Social media activist | PCT fan | Cricket is my passion | Talk on cricket and Sometimes on politics as well | Tweets are personal & Re-tweets are not |
I am telling you that no one can ever come closer to Pakistan in making MEMES and no one will ever come..
😅🤣😅😅
Meanwhile Saifi bhai is laughing behind..
#ShoaibMalik#SanaJaved#SarfarazAhmed#BabarAzam𓃵
Alhamdulillah, CHAMPIONS 🏆
So proud of my team, we stood together through everything. Hard work never goes unnoticed.
I was once a ball picker, standing on the sidelines, dreaming of moments like this. Now I wish, If even one ball picker today picks up a bat tomorrow believing they can become a cricketer, then THIS VICTORY MEANS EVERYTHING TO ME.
Grateful to my family, Zalmi management, and my friends for always being in my corner, no matter what 💛
عامر یا فہیم پتا نہیں غلطی کس کی تھی لیکن عامر کی اسپورٹسمین اسپرٹ صرف کوہلی کو ہی دیکھ کر جاگتی تھی،اپنے تو نئے پلیئرز کو بھی آئوٹ کر کے وہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے بریڈمین کی وکٹ لی ہو،خیر آج دونوں کو اچھے رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا
US president Donald Trump: "I want to thank the country of Pakistan and its great Prime minister and its great, great field marshal. He's a great field marshal, two fantastic people for helping. They really are terrific people."
رب سوہنڑا شالا پاکستان کی عزتاں قائم رکھے۔۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر لگتا ہے قسمت کے دھنی ہیں۔ پچھلے سال مئی کے بعد ان کی قسمت کا ستارہ اونچا جار رہا ہے ( ویسے وہ Gemini ہیں اور صدر ٹرمپ کا بھی یہی اسٹار ہے)۔
جنرل عاصم ایران میں ہیں جب یہ سب خبریں بریک ہورہی ہیں جس سے دنیا سکھ کا سانس لے سکے گی۔
خبریں آرہی ہیں کہ ایران امریکہ معاہدہ تقریبا طے پا گیا ہے اور کہا جارہا ہے اتوار کو اسلام آباد میں شاید سائن ہو جائے گا جس کے لیے صدر ٹرمپ کی آمد متوقع ہے۔اگر ٹرمپ آئے تو پھر ایرانی صدر مسعود صاحب بھی اسلام آباد آئیں گے۔
ایران کے وزیرخارجہ نے ٹوئٹ کیا ہے کہ فوری طور پر آبنائے ہرموز کو کھول دیا گیا ہے جب تک لبنان اسرائیل سیز فائر چلے گی۔
ٹرمپ نے فوری طور پر ہرموز کھولنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے بلکہ شاید سکون کا بہت بڑا سانس بھی لیا ہوگا۔
اب ایک اور خبر بھی آرہی ہے کہ امریکہ ایران کو پیشکش کررہا ہے کہ بیس ارب ڈالرز کے بدلے بچا کچھا ایٹمی مواد ہمیں دے دیں۔
یہ ویک اینڈ بہت بڑی عالمی خبروں کا ہے اور اس میں اگر کسی نے عزت کمائی ہے تو وہ پاکستان نے کمائی ہے ۔ 1947 کے بعد دو ایسے مواقع آئے ہیں جب ہمارے ملک اور ہماری عزت عالمی سطح پر بنی ہے۔
1998 میں جب نیوکلیر دھماکے کیے جس پر عالمی ورلڈ نے عزت کی نگاہوں سے دیکھا اور اب اتنی خوفناک جنگ نہ صرف ختم کرائی بلکہ جیسے چین اور امریکہ کے درمیان 1971 میں ہنری کسنجر کی خفیہ چین وزٹ میں رول ادا کیا تھا وہی اب ایران اور امریکہ کے درمیان کیا ہے۔ جو کام پوری دینا 1979 سے مل کر نہ کر سکی وہ اب پاکستان نے کر دکھایا ہے۔ یہ معمولی کام نہیں۔ اس پر اس ملک کی سیاسی اور فوجی اور سفارتی لیڈرشپ کو مبارکباد اور شاباش بنتی ہے۔
ساری عمر پاکستان کو عالمی سطح پر کٹہرے میں ہی کھڑا پایا، انکوائری بھگتیں، سنگین الزمات، کہیں پٹاخہ بجا تو بھی ہم ملزم ٹھہرے۔ دنیا بھر کا میڈیا ہمیں برا بھلا کہتا رہا اور جو ہم نے طالبان کے برسوں لشکر بنوا کر بدنامی کمائی اس کا ازالہ اب ہورہا ہے۔
میرا ایک دوست جب بھی ملے گا ایک بڑی خوبصورت دعا دیتا ہے کہ رب شالا عزتاں قائم رکھے۔ آپ بھی سب دعا کریں سوہنڑا رب پاکستان اور پاکستانیوں کی یہ عزتیں قائم رکھے، انشاء اللہ۔
تحریر/رئوف کلاسرا
آج سے 31 سال پہلے، پاکستان میں لاہور کے قریب ایک گاؤں میں، ایک 12 سالہ لڑکا اپنے کزنوں کے ساتھ سائیکل چلاتے ہوئے گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا تھا۔
اس کا نام اقبال مسیح تھا۔
جب وہ صرف چار سال کا تھا، تو اس کے خاندان نے 600 روپے (جو کہ 12 ڈالر سے بھی کم بنتے ہیں) کا قرض اتارنے کے لیے اسے قالین بنانےوالی ایک فیکٹری کے مالک کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔ اگلے چھ سالوں تک اسے کھڈی سے زنجیروں کے ذریعے باندھ کر رکھا گیا۔ وہ ہفتے کے ساتوں دن، روزانہ 12 گھنٹے کام کرتا اور اسے صرف چند پیسے ملتے تھے۔ جب اس کے کام کی رفتار سست ہوتی، تو اسے قالین بننے والے کانٹے (فورک) سے مارا جاتا۔ فیکٹری مالکان بچوں کو جان بوجھ کر کم کھانا دیتے تھے تاکہ ان کی انگلیاں چھوٹی رہیں اور وہ قالین سازی کا باریک کام کر سکیں۔
دس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کا قد صرف چار فٹ تھا، جو اس کی عمر کے اوسط لڑکے سے 12 انچ کم تھا۔
ایک صبح وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ وہ ایک ٹریکٹر کے پیچھے سوار ہو گیا جو جبری مشقت (بونڈڈ لیبر) کے خلاف ایک میٹنگ میں جا رہا تھا۔ وہاں اس نے ایک شخص کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ فیکٹری مالکان جو کچھ کر رہے ہیں وہ پاکستانی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ جب اس شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی بات کرنا چاہتا ہے، تو اقبال مائیکروفون کی طرف بڑھا۔
اس کے بعد اس نے کبھی قدم پیچھے نہیں ہٹائے۔
اس نے پاکستان بھر کی قالین فیکٹریوں سے 3,000 سے زائد بچوں کو جبری مشقت سے آزاد کرانے میں مدد کی۔ اس نے پانچ سال کا اسکولی نصاب محض تین سال میں مکمل کیا۔ اس نے سویڈن اور امریکہ میں بین الاقوامی کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ بوسٹن میں بالغوں سے بھرے ایک کمرے میں اس نے کہا کہ وہ وکیل بننا چاہتا ہے تاکہ پاکستان میں غلامی کی زندگی گزارنے والے ہر بچے کو آزاد کرا سکے۔ اس وقت اس کی عمر 12 سال تھی۔ برانڈیز یونیورسٹی (Brandeis University) نے اسے مکمل اسکالرشپ کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ اس کا انتظار کریں گے۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی جان کو خطرہ ہونے کے باوجود پاکستان کیوں واپس جانا چاہتا ہے، تو اس نے کہا کہ اس کا مقصد اس کی زندگی سے زیادہ اہم ہے۔
1995 میں ایسٹر کے اتوار کے دن، جب وہ سائیکل پر گھر واپس جا رہا تھا، اسے پیچھے سے گولی مار دی گئی۔ اسے شاٹ گن کے 120 سے زائد چھرے لگے۔ اس کے کزنوں کو خراش تک نہ آئی؛ نشانہ صرف وہی تھا۔
اس کے جنازے میں 800 افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد کے دنوں میں، لاہور میں 3,000 لوگوں نے مارچ کیا، جن میں سے آدھے بچوں کی عمریں 12 سال سے کم تھیں۔
اس کی وفات کے بعد، میساچوسٹس (امریکہ) کے ایک اسکول کے ساتویں جماعت کے طلباء نے—جہاں کبھی اقبال نے خطاب کیا تھا—25,000 ڈالر جمع کیے اور پاکستان میں اس کے نام پر ایک اسکول تعمیر کیا۔ اب 16 اپریل کو "بچوں کی غلامی کے خلاف عالمی دن" کے طور پر منایا جاتا ہے۔ امریکی کانگریس نے اس کے اعزاز میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے "اقبال مسیح ایوارڈ" جاری کیا، جو آج بھی ہرسال دیا جاتا ہے #LabourRights )Thank you @DoctorLemma
خدارا اس بے شرمی بے غیرتی کو روکیں👇۔ایسی آزادی اور ایسی انٹرٹینمنٹ معاشرہ کے لیے بہت بڑا فتنہ ہے۔ حکومت اس بے حیائی اور بے غیرتی کو فوری روکے اور ذمہ داروں کو گرفتار کرے۔
@TararAttaullah@CMShehbaz@reportpemra
Violations of ceasefire have been reported at few places across the conflict zone which undermine the spirit of peace process. I earnestly and sincerely urge all parties to exercise restraint and respect the ceasefire for two weeks, as agreed upon, so that diplomacy can take a lead role towards peaceful settlement of the conflict.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
I warmly welcome the sagacious gesture and extend deepest gratitude to the leadership of both the countries and invite their delegations to Islamabad on Friday, 10th April 2026, to further negotiate for a conclusive agreement to settle all disputes.
Both parties have displayed remarkable wisdom and understanding and have remained constructively engaged in furthering the cause of peace and stability. We earnestly hope, that the ‘Islamabad Talks’ succeed in achieving sustainable peace and wish to share more good news in coming days!
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
السلام علیکم ،
حالیہ بارشوں کے دوران مری میں کافی رہائشی گھروں کا نقصان ہوا ہے ان میں سے ایک یہ گھر والے بھی ہیں جن کا کافی نقصان ہوا ھے، مریم نواز سے اپیل ہے کے ان کے امداد کی جائے ان کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے ۔۔۔
@AzazSyed@Wabbasi007@CMShehbaz@DCMurree
السلام علیکم ،
حالیہ بارشوں کے دوران مری میں کافی رہائشی گھروں کا نقصان ہوا ہے ان میں سے ایک یہ گھر والے بھی ہیں جن کا کافی نقصان ہوا ھے، مریم نواز سے اپیل ہے کے ان کے امداد کی جائے ان کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے ۔۔۔
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK@AnsarAAbbasi