راجہ صاحب قوم کسی بھی ایسے وزیراعلی یا پارٹی عہدے دار کو نہیں مانے گی جس کو عمران خان صاحب کی نامزدگی حاصل نہیں ہو گی۔ آپ ڈٹ جائیں۔ اور بھرپور طریقے سے ایسی کسی بھی سازش کا مقابلہ کریں۔ جب تک خان تبدیل نہ کرے وزیراعلی سہیل آفریدی ہی رہے گا اور جنید اکبر صدر۔ میرے بھی سوالات ہیں سہیل سے آپ سے جنید سے لانگ مارچ کو لے کر۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے خان کے نامزد کئے گئے عہدے داران کو خان کی مرضی کے بغیر ہٹایا جائے۔ یا سازش کی جائے۔ یا ایسی سازش کو سپورٹ کیا جائے-
میرا مشورہ ہے کہ فوری ایک کمیٹی بنائی جائے آپ اس کی صدارت کریں۔ جو بھی خان کے احکامات سے ہٹے اسے پارٹی سے فوری فارغ کریں۔ اس سے پہلے کہ وہ پارٹی کو نقصان پہنچائے۔
نوٹ: چند دن پہلے جب میں نے یہ خبر بریک کی تھے کچھ لوگ یہاں فرما رہے تھے ڈاکٹر گل اب نیا وزیراعلی ڈھونڈ رہے ہی۔ عقل کے اندھو۔ جذبات سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آؤ جو کچھ پچھلے تین مہینے میں ہوا وہ ایک ایک چیز اسی سب کا پیش خیمہ تھی۔ لیکن مصیبت ہے یہاں گروپ ہیں۔ جو مافیا بنے ہوئے ہیں۔ سوال اٹھاؤ انکی توہین ہو جاتی ہے۔
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
مگر یہاں کسے ہے پرواہ قومی رسوائی کی
ایک کم ظرف شخص نے لوٹ ہے مچائی ہوئی
درباریوں نے ہے گدھ کی خصلت اپنائی ہوئی
خلقت شہر کی زندگیاں ہیں بددعائ ہوئی
ایسے گھٹن و تعفن میں کیونکر کوئی شنوائ ہو
شاید اسی لئے اس لڑکی نے اپنی جان گنوائی ہو
تربت کے علاقے کلگ سہرانی میں گزشتہ رات پاکستانی فوج نے محمد کے گھر پر حملہ کیا۔ اس کی 30 سالہ بیوی (ماہ گل) کو زبردستی گھر سے اٹھایا گیا اور بعد میں اس کی لاش پھینک دی گئی۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق، اس کی آنکھیں بھی نکالی گئی تھیں۔ یہ اتنا بڑا ظلم ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ یہ انتہائی بزدلی کی علامت ہے۔
خیبر، تیراہ میدان کے علاقے بوٹان کلے میں بھی ایک عزت دار خاتون حاملہ تھی، یعنی اس کے پیٹ میں بچہ تھا۔ پنجابی فوجی رات کے وقت گھر میں داخل ہوئے اور اس معصوم، بے گناہ اور عزت دار خاتون کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی معاف نہیں کیا۔
اسی طرح تیراہ میدان کے علاقے اکاخیل میں ایک گھر پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں 22 افراد مارے گئے، جن میں بچے، خواتین اور مرد شامل تھے۔ پشتونوں کی نسل کشی جاری ہے!
لیکن ظالمو! یہ بات اچھی طرح سن لو کہ عورتوں پر ایسے مظالم ڈھا کر اور گھروں کی عزت پامال کرکے تم کبھی بھی مظلوم لوگوں کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتے۔
اس بے گناہ بلوچ پشتون بہن کے خون کا حساب ایک دن ظالموں سے ضرور لیا جائے گا۔
#StopStateTerrorism #StopPashtunsGenocide #وطن_فروش_چوکیدار #StopBalochGenocide #وسائل_چور_مافیا
اس شخص کو قانون کے زریعے نشان عبرت بنانا چاہیے تھا۔ جج آصف کا بیٹا، کراچی کی امیر زادی، یونیورسٹی میں بدمعاشی کرنیوالے کرنل، کانجو اور جتوئی جیسوں کو مقابلے میں کیوں نہیں مارا جاتا۔
ایکس پر رپلائیز بند ہیں۔ فیس بک پر پوسٹس بند ہیں۔ سیاست سے لاتعلقی کا جھوٹ بار بار بولنا پڑتا ہے۔ مرنے والے سپاہیوں کی خبر چھپانی پڑتی ہے۔ نا گھر میں عزت ہے نا باہر عزت ہے۔
بے غیرت جرنیلا !!!! یہ ہوتی ہے ریڈ لائن ، اسے کہتے ہیں ریڈ لائن۔
Raiding the home of Murad Saeed’s brother and evicting his elderly disabled mother is a new low for Asim Munir, the military establishment and especially the KP Police that is becoming a tool of fascism. Brave, patriotic young Pakistanis like @MuradSaeedPTI, who are deeply committed to Imran Khan’s vision and want to bring about change in our country, are exactly what this status quo fears.
#PakistanUnderFascism
اللہ کی فوج کا ایک اور عظیم کارنامہ، مراد سعید کے گھر کی چادر و چار دیواری پامال کر کے گھر کا تمام سامان باہر نکال کر پھینکا گیا اور گھر میں موجود مراد سعید کی معذور والدہ محترمہ و بھائی کے معصوم بچوں کو گھر سے نکال کر گھر چھوڑنے کا کہا گیا، مراد سعید کی بزرگ والدہ محترمہ گزشتہ 17 سال سے معذوری کی حالت میں گھر پر ہیں، مراد سعید کا بھائی گزشتہ تین سالوں سے کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور آج بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہے، مراد سعید خود پچھلے تین سالوں سے روپوشی کی بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہے کیونکہ فوج اس کی جان کی دشمن ہے، آج جو کچھ مراد سعید کی فیملی کے ساتھ کیا گیا وہ صرف اسرائیل معصوم و نہتے فلسطینیوں کے ساتھ کرتا ہے، نہ عاصم منیر اور اس کی فوج میں کوئی انسانیت باقی رہی ہے اور نہ ہی کوئی شرم و حیاء، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی ہی عوام پر ظلم کی تمام حدیں پار کر چکی ہے، ملک پر قبضہ، عوام کے مینڈیٹ پر قبضہ، عوام کے ووٹوں سے بنی واحد حکومت کے صوبے پر قبضہ اور اب مراد سعید کے گھر پر قبضہ، عاصم منیر اینڈ کمپنی تم اور کتنا گرو گے؟ کیا پاکستان اسرائیل کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے؟ کیا تمہارا کوئی دین، مذھب اور ایمان ہے؟
تحریکِ انصاف اور پاکستانی قوم گزشتہ چار سالوں سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے بدترین مظالم برداشت کر رہی ہے اور ہر روز ظلم و جبر کی ایک نئی داستان رقم ہوتی ہے، پچھلے چار سالوں میں چوک اور چوراہوں میں نہتے معصوم لوگوں کو فوج کے سنائپرز نے سروں اور سینوں میں گولیاں ماریں، لوگوں کے گھروں، دفتروں، فیکٹریوں کو بلڈوزر کیا گیا ان کے قیمتی اثاثوں کو توڑا گیا، نوکریوں سے نکالا گیا، جھوٹے مقدمات میں ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، غیر آئینی و غیر قانونی فوجی عدالتوں سے سزائیں دلوائی گئیں، عورتوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا گیا، جیلوں میں بیگناہ لوگوں پر اتنا ظلم کیا گیا کہ کئی جیلوں سے رہا ہو کر بیماری کی حالت میں شہید ہو گئے، معصوم لوگوں کو تیل کی ابلتی ہوئی کڑاہی میں پھینکا گیا، 90 فیصد عوام کے لیڈر عمران خان پر 300 سے زائد جھوٹے مقدمات درج کر کے تین سال سے بیگناہ قید اور گیارہ ماہ سے بدترین قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، ان کی اہلیہ پچھلے اڑھائی سال سے بغیر کسی جرم کے جیل میں بیگناہ قید ہے، عمران خان کی تینوں بہنیں جیل میں ہیں، بھانجہ بیرسٹر حسان خان نیازی تین سال سے بیگناہ جیل میں قید ہے، کزن قاسم زمان خان جیل میں قید ہے، ان چار سالوں میں کوئی ظلم و جبر ایسا نہیں رہ گیا کہ جو فوج نےاپنی ہی عوام پر نہ کیا ہو۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ عمران خان رہا ہوگا تو بیرسٹر گوہر چئیرمین نہیں ہوگا ، سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل نہیں ہوگا اور ستر فیصد کور کمیٹی تحریک انصاف میں نہیں ہوگی۔
اور یہ چیز انہیں معلوم بھی ہے۔