakhtunkhwa Provincial Law Minister for PTI, he was killed on October 16, 2013.
Sardar Ikramullah Khan Gandapur: Following his brother's assassination, Ikramullah won the vacated provincial assembly seat (PK-67) in a by-election and later served as the provincial Agriculture Minister. On July 22, 2018, just three days before the general elections, he was as targeted by a suicide bomber. By the way, this was the same election in which neither you nor Daddy could participate because both of you were convicted for hiding away billions in the Panama Papers case.
Want more? Look up these PTI leaders, Aunty:
Malik Tariq Awan, Peshawari PTI leader -- Killed in 2022 in Peshawar.
Atif Munsif Khan, Abbottabad Tehsil Mayor -- Killed in 2023 along with nine others in an ambush on his vehicle.
Rehan Zaib Khan, PTI Youth Leader -- Killed in broad daylight in 2024 while campaigning for NA-8 in Bajaur for the General Elections that you and Daddy and Chachoo stole.
Shah Khalid, Swabi PTI leader -- gunned down in Swabi just weeks before the stolen 2024 general elections.
Also in the lead up to those elections -- Malik Sameen Khan, North Waziristani PTI leader and elder, targeted and killed by unidentified gunmen in North Watziristan.
Look up these names. And think again about what you accuse the PTI of.
As for the “13 years of incompetence” framing, you omit federal responsibility for external and internal security, the costs of the 2018 FATA merger, and the fact that the steepest decline in KP violence coincided with early PTI provincial government plus large-scale military action.
Yes, Aunty: Terrorism actually dipped under Imran Khan's government. At least till your "Saada Chief" Bajwa didn't let the wolves back in post the US-pullout.
As for recent attack numbers that you love to cite, (PIPS: 111 in 2021 rising to 413 in 2025), remember that you track the post-2021 resurgence rather than a simple linear record of provincial governance.
If you've made it this far Aunty, here's the simplest part.
The KP's hard times didn't start under Imran.
But I can guarantee that they will not improve under you or your Daddy's illegal administration.
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
لانگ مارچ بھرپور طریقے سے اپنی منزل کی جانب رواں ہے۔ میں ایوب خان کے خلاف مارچ سے لے کر کئی مارچوں کا حصہ رہا ہوں۔ مگر حقیقتاً ان سب مارچوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرنیلی سپورٹ موجود ہوتی تھی۔
عمران خان کا مارچ پہلا اور حقیقی جمہوری مارچ ہے۔ یہ قوم کی آزادی کا مارچ ہے۔ یہ جہاد ہے! عوام نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔
میں جمہوریت کی پہلی صف کا سپاہی ہوں۔
جب نواز شریف بہانے بنا کر بھاگ جاتے تھے، میں اکیلا لڑا ہوں۔
آج عمران خان ڈٹ کر کھڑا ہے۔ کیسے اس کا ساتھ نہ دوں؟
عاصم منیر، تمہیں یا تو خود جانا پڑے گا یا اتار دیے جاؤ گے۔ جانا تو اٹل ہے۔
انشاءاللہ ملتان سے مارچ کا آغاز کروں گا۔
ان شاء اللہ 8 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ جو قیادت خان صاحب کے بیانیے کے ساتھ نہیں چل سکتی، وہ مہربانی کرکے ایک طرف ہو جائے اور دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔
پارٹی کے کارکنان ان تمام قیادت پر نظر رکھیں جو صرف خانہ پُری کر رہی ہے، ان کی نشاندہی کریں اور آئندہ کے لیے ان کے ٹکٹوں اور عہدوں کی مخالفت کریں۔
پارٹی میں مزید یہ نہیں چلے گا کہ کچھ لوگ جیلوں میں ہوں، کچھ ہر روز ایف آئی آرز اور نااہلیوں کا سامنا صرف خان صاحب سے وفاداری کی وجہ سے کر رہے ہوں، جبکہ کچھ لوگ نہ کارکنان کا بوجھ اٹھائیں اور نہ ہی خان صاحب کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔
سہیل آفریدی صاحب کی نااہلی کی واحد وجہ عمران خان صاحب سے وفاداری ہوگی۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ خان کے وفاداروں کے خلاف فیصلے آنے کے بعد سب کو اس سسٹم سے نکلنا ہوگا۔
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
On Sunday, criminals broke into a house in Peshawar, gang-raped two women and locked a man in a room. Police arrested four suspects and investigated the entire incident. Following forensic analysis, all four suspects have now been killed in a police encounter a few hours ago.
Sky News reports that a 28-year-old Palestinian woman, six months pregnant and suffering severe internal bleeding, was being transported from Qaryout in the occupied West Bank to Rafidia Surgical Hospital in Nablus when Israeli soldiers stopped her ambulance at the Awarta checkpoint.
Video shows Israeli forces detained the ambulance crew for more than 30 minutes, subjected the bleeding, critically ill woman to a physical search, and ordered the driver to turn off the engine, cutting power to the vehicle’s onboard medical equipment.
During the forced delay, a nurse was forced to deliver the fetus stillborn inside the stranded ambulance. The woman was eventually allowed to proceed to the hospital, where doctors performed emergency surgery and saved her life. The baby could not be saved.