A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
ڈی چوک میں قتل عام ہوا اس کیس میں بیرسٹر گوہر کا بطور گواہ نام ڈالا گیا تھا لیکن وہ گواہی دینے گئے ہی نہیں، اس سے بڑی سہولت کاری اور کیا ہو گی، عمران ریاض خان
@ImranRiazKhan
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
پہلے بیرسٹر گوہر کمپنی اور آج سہیل آفریدی کی طرف سے احتجاج شروع کرنے کے اعلانات علیمہ خان کے اچانک متحرک ہونے سے پیدا ہونے والا ردھم توڑنے کیلئے ہیں
ان تلوں میں تیل تھا ' نہ ہے ' نہ ہو گا
مریم نواز بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ جاہل بھی ہے
اس ویڈیو میں آپ دیکھیں کے ایک طرف مریم نواز اعلان کررہی ہے کہ " طلباء کو 1 لاکھ Free الیکٹرک بائیکس " دی جائیں گی
یہ جملہ بول کر پورے حال سے تالیاں بٹور کر اگلے ہی لمحے بتا دیا کہ " Free کا مطلب 15000 ڈاؤن پیمنٹ کے ساتھ ماہانہ قسط ہوگی " 😂
آپ ایک بات نوٹ کریں سہیل افریدی بہت تیزی سے ترقیاتی کاموں کے افتتاح کر رہا ہے بہت تیزی سے پروجیکٹ شروع کیے جا رہے ہیں ہر وقت بس افتتاح پہ افتتاح ہو رہا ہے اور اس کے برعکس بے ضابطگیوں کے حوالے سے کوئی شکایت اتی ہے ان پہ کوئی عمل نہیں کیا جاتا بلکہ ایماندار افسران کو ہٹایا جا رہا ہے
اتنی تیزی سے افتتاح کرنا اور اتنی تیزی سے ایماندار افسران کو ہٹانا اس کا مقصد یہی ہے کہ جلد از جلد پیسہ بنایا جائے کیونکہ جس دن خان صاحب ا جائیں گے یا حکومت چلی جائے گی تو ان کی دکانیں بند ہو جانی ہیں باقی اپ سمجھدار ہیں کہ افتتاحوں کی رفتار بڑھانے سے پیسوں کا اضافہ ہوتا ہے۔۔۔۔
سہیل آفریدی کو مروت ، گنڈاپور سے زیادہ ٹائم ملا۔ سہیل آفریدی پر بوجھ بھی گنڈاپور اور مروت وغیرہ سے زیادہ آئے گا اور انجام بھی زیادہ بھیانک۔ جس ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ سہیل آفریدی اور اسکے گینگ نے کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ تنقید ہوئی تو کنٹینر کا پھیرا لگا آیا۔ بجٹ سرپلس دینے کا موقع آیا تو اڈیالہ جانا شروع کردیا۔ بجٹ پاس ہوگیا تو اڈیالہ جانا بند کردیا۔ جلسے جلوسوں میں بڑھکیں شروع کردیں۔ لوگ زیادہ نکلنا شروع ہوگئے تو ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر احتجاج ہوا تو پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری اختیار کرلی۔
جب آپ کی جماعت پر سخت ترین وقت آئے اور آپ خاموشی اختیار کر لیں تو جان لیجیے ایسے شخص کو نواز شریف کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ نے ہر سیاست دان کو نواز شریف بنانے کی کوشش کی ہے اور اس مرتبہ موجودہ حالات میں اس نے "جناب سہیل آفریدی" کو نواز شریف بنا دیا ہے
ایک دن مولانا کو حکم ملا بینظیر کو گندا کرنا ہے ممبر پر چڑھا اور کہنے لگا عورت کی حکمرانی حرام ہے پھر حکم ملا مریم کی حکمرانی حلال کرو پھر کنٹینر پر چڑھا کندھے سے کندھا ملایا اور عورت کی حکمرانی حلال ہوگئی
اطہر من اللہ نے عمران خان سے نواز شریف کی زندگی کی ضمانت مانگی۔۔۔
اطہر من اللہ نے آدھی رات کو 12 بجے عمران خان کے خلاف عدالت کھولی
اطہر من اللہ نے عمران خان کی دو دونوں اسمبلیاں توڑنے پر 90 روز میں الیکشن کرانے میں رکاوٹ پیدا کی
اطہر من اللہ نے نواز شریف کی سزا معطل کی
اور آج ان کا ضمیر جاگ گیا ہے کہ جی وکلا تحریک چلے